سامعہ قتل کیس: مقتولہ کی بہن اور والدہ اشتہاری قرار

سامعہ تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سامعہ کی قتل کے مقدمے میں ان کے والد محمد شاہد اور ان کا پہلا شوہر محمد شکیل زیرِ حراست ہیں

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع جہلم کی ایک مقامی عدالت نے پاکستانی نژاد برطانوی خاتون سامعہ شاہد کے قتل کے مقدمے میں مقتولہ کی والدہ اور اس کی بہن کو اشتہاری قرار دے دیا ہے۔

اس مقدمے کے تفتیشی افسر افضل مہدی نے بی بی سی کو بتایا کہ اُنھوں نے ملزمان کو اشتہاری قرار دلوانے سے متعلق تین روز قبل مقامی عدالت میں اس مقدمے کا چالان جمع کروادیا تھا جس میں متقولہ کی والدہ امتیاز بی بی اور اس کی بہن مدیحہ شاہد کو اشتہاری قرار دینے کے بارے میں لکھا گیا تھا۔

تفتیشی افسر کے مطابق عدالت نے اس چالان پر دونوں ملزمان کو اشتہاری قرار دے دیا ہے۔

٭ سامعہ شاہد قتل: مقدمے کو جہلم سے لاہور منتقل کرنے کی درخواست

٭ سامعہ کے پہلے شوہر کا اعترافِ جرم، پولیس کا دعویٰ

تفتیشی افسر سب انسپکٹر افضال مہدی کے مطابق عدالت کی طرف سے ان دونوں ملزمان کو اشتہاری قرار دینے کے بعد اُن کے اشتہار عدالت کے باہر اور پاکستان میں موجود عارضی پتے پر آویزاں کیے جائیں گے۔

واضح رہے کہ سامعہ شاہد قتل کے مقدمے میں پولیس نے مقتولہ کے دوسرے شوہر مختار کاظم کی درخواست پر امتیاز بی بی اور مدیحہ شاہد کو بھی سامعہ شاہد کے قتل کے مقدمے میں نامزد کیا تھا اور مقامی پولیس کے مطابق ان دونوں ملزمان کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 109 کے تحت رکھا گیا ہے جو اعانت مجرمانہ کے زمرے میں آتی ہے۔

دونوں ملزمان برطانوی شہری ہیں اور پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں ملزمان 18 جولائی کو برطانیہ چلی گئی تھیں جبکہ سامعہ کی موت 20 جولائی کو ہوئی تھی۔

اس مقدمے کی ابتدائی تفتیش میں متعلقہ پولیس کا کہنا تھا کہ ابھی تک ان دونوں ملزمان کا اس قتل میں بظاہر کوئی کردار نظر نہیں آتا۔

اس مقدمے کے مدعی مختار کاظم نے الزام عائد کیا تھا کہ ملزمہ مدیحہ شاہد نے اس کی بیوی سامعہ کو یہ کہہ کر دوبئی سے بلایا تھا کہ اس کے والد محمد شاہد کی طبعت ناساز ہے اس لیے وہ پاکستان آجائیں۔

اس مقدمے کے تفتیشی افسر کے مطابق اشتہاری قرار دیے جانے کے بعد ان ملزمان کے ریڈ وارنٹ جاری کروانے کے لیے انٹرپول سے رابطہ کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان مجرموں کے تبادلے کا کوئی معاہدہ موجود نہیں ہے۔ سامعہ کی قتل کے مقدمے میں ان کے والد محمد شاہد اور ان کا پہلا شوہر محمد شکیل گرفتار ہیں۔ ملزم محمد شاہد بھی پاکستانی نژاد برطانوی شہری ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں