پاناما لیکس: نواز شریف کو نوٹس جاری، دھرنا روکنے کی درخواست مسترد

نواز شریف تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption وزیراعظم پاکستان پر اثاثے چھپانے اور غلط بیانی کرنے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے

پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ نے پاناما لیکس کے معاملے پر وزیر اعظم نواز شریف کی نااہلی سے متعلق درخواست پر وزیراعظم سمیت دیگر متعلقہ افراد کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں میں جواب طلب کر لیا ہے۔

عدالت نے تحریک انصاف کا دھرنا روکنے اور پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے کمیشن قائم کرنے کا اختیار پارلیمنٹ کو دینے سے متعلق درخواستیں بھی مسترد کر دی ہیں۔

٭ پاناما لیکس: وزیراعظم کا الیکشن کمیشن میں جواب دائر

٭ عمران خان کی دو نومبر کو اسلام آباد بند کرنے کی کال

ادھر سپریم کورٹ کی جانب سے پانامہ لیکس کے حوالے سے مقدمے میں نوٹس کے اجرا کے بعد وزیرِ اعظم پاکستان نواز شریف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ عدالتِ عظمیٰ میں اس معاملے پر کارروائی کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

جمعرات کو وزیرِ اعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں انھوں نے کہا ہے کہ پاناما پیپرز کا معاملہ اب الیکشن کمیشن، لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے سامنے لایا جا چکا ہے اور وہ آئین کی پاسداری، قانون کی حکمرانی اور مکمل شفافیت پر یقین رکھتے ہیں۔

نواز شریف نے کہا ہے کہ 'عوام کی عدالت تو پے در پے فیصلے صادر کر رہی ہے، بہتر ہوگا کہ عدالت کے فیصلے کا انتظار بھی کر لیا جائے۔'

بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے اس سلسلے میں تحقیقات کے لیے کمیشن کی تشکیل کا اعلان بھی اسی لیے کیا تھا کہ 'شفاف تحقیقات کے ذریعے اصل حقائق قوم کے سامنے آجائیں۔'

ان کا کہنا تھا کہ اس کمیشن کی تشکیل کے اعلان کے بعد ضوابطِ کار کا تنازع شروع کر دیا گیا اور پھر سپریم کورٹ کی طرف سے اٹھائے گئے نکات کی روشنی میں قائم کردہ پارلیمانی کمیٹی بھی کسی اتفاقِ رائے پر نہ پہنچ سکی۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ اس معاملے میں اب تک اپوزیشن کی جانب سے مسلسل منفی رویہ سامنے آ رہا ہے اور حکومت کی نیک نیتی پر مبنی تمام کوششوں کو سبوتاژ کرتے ہوئے شفاف اور بے لاگ تحقیقات کی راہ میں مسلسل رکاوٹیں ڈالی گئی ہیں۔

اس سے قبل سپریم کورٹ کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جمعرات کو اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف اور دیگر سیاسی جماعتوں کی طرف سے دائر کی گئی درخواستوں کی ابتدائی سماعت کی۔

پاکستان تحریک انصاف کے وکیل حامد خان نے ابتدائی دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اس سال اپریل میں وزیر اعظم کا نام پاناما لیکس میں آیا تھا جس کے بعد اُنھوں نے دو مرتبہ خود کو احتساب کے لیے پیش کرنے کا کہا لیکن اس پر عمل درآمد نہیں کیا۔

اُنھوں نے کہا کہ تمام اداروں سے مایوس ہوکر اُن کی جماعت انصاف کے لیے سپریم کورٹ میں آئی ہے۔

ان درخواستوں کی مختصر سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے پاناما لیکس میں جتنے بھی پاکستانیوں کے نام آئے ہیں اُن سے دو ہفتوں میں جواب طلب کر لیا ہے۔

جمعرات کو ہی سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کے معاملے کے لیے کمیشن بنانے کا اختیار پارلیمنٹ کو دینے سے متعلق جمہوری وطن پارٹی کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے اور عدالت کا کہنا تھا کہ عدالتی کمیشن بنانے کا اختیار سپریم کورٹ کے پاس ہے۔

عدالتِ عظمیٰ نے طارق اسد نامی ایک وکیل کی جانب سے دائر کردہ اس درخواست کو بھی مسترد کر دیا جس میں دو نومبر کو اسلام آباد میں پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے مجوزہ دھرنے کو رکوانے کی استدعا کی گئی تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عمران خان نے دو نومبر کو اسلام آباد بند کرنے کی کال دی ہے

عدالت کا کہنا تھا کہ عدالتیں سیاسی معاملات میں نہیں پڑتیں اور شہر میں امن وامان قائم رکھنا حکومت کا کام ہے تاہم اگر حکومت بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے میں ناکام رہی تو پھر سپریم کورٹ اس پر کارروائی کرنے کے بارے میں سوچ بچار کر سکتی ہے۔

خیال رہے کہ تحریکِ انصاف نے پاناما لیکس کے معاملے پر ہی دو نومبر کو اسلام آباد بند کرنے کا اعلان کیا ہوا ہے۔

پاناما لیکس کیس کی سماعت کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے علاوہ ان کی جماعت کے دیگر رہنما اور متعدد وفاقی وزرا بھی کمرۂ عدالت میں موجود تھے۔

سماعت ختم ہونے کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ کسی کو بھی تحریک انصاف کا احتجاج روکنے کا اختیار نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ عدالت کی جانب سے کیس کی سماعت احتساب کی جانب پہلا قدم ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ احتجاج اُن کا جمہوری حق ہے اور اگر حکومت نے تشدد کا راستہ اپنایا تو پھر پاکستان تحریک انصاف اپنا لائحہ عمل اختیار کرے گی۔

اسی موقع پر وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ وزیر اعظم ہر فورم پر احتساب کے لیے تیار ہیں جبکہ عمران خان شوکت خانم ہسپتال میں لوگوں کی طرف سے 70 لاکھ سے زائد کی رقم جو زکوۃ اور خیرات کی مد میں دی گئی تھی اس کو بیرون ملک سرمایہ کاری کے لیے حرچ کرنے سے متعلق جواب دینے کو تیار نہیں ہیں۔

جمعرات کو سپریم کورٹ میں پاناما لیکس کے معاملے پر وزیر اعظم کی نااہلی سے متعلق درخواستوں کی سماعت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں جسٹس اعجاز احسن اور جسٹس خلجی عارف حسین پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کی۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن میاں نواز شریف کی نااہلی کی درخواستوں کی سماعت اگلے ماہ کرے گا۔

اسی بارے میں