’اصل تکہ تو پشاور کا ہے، اور اصل کا نقل سے کیا مقابلہ‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
پشاور کی نمک منڈی کے’چرسی‘ تکے

٭کھانوں کے بارے میں بی بی سی اردو کی سیریز کی پانچویں قسط صوبہ پشاور کے مشہور چرسی کے تکوں کے بارے میں ہے۔ اس سیریز سے متعلقہ تحریریں اور ویڈیوز ہر ہفتے بدھ کو ویب سائٹ پر شائع کی جائیں گی۔

نمک منڈی کا نام سنتے ہی ذہن میں ان سرخ انگاروں سے بھری انگیٹھیوں کا خیال آتا ہے جن پر پکتے تِکّوں کی اشتہا انگیز مہک مقامی افراد کے علاوہ ملک کے دیگر علاقوں سے بھی کھانے پینے کے شوقین افراد کو کھینچ کر پشاور کے اس علاقے میں لے آتی ہے۔

٭ چپلی کباب خیبر پختونخوا کی پہچان

٭ 'بریانی کے بغیر ہر تقریب ادھوری'

٭ سری پائے کھانے کے لیے نیند کی قربانی لازمی'

٭ گوجرانوالہ: آدھی آبادی کھانا بنانے، آدھی کھانے میں مصروف

یہاں مٹن تکہ جسے مقامی لوگ 'خشک تکہ' کہتے ہیں زیادہ پسند کیا جاتا ہے لیکن مینیو میں صرف دنبے یا مرغی کے گوشت کے نمکین تکے ہی نہیں بلکہ مٹن کڑاہی اور دم پخت بھی دستیاب ہے۔

نمک منڈی کے ان ہوٹلوں میں سے ایک ہوٹل جہاں اپنے ذائقے کی وجہ سے ملک بھر میں مشہور ہے وہیں اس کا نام بھی شہر کی دوسری پہچان بن گیا ہے۔

'چرسی' تکہ شاپ کے مالک نثار چرسی نے اس نام کی تاریخ بتاتے ہوئے کہا کہ 'آج سے کوئی پچاس سال پہلے میرے والد نے یہ کام شروع کیا تھا اور انھیں لوگ چرسی کہتے تھے۔'

Image caption تکوں کے مخصوص ذائقے کے لیے انگیٹھی میں انگاروں کی مناسب حرارت کا کردار بھی اہم ہے

نثار کا کہنا ہے کہ اسی وجہ سے یہ دکان چرسی کے تکوں کے نام سے مشہور ہوئی اور اب وہ بھی اسی نام پر کاروبار کر رہے ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کے تکوں کا صرف نام ہی 'چرسی کا تکہ' ہے اور اس میں نہ تو کوئی چرس ہوتی ہے اور نہ ہی وہ خود چرس استعمال کرتے ہیں۔

نثار نے بتایا کہ ان تکوں کے لیے دنبے کا ایسے گوشت کا انتخاب کیا جاتا ہے جس پر چربی بہت زیادہ نہ ہو اور وہ گوشت نرم بھی ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ مخصوص ذائقے کے لیے انگیٹھی میں انگاروں کی مناسب حرارت کا کردار بھی اہم ہے۔

نمک منڈی میں تکے کھانے کے شوقینوں پر نظر ڈالی تو ان میں مقامی افراد سے زیادہ دیگر شہروں سے آنے والے لوگ دکھائی دیے۔

صوبہ پنجاب سے آنے والے کچھ لوگوں سے جب پوچھا کہ یہاں کیسے آنا ہوا تو ان کا کہنا تھا کہ 'آئے تو اپنے کام سے تھے لیکن پشاور آئیں اور یہ تکے نہ کھائیں ایسا نہیں ہو سکتا۔'

ان کا کہنا تھا یہ یہاں کی روایتی ڈش ہے۔'دوسرے شہروں میں جو تکے بنتے ہیں وہ اسی کی نقل ہیں۔ اصل تو پشاور کا یہ تکہ ہے اور اصل کا نقل سے مقابلہ تو نہیں ہو سکتا۔'

Image caption مینیو میں صرف بکرے یا مرغی کے گوشت کے نمکین تکے ہی نہیں بلکہ مٹن کڑاہی اور دم پخت بھی دستیاب ہے

نثار چرسی کا کہنا ہے کہ ان کے ہاں آنے والے افراد عموماً فی کس ایک کلو گوشت کے تکے کھا جاتے ہیں جنھیں ہضم کرنے کے لیے پشاوری قہوہ کام آتا ہے۔

نمک منڈی میں تکوّں کے علاوہ صرف نمک اور کالی مرچ سے مٹن کڑاہی بھی بنائی جاتی ہے جس میں دنبے کی چربی استعمال ہوتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ مٹن کڑاہی ہو یا تکے نمک منڈی کے پکوانوں کا ذائقہ پاکستان میں اور کہیں کم ہی ملتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں