نینوں کی زبان پہ بھروسہ نہیں آتا!

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جمعے کو سرینگر میں احتجاج کے دوران سکیورٹی فورسز کی جانب سے مظاہرین پر شینلگ کی گئی

روزمرہ زندگی میں بارہا ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جو کچھ پیش آرہا ہے وہ پہلے بھی ہو چکا ہے۔ اس کیفیت کو ' دے ژا وو' کہا جاتا ہے۔ اس کو مختلف مکتبۂ فکر کے لو گوں نے مختلف طرح بیان کیا ہے۔ کسی کے خیال میں یہ موروثی یادداشت کی وجہ سے ہوتا ہے کوئی کچھ کہتا ہے کوئی کچھ۔ لیکن بہر حال ہر وضاحت کے تانے بانے کسی نہ کسی طرح روحانیت اور نفسیات کے تاروں ہی سے بنے جاتے ہیں۔

ایک نظریہ' آواگون' کا ہے، جو کہتا ہے کہ انسان بار بار جنم لیتا ہے اور اس نظریے کو سامنے رکھتے ہوئے کئی فلمیں بنیں جن میں پچھلے جنم کے ادھورے کام اگلے جنم میں کئے جاتے ہیں۔

روح کا تصور اور یہ خیال کہ مرنے کے بعد بھی انسان کا تعلق دنیا سے رہتا ہے۔ بے چین روحوں کے بارے میں بے شمار کہا نیاں ہیں۔ بہت سے لوگ روحوں کے ساتھ مڈبھیڑوں کے ذاتی تجربات اور واقعات حلفاً بیان کرتے ہیں۔کئی گھروں کے بارے میں مشہور ہو تا ہے کہ وہاں غیر فطری موت مرنے والوں کی روحیں رہتی ہیں اور نئے آنے والوں کو عجیب وسوسوں اور اندیشوں میں مبتلا کرتی ہیں۔ قدرت اللہ شہاب نے ایسی ہی ایک روح کا بڑی تفصیل سے ذکر کیا جو بڑے فلمی انداز میں ان کو خود پہ ہونے والے ظلم اور اپنے کریا کرم کی حسرت سے آگاہ کرتی رہی۔

میرے خیال میں بہت سے بھوت اور روحیں انسان کے اپنے تخیل کی پیداوار ہوتی ہیں۔ شاید یہ اپنا ہی احساسِ جرم ہوتا ہے جو کسی مرنے والے کو دوبارہ کسی شکل میں دیکھتا ہے۔ شیکسپئیر کے 'میکبتھ' میں جو بھوت نظر آتے ہیں وہ بھی اصل میں ' لیڈی میکبتھ' کے تخیل کی پیداوار اور اس کے احساسِ جرم کی مادی شکل تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ fitin.pk
Image caption ایک خاتون فوٹوگرافر جیا علی کی جانب سے 18 سالہ ارشد کی تصویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی گئی تھی

معاشرے میں بھی انفرادی کے ساتھ، اجتماعی نفسیاتی رویے پائے جاتے ہیں۔ بہت سے لوگوں کو اچانک کسی رنگ یا کسی چلن کو پسند کرنا دراصل اجتماعی شعور اور لاشعور کی کارستانی ہوتا ہے۔

ابلاغیات کی ترقی کے ساتھ انسانی رویوں کو جانچنا نسبتاً آسان ہو گیا ہے۔ آج کل ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی تصویر، یا ویڈیو آتی ہے اور بے وجہ ہی وائرل ہو جاتی ہے۔ اس کی مقبولیت کی وجہ کیا ہوتی ہے، یہ سوچ سوچ کر عقل والے حیران ہوتے رہتے ہیں۔

آج کل ایک نیلی آنکھوں والے لڑکے کی تصویر نے قیامت بپا کر رکھی ہے۔ بلا شبہ وہ ایک خوبصورت لڑکا ہے، لیکن ایسے، نیلی آنکھوں والے لڑکے تو پاکستان اور افغانستان سے لے کر، شام، فلسطین، ترکی ہر جگہ پھیلے ہوئے ہیں۔ اس لڑکے میں کیا خاص بات تھی؟

میں نے تو جب بھی اس کی تصویر کو دیکھا مجھے لگا، یہ ارشد نہیں، برہان ہے۔ اب آپ اسے میری ذہنی کجی کہہ لیجیے۔ ارشد اور برہان میں کئی باتیں مشترک ہیں۔ دونوں ہی کی وجۂ شہرت ایک ہے،دونوں خوش شکل تھے۔ورنہ نہ تو ارشد ماڈل ہے اور نہ ہی برہان کمانڈر تھا۔ نہ ارشد نے اداکاری کے میدان میں کوئی جوہر دکھائے اور نہ ہی برہان نے کسی قسم کی فوجی کارروائی کی تھی۔ نہ برہان کے ہاتھ میں بندوق ہونی چاہیے تھی اور نہ ہی ارشد کے ہاتھ میں کیتلی۔

8 جولائی سے شروع ہونے والی احتجاجی لہر میں اوڑی کے واقعے کے بعد پاکستان کو ملوث کرنے سے چائے کی پیالی میں جو طوفان اٹھایا گیا وہ آخر، نیلی آنکھوں والے ارشد کی بنائی چائے کی پیالی میں دم توڑ گیا۔

ایک بھارتی لڑکی نے کہا، کہ پاکستان میں اتنے پیارے چائے والے رہتے ہیں وہاں بم نہ برسائیے۔ دونوں طرف ارشد کی باتیںہو رہی ہیں اور کوئی یہ نہیں سوچ رہا کہ جن سینکڑوں نوجوانوں کی بینائی چھین لی گئی، ان کی آنکھیں بھی تو ڈل کے پانیوں سے زیادہ نیلی تھیں۔

Image caption انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں ہلاک ہونے والے برہان وانی

مجھے تو یہ لگتا ہے کہ یہ ہمارا اجتما عی لاشعور ہے۔ وادی کے سینکڑوں نو جوان آج اپنی آنکھیں کھو چکے ہیں ان سب کی آنکھوں کا سوال، ارشد کی آنکھوں میں مجسم ہو گیا۔ اصل میں یہ ارشد نہیں ہماری اجتماعی بے حسی کا بھوت ہے۔ کچھ روز ارشد کے پیچھے دوڑنے کے بعد ہم اسی طرح کسی اور کے پیچھے دوڑیں گے، پھر کسی اور کے اور پھر کسی اور کے۔ دائرے میں دوڑتے نیم دیوانے جن گزیدہ انسانوں کی طرح۔

جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہو گا، یہاں کچھ بھی معمول کے مطابق نہیں ہو گا، نا انصافی کا بھوت یوں ہی شکلیں بدل بدل کر آتا رہے گا، بار بار لگے گا کہ یہ سب تو پہلے بھی ہو چکا ہے، پچھلے جنم کے آشنا ملیں گے اور تین نسلوں پہ پھیلے سوالوں کے جواب مانگیں گے۔ ہر بات شروع چاہے کہیں سے ہو ختم یہیں پہ آکے ہو گی۔ یہ ایک اجتماعی آسیب ہے ،نہ جوتا سنگھانے سے اترے گا ،نہ مرچوں کی دھونی سے بھاگے گا۔ اس کی بات سنیں، کشمیر کا مسئلہ حل کریں !بھوتوں سے جان چھڑانے کا یہ ہی طریقہ ہوتا ہے۔

متعلقہ عنوانات