چار مطالبات پورے نہ ہوئے تو لانگ مارچ کریں گے: بلاول زرداری

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER
Image caption بلاول بھٹو زرداری کراچی میں ’سلام شہدا‘ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حکومت کے سامنے چار مطالبات رکھتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یہ مطالبات پورے نہ کیے گئے تو وہ لانگ مارچ کریں گے۔

بلاول بھٹو اتوار کو زرداری سنہ2007 میں کراچی میں کارساز کے مقام پر بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے 150 سے زائد افراد کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے منعقد کی گئی ’سلام شہدا‘ ریلی سے خطاب کر رہے تھے۔

پیپلز پارٹی کی جانب سے نکالی گئی یہ ریلی بلاول چورنگی سے شروع ہوئی جو کارساز چوک پر پہنچ کر ختم ہوئی۔

ریلی کے اختتام پر خطاب کرتے ہوئے بلاول نے حکومت سے چار مطالبات کیے اور کہا کہ مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ لانگ مارچ بھی کرسکتے ہیں۔

ان کے چار مطالبات یہ ہیں:

  1. سابق صدر آصف زرداری کے دور میں اقتصادی راہداری پر ہونے والی اے پی سی کی قرار دادوں پر عمل ہونا چاہیے۔
  2. پاناما لیکس پر پیپلزپارٹی کے بل کو منظور کیا جائے۔
  3. فوری طور پر ملک میں مستقل وزیرخارجہ کو تعینات کیا جائے۔
  4. پارلیمنٹ کی نیشنل سکیورٹی کمیٹی کو ازسر نو تشکیل دیا جائے۔

انھوں نے کہا کہ اگر عوام ان کا ساتھ دیں تو وہ انھیں دہشت گردوں سے آزادی دلائیں گے۔

پیپلزپارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم پر الزامات کی بارش کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف نیشنل ایکشن پلان پرعمل درآمد کرانے میں ناکام ہوگئے ہیں، جس کی وجہ سے ملک کمزور ہورہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے سی پیک متنازع بنتا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption ریلی کے راستے میں موجود رہائشی اپنے گھروں سے بھی یہ مناظر دیکھے رہے تھے

ریلی سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان کے پارلیمان کو بے مقصد ادارہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چھوٹے صوبوں کو وفاق سے دور کیا جا رہا ہے۔

انھوں نے پاکستان کی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’سیاست دان آپس میں لڑ رہے ہیں اور مودی مسکرا رہا ہے۔‘

بلاول کا کہنا تھا کہ پاکستان کے منتخب وزیراعظم نواز شریف ’نااہل‘ ہیں۔ سنہ 2018 کے عام انتخابات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’2018 میں ہم سب کراچی میں بسنت منائیں گے، پورے کراچی میں تیر چلے گا۔‘

ایم کیو ایم کا نام لیے بغیر بلاول بھٹو نے کہا کہ جو لوگ سندھ کی تقسیم کی بات کرتے تھے آج وہ خود تقسیم ہو گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER
Image caption مزارِ قائد پر پی پی پی کی ریلی کا منظر

ان کا کہنا تھا کہ چند برس پہلے انھوں نے کہا تھا کہ ’فون سے اڑنے والی پتنگ کو کاٹ دیا جائے گا۔‘

بلاول بھٹو نے بتایا کہ وہ اپنی جماعت میں تبدیلی لا رہے ہیں اور اگر لوگوں نے ان کا ساتھ دیا تو وہ ملک میں بھی تبدیلی لائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ وہ خواتین اور اقلیتوں کے لیے پاکستان کو قائد کی سوچ کے مطابق بنائیں گے۔

بلاول بھٹو نے کہا جتنی بھی سازشیں ہوتی رہیں لیاری پی پی پی کا قلعہ ہی رہے گا۔

انھوں نے حکمراں جماعت مسلم لیگ ن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ لوگوں سے روزگار چھین لیتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ بچگانہ اپوزیشن کی وجہ سے نواز شریف اور مضبوط ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں