کراچی کی امام بارگاہ پر کریکر حملے میں ایک ہلاک، 18 زخمی

Image caption زخمیوں کو فوری طور پر عباسی شہد ہسپتال منتقل کردیا گیا

پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں ایک امام بارگاہ پر کریکر سے کیے جانے والے حملے میں ایک بچہ ہلاک جبکہ 18 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

کراچی پولیس کے مطابق نامعلوم حملہ آوروں نے شریف آباد تھانے کی حدود میں واقع درِ عباس امام بارگاہ کو کریکر کے ذریعے نشانہ بنایا۔

٭ کوئٹہ میں بس پر فائرنگ سے چار شیعہ خواتین ہلاک

حملے کے نتیجے میں ایک 13 سالہ بچہ ہلاک جبکہ خواتین اور بچوں سمیت 18 افراد زخمی ہوئے جنھیں عباسی شہید ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق مرنے والے لڑکے کا نام فراز تھا۔ علاقے کے تھانیدار امیر منہاس نے بی بی سی کو بتایا کہ کریکر حملے کے وقت امام بارگاہ میں خواتین کی مجلس ہورہی تھی۔

انھوں نے مزید بتایا کہ مجلس کی انتظامیہ نے پولیس کو اس مجلس کے بارے میں کوئی پیشگی اطلاع نہیں دی تھی۔ انھوں نے مزید بتایا کہ عاشورہ محرم کے بعد امام بارگاہوں پر سیکیورٹی میں ویسے بھی کمی کی جاتی ہے۔

ایس ایچ او امیر منہاس نے مزید بتایا کہ یہ ایک گھریلو ساخت کا کریکر تھا جس وزن آدھے سے پونے کلوگرام کے درمیان ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

صوبہ سندھ کے آئی جی اے ڈی خواجہ نے اس واقعہ کو نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ ڈی آئی جو کو اس بارے میں فوری رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے پیشتر بھی محرم کے پہلے عشرے کے دوران گلستانِ جوہر اور گلشن اقبال میں دو مختلف واقعات میں فرقہ وارانہ بنیادوں پردو افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

رواں برس مسلمانوں کے مقدس مہینے محرم کے دوران عاشورہ کے موقعے پر ملک بھر میں سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے اور نویں اور دسویں محرم کو کوئی بڑے پیمانے کا ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا تاہم دو محرم کو کوئٹہ میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والی چار خواتین کو فائرنگ کر کے نامعلوم افراد نے ہلاک کر دیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں