سندھ میں رقص کی تعلیم پر پابندی کے خلاف حکومتی ایکشن

تصویر کے کاپی رائٹ ASIF HASSAN/AFP/Getty Images
Image caption شیما کرمانی کا کہنا تھا کہ سندھ کی دھرتی پر صوفیوں نے محبت، امن اور برداشت کا سبق رقص و موسیقی ہی کے ذریعے سکھایا

سندھ کے وزیرِ اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے سندھ کے تعلیمی اداروں میں رقص و موسیقی کی تعلیم پر پابندی کی خبروں کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پابندی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔

وزیرِ اعلیٰ سندھ نے کہا ہے کہ چند انتہا پسند عناصر کے ہاتھوں وہ اپنے آزاد اور ترقی پسند منشور کو کسی قیمت پر یرغمال نہیں بننےدیں گے۔

وزیرِ اعلٰی نے کہا کہ ’موسیقی اور رقص کسی بھی آزاد معاشرے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے‘ اور وہ ایسی سرگرمیوں کی حمایت جاری رکھیں گے۔

وزیرِ اعلیٰ سندھ کی جانب سے وضاحتی بیان کو سماجی کارکن اور کلاسیکی رقاص شیما کرمانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اسے خوش آئند قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ بہت حوصہ افزا بات ہے کہ وزیرِاعلیٰ نے اس معاملے کی جانب توجہ دی اور اس ضمن میں پھیلنے والی غلط فہمیوں کا دور کیا۔‘

واضح رہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے رکنِ صوبائی اسمبلی خرم شیر زمان نے کچھ عرصہ قبل ایک خط لکھا تھا جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ چند نجی تعلیمی اداروں میں رقص کی تعلیم دی جاتی ہے جو ان کے خیال میں مذہبِ اسلام کی تعلیمات کے منافی ہے اس لیے اسے روکا جائے۔

اس معاملے پر جب شہر کے کئی حلقوں کی جانب سے نکتہ چینی کی گئی تو تحریکِ انصاف نے بحیثیتِ سیاسی جماعت خود کو اس معاملے سے یہ کہہ کر علیحدہ کرلیا کہ یہ عمل خرم شیر زمان نے اپنی ذاتی حیثیت میں اٹھایا ہے اور یہ تحریکِ انصاف کی پالیسی نہیں ہے۔

دوسری جانب تحریکِ انصاف کے رکنِ سندھ اسمبلی خرم شیر زمان نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں اس عمل سے اس لیے مایوسی ہوئی ہے کہ یہ سارا معاملہ پہلے ہی بہت پیچیدہ بنا دیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ ASIF HASSAN
Image caption وزیرِ اعی سندھ نے کا کہنا ہے تھا کہ اسکولوں میں رقص پرپابندی سے متعلق جاری ہونے والے اعلامیے کے خلاف ایکشن لیا جارہا ہے

انہوں نے کہا کہ ’میرے پاس بہت سے بچوں کے والدین شکایت لے کر آئے تھے اور میں نے ان کی شکایات وزیرِ تعلیم کو بھجوا دی تھیں۔‘

انہوں نے واضع کیا کہ اس کام کے لیے انہوں نے اپنا ’ذاتی لیٹر ہیڈ استعمال کیا تھا نہ کہ تحریکِ انصاف کا‘۔

رکنِ سندھ اسمبلی خرم شیر زمان نے وضاحت کہ وہ اس ڈانس کے خلاف ہیں جو اسکولوں میں انڈین اور انگلش گانوں پر سکھایا جاتا ہے۔ ثقافتی رقص کے وہ خلاف نہیں ہیں اور ان کا مقصد ’صرف شیلا کی جوانی جیسے گانوں پر ہونے والے ڈانس کو روکنا تھا۔‘

وزیرِ اعی سندھ نے کا کہنا تھا کہ ’اسکولوں میں رقص پرپابندی سے متعلق جاری ہونے والے اعلامیے کے خلاف ایکشن لیا جارہا ہے اور ایسا کرنے والے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔‘

مراد علی شاہ نے کہا کہ وزیر تعلیم اسکولوں میں رقص کی تعلیم پرپابندی سے متعلق خود سے منسوب بیان کی تردید کی ہے۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے سندھ کے وزیرِ تعلیم جام مہتاب ڈہر سے منسوب ایک بیان مقامی میڈیا میں شائع ہوا تھا جس میں انہوں نے بعض نجی تعلیمی اداروں میں رقص و موسیقی کی تعلیم پر پابندی کی حمایت کی تھی۔

اس سے پیشتر نجی تعلیمی اداروں کے ڈائریکٹر جنرل منسوب حسین صدیقی نے جمعہ کو ایک سرکلر جاری کیا تھا جس میں تمام نجی تعلیمی اداروں سے کہا گیا تھا کہ کچھ اسکولوں نے رقص سکھانے کے نام پر استاد بھرتی کیے ہیں اور وہ بچوں کو ’فحش رقص‘ کی تعلیم دے رہے ہیں۔ اس اعلامیے میں ایسے تمام اسکولوں کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کی دھمکی بھی دی گئی تھی۔

اس ضمن میں معروف سماجی کارکن اور کلاسیکی رقاص شیما کرمانی سمیت سول سوسائٹی نے شدید احتجاج کیا۔

شیما کرمانی نے خرم شیر زمان کے خلاف ایک باقاعدہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے آئین میں رقص پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ شیما کرمانی نے مزید کہا کہ سندھ کی دھرتی پر صوفیوں نے محبت، امن اور برداشت کا سبق رقص و موسیقی ہی کے ذریعے سکھایا ہے۔