خاتون صحافی سے بدسلوکی کی ایف آئی آر درج

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption سکیورٹی اہلکار کی بدسلوکی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث ہے

کراچی پولیس نے گذشتہ روز لیاقت آباد میں واقعہ نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے دفتر کے باہر مقامی ٹی وی چینل کے۔ 21 کی خاتون صحافی کے ساتھ پیش آنے والے بدسلوکی کے واقعے کی دو مختلف ایف آئی آرز درج کر لی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ایک ایف آئی آر کے۔21 چینل کی میزبان اور دوسری نادرا حکام کی جانب سے درج کروائی گئی ہے۔

پولیس کے مطابق نادرا کراچی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر نیازحسین اعوان کی جانب سے الزام لگایا گیا ہے کہ کے۔21 کے پروگرام ’کراچی کی آواز‘ کی میزبان صائمہ کنول سمیت دیگر ٹیم نے زبردستی نادرا کے دفتر میں داخل ہونے کی کوشش کی اور کارِسرکار میں مداخلت کی مرتکب ہوئی۔

اس کے علاوہ انھوں نے سرکاری دفتر کی حدود میں شورشرابہ کیا، عملے کو ہراساں کیا اور وہاں موجود گارڈ سے بدتمیزی کی اور اس کی وردی کھینچی۔

دوسری جانب کے۔21 چینل کے پروگرام ’کراچی کی آواز‘ کی میزبان صائمہ کنول نے پولیس کو درخواست دی ہے کہ نادرا کے دفتر میں موجود فرنٹئیرکانسٹیبلری کے سپاہی نے ان سے اور ان کی ٹیم سے بدسلوکی کی، ان کا کیمرا چھیننے کی کوشش کی، انھیں صحافتی ذمہ داریوں کی ادائیگی سے روکنے کی کوشش کی اور ان پر تشدد کیا، تھپڑ مارا اور ان پر فائرنگ بھی کی۔

کراچی پولیس کے ایس ایس پی ضلع وسطی مقدس حیدر نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس نے دونوں درخواستوں پر ایف آئی آر درج کر کے ضابطے کی کارروائی شروع کر دی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ایف سی سے مذ کورہ اہلکار کو پولیس کے حوالے کرنے کی درخواست کی گئی ہے اور جیسے ہی یہ منظور ہو گی پولیس جا کر اس گارڈ کو گرفتار کر لے گی۔

اس ضمن میں نادرا کے ترجمان فائق علی چاچڑ نے بی بی سی کو بتایا کہ اس بارے میں نادرا فریق بنی ہے کیونکہ یہ سارا واقعہ نادرا کے دفتر کی حدود میں پیش آیا ہے تاہم وہ اس بارے میں حتمی رپورٹ وزارتِ داخلہ کو دیں گے اور پھر وزارتِ داخلہ ہی اس معاملے پر اپنا بیان پیش کرے گی۔

کراچی میں موجود ایف سی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ بہت افسوس ناک واقعہ ہے اور مذکورہ اہلکار لانس نائیک سید حسن کو معطل کر کے شامل تفتیش کر لیا گیا ہے اور اسے پولیس کے حوالے کیا جا رہا ہے۔

ایف سی کے مطابق وہ چاہتے ہیں کہ دونوں فریقوں سے ایک ہی سا سلوک کیا جائے اور کسی کی سماجی حیثیت کو مدِ نظر نہیں رکھا جائے۔

ایف سی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف سی کے سپاہی قبائلی علاقے سے تعلق رکھتے ہیں اور وہاں کے رواج میں کسی کو اس طرح ہاتھ لگانا بہت شدید بےعزتی سمجھا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مذکورہ اہلکار تو اردو بھی ٹھیک سے نہیں بول سکتا اور صحافیوں کو بھی سمجھنا چاہیے کہ یہ سپاہی اتنے تعلیم یافتہ نہیں ہوتے اور ان کا ایک پس منظر ہوتا ان سے الجھنے سے گریز کرنا چاہیے اور افسرانِ بالا سے کسی بھی معاملے پر رجوع کرنا چاہیے۔

ایف سی ذرائع کے مطابق صرف ایک ہفتہ پہلے ہی نادرا کی متعدد درخواستوں کے بعد کراچی کے نو نادرا سینٹرز پر دو دو ایف سی اہلکار تعینات کیے گئے تھے کیونکہ نادرا کے مطابق ان کے عملے کو کچھ سیاسی جماعتوں کے کارکنان سے مسائل کا سامنا تھا۔

ایف سی کے مطابق نادرا کو واضع تنبیہہ کی گئی تھی کی ان سپاہیوں کو عوامی رابطے رکھنے کے لیے نہیں کہا جائے گا۔

یاد رہے کہ صائمہ کنول ایک مقامی چینل کے۔21 کا ایک پروگرام ’کراچی کی آواز‘ کی میز بان ہیں۔ اس بابت صائمہ کنول نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا پروگرام عوام کے روزمرہ مسائل پر مبنی ہے اور انھیں کافی دنوں سے اس نادرا آفس کے اہلکاروں کے رویے سے متعلق شکایات موصول ہو رہی تھیں۔

انھوں نے بتایا کہ وہ جب وہاں پہنچی تو نادرا کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر نیاز حسین اعوان نے ان سے بات تک کرنے سے انکار کر دیا اور انتہائی بدتمیزی سے پیش آئے جس کے بعد انھوں نے وہاں قطار میں کھڑے افراد سے بات کرنے کی کوشش کی تو ان کے کیمرا مین سے کیمرا چھیننے کی کوشش کی گئی۔

اسی اثناء میں وہاں موجود ایف سی کے گارڈ سے انھوں نے بات کرنے کی کوشش کی جس نے کوئی جواب دیے بغیر انھیں تھپڑ مار دیا۔

صائمہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس کے باوجود اس پروگرام کی ریکارڈنگ مکمل کی۔

یاد رہے کہ یہ سارا معاملہ سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر بھی گذشتہ شب سے گردش کر رہا ہے جس میں دکھائی جانے والی فوٹیج کے مطابق خاتون میزبان کو ایف سی کا اہلکار تھپڑ مارتے ہوئے دکھائی دے رہا ہے۔

اسی بارے میں