درہ آدم خیل میں پہلی فاٹا یونیورسٹی کا قیام

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
فاٹا کی پہلی یونیورسٹی کا قیام درہ آدم خیل میں عمل میں لایا گیا ہے

پاکستان میں وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے میں ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔

فاٹا یونیورسٹی کے نام سے منسوب اس تعلیمی ادارے کو نیم خود مختار قبائلی علاقے ایف آر کوہاٹ میں قائم کیا گیا ہے جہاں باقاعدہ کلاسز کا آغاز اگلے ہفتے سے شروع ہو رہا ہے۔

پشاور سے 35 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع فاٹا یونیورسٹی کو ابتدائی طور پر درہ آدم خیل ڈگری کالج میں عارضی طور پر قائم کیا گیا ہے۔

پشاور یونیورسٹی میں صحافیوں کی تربیت کے لیے جدید لیب

کالج کے مرکزی گیٹ سے متصل چند کمرے یونیورسٹی کے لیے مختص کیے گئے ہیں جہاں تزئین و آرائش کا کام جاری ہے۔

چند کمروں پر مشتمل اس یونیورسٹی میں ابتدائی طور پر چار شعبے قائم کیے گئے ہیں جن میں بی بی اے، سوشیالوجی، پولٹیکل سائنس اور ریاضی شامل ہیں۔ ان تمام شعبوں میں چار سالہ بی ایس پروگرام کا آغاز کیا گیا ہے۔

یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد طاہر شاہ نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے قبائلی علاقے قیام پاکستان سے لے کر اب تک انتہائی پسماندہ رہے ہیں اور یہاں تعلیم کی شرح بھی دیگر علاقوں کے مقابلے میں کم رہی ہے۔

Image caption چند کمروں پر مشتمل اس یونیورسٹی میں ابتدائی طور پر چار شعبہ جات قائم کیے گئے ہیں

انھوں نے کہا کہ فاٹا یونیورسٹی کا قیام قبائلی علاقے کی تاریخ میں ایک نئے تعلیمی انقلاب سے کم نہیں کیونکہ اس سے اعلی تعلیم کے حصول کےلیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

ڈاکٹر محمد طاہر شاہ نے کہا کہ اس یونیورسٹی کا اگلہ مرحلہ قبائلی ایجنسیوں میں سب کیمپپس کا قیام ہے جس کے لیے پہلے سے تین ایجنسیوں کا انتخاب کر لیا گیا ہے۔

وائس چانسلر کا کہنا تھا کہ فاٹا یونیورسٹی ایک عارضی عمارت میں قائم کی گئی ہے لیکن یونیورسٹی کی اپنی کیمپس کی تعمیر کے لیے کالج کی پشت پر 400 کنال سے زائد زمین حاصل کر لی گئی ہے جس پر جلد کام متوقع ہے۔ اس یونیورسٹی میں 50 فیصد نشستیں قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلبا کےلیے مختص کی گئی ہیں۔

گذشتہ روز جب ہم یونیورسٹی پہنچے تو وہاں درجنوں طالب علم داخلے کے لیے آئے ہوئے تھے تاہم حیران کن طور پر اس سال کسی خاتون نے داخلے کے لیے درخواست جمع نہیں کروائی جب کہ یونیورسٹی کے سٹاف ممبرز میں بھی کوئی خاتون شامل نہیں۔

Image caption 50 فیصد سے زیادہ نشستیں فاٹا کے طلبا کے لیے مختص کی گئی ہیں اور اتنی ہی دیگر علاقوں کے طلبا کےلیے رکھی گئی ہے تاکہ طلبا کو تعلیم کے ساتھ ساتھ ایک اچھا ماحول بھی فراہم کیا جائے: وائس چانسلر

اس ضمن میں وائس چانسلر نے کہا کہ چونکہ یونیورسٹی فاٹا میں قائم کی گئی ہے اور یہاں پہلے امن و امان کی صورت حال کچھ زیادہ بہتر نہیں رہی شاید اسی وجہ سے خواتین نے یہاں داخلے لینے کا ادارہ ظاہر نہیں کیا۔

ڈاکٹر محمد طاہر شاہ نے اس توقع کا اظہار کیا کہ وقت کے ساتھ ساتھ حالات بدلیں گے اور بہت جلد یہاں خواتین طلبا اور سٹاف کے ممبران موجود ہوں گے۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ 50 فیصد سے زیادہ نشستیں فاٹا کے طلبا کے لیے مختص کی گئی ہیں اور اتنی ہی دیگر علاقوں کے طلبا کےلیے رکھی گئی ہے تاکہ طلبا کو تعلیم کے ساتھ ساتھ ایک اچھا ماحول بھی فراہم کیا جائے۔

وائس چانسلر نے مزید کہا کہ یونیورسٹی کے لیے قابل اور تجربہ کار فیکلٹی کا انتخاب کیا گیا ہے جس میں پروفیسر اور پی ایچ ڈی اساتذہ شامل ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں