سوشلستان: 'ایک عورت ہو کر ایسے کرتی ہے؟'

سکیورٹی اہلکار تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption سکیورٹی اہلکار کی بدسلوکی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث ہے

سوشلستان میں چائے والا اور اس پر دل پھینکنے والے خواتین و حضرات جس نے چائے والے کی قسمت بدلی اور اس کے ساتھ اُن لوگوں کی بھی جنہیں ایک ایسا مرغا ملا ہے جو سونے کا انڈا دیتا ہے۔ مگر یہ ہمارا موضوع نہیں اس لیے نظر ڈالتے ہیں اس ہفتے کے موضوعات پر۔

صحافی غلط یا سکیورٹی والا؟

گذشتہ رات سے ایک خاتون صحافی کی ویڈیو انٹرنیٹ پر گردش کر رہی ہے جس میں ایف سی کا ایک اہلکار انہیں تھپڑ مارتا ہے۔

اس سے قبل ان خاتون کو پاکستانی میڈیا کے روایتی انداز میں ایف سی اہلکار کے ساتھ سوال جواب کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہےجس میں وہ واضح طور پر اس اہلکار پر چیخ رہی ہیں اور تھپڑ سے کچھ دیر قبل انہیں یونیفارم سے پکڑ کر کھینچ بھی رہی ہیں۔

سوشل میڈیا ان دونوں باتوں پر سیخ پا ہے جہاں لوگ اس اہلکار کی جانب سے ایک خاتون کو اس قسم کے سلوک کا نشانہ بنانے پر شدید لعن طعن کانشانہ بنا رہے ہیں وہیں اس خاتون اور پاکستان میں اس قسم کے ٹی وی شوز کے طرز عمل پر بھی بات کرنے اور تنقید کرنے والوں کی کمی نہیں۔

پنجابی گبھرو کی ٹویٹ کہ 'غلط حرکت کی ایف سی والے نے مگر یہ کونسی صحافت ہے جس میں خاتون مرد کو کھینچ کے کیمرے کے سامنے ذلیل کرے؟'

راشدہ عزیز نے لکھا کہ 'رپورٹرز کو رپورٹر کی طرح طرزِعمل رکھنا چاہیے نہ کہ تفتیشی افسر جیسا۔ ایک عورت ہونے کے ناطے میری بات شاید کڑوی لگے مگر ہر ایک کو اپنی حدود کا پتا ہونا چاہیے۔'

عینا سیدہ نے لکھا کہ 'دونوں نے اپنی حدود سے تجاوز کیا دونوں نے غیر پیشہ ورانہ طرزِعمل اختیار کیا۔'

اس پر تبصروں میں سب سے زیادہ زور دے کر یہ بات کی گئی کہ 'ایک عورت ہو کر ایسے کرتی ہے؟' یعنی کیا ایسا کرنے کا اختیار صرف مردوں کو ہے؟

جبکہ ویڈیو میں خاتون رپورٹر کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ’دیکھیں یہ میڈیا کے ساتھ ایسا سلوک کر رہے تو عام لوگوں کے ساتھ کیسا کرتے ہوں گے‘ یعنی میڈیا کے ساتھ کیوں استثنائی سلوک کیا جائے؟

سوشل میڈیا کی عینک

پاکستان میں لوگوں کی مختلف بنیادوں پر تقسیم نئی بات نہیں مگر سوشل میڈیا جسے ایک نیا اور بہتر پلیٹ فارم گردانا جاتا تھا اس پر اب ڈھنگ سے بات کرنے کی بھی جگہ سمٹ رہی ہے۔

ایسے لگتا ہے سوشل میڈیا کی زبان میں 'یوتھیا، پٹواری، لفافہ، جیالا یا پپلیا' جیسی کچھ عینکیں ہیں جن کی نظر سے ہر چیز کو دیکھا جاتا ہے۔

اگر آپ کسی سرکاری ادارے یا اہلکار کی بات کریں جس کا حکمراں جماعت سے یا کسی بھی جماعت سے تعلق نہ ہو تو فوراً آپ پر لیبل چسپاں کیا جاتا ہے۔

یعنی پاکستانی، کم از کم سوشل میڈیا پر پاکستانی نہیں بلکہ کسی نہ کسی سیاسی جماعت کے رکن کے طور پر دیکھے جاتے ہیں اور اسی وابستگی کی بنیاد پر آپ کے کردار، اخلاص، حُب الوطنی اور سچائی پر فیصلہ صادر کیا جائے گا۔

اور سوشل میڈیا پر یہ متفقہ رائے ہے کہ اس کو خطرناک حد تک بڑھاوا دینے میں ان سوشل میڈیا کے 'جہادیوں' کا بہت اہم کردار ہے جن کی زبان اور کلام کو وہ سیاسی جماعتیں روکنے یا بہتر کرنے میں تاحال بے بس نظر آتی ہیں جس سے وہ وابستہ ہیں۔

اس ہفتے کا تعارف

Image caption حاجی پبلک سکول ڈوڈہ

اس ہفتے ذکر کریں گے انڈیا کے زیرِانتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والی صبا حاجی کا ہے جو کشمیر کے پہاڑی علاقے ڈوڈہ میں ایک سکول چلاتی ہیں۔ یہ سکول بغیر منافع کے چلایا جاتا ہے جہاں مختلف رضاکار کم از کم تین مہینے کے لیے تدریس کی غرض سے جاتے ہیں۔ صبا زیادہ تر ٹوئٹر استعمال کرتی ہیں اور اس پر فلم، کتاب، سیاست اور کرکٹ سب موضوعات پر بات کرتی ہیں۔ اور کرکٹ میں شاہد آفریدی کا ذکر یہاں ضروری ہے۔

اس ہفتے کی تصاویر

تصویر کے کاپی رائٹ Adeel Raja
Image caption ایک ہسپتال کے باہر کی حالت عدیل راجہ نے ٹویٹ کی
تصویر کے کاپی رائٹ Govt of Punjab
Image caption خاتون اور بھکاری بچے جن کے چہرے پر زخمی ہونے کا میک اپ کیا گیا ہے۔
تصویر کے کاپی رائٹ Govt of Punjab
Image caption میک اپ کے بغیر بھکاری بچے