گوادر کے ان دیکھے رنگ

خدا بخش کا میڈ ان چائنا حلوہ

ایک دن اچانک دھم سے چائنا پاکستان اکنامک کاریڈور آ گیا۔گیم راتوں رات کوئٹہ کے سر پر سے گزرتی ہوئی گوادر سے اسلام آباد اور بیجنگ شفٹ ہوگئی۔ کیا کچھڑی پک رہی ہے چند لوگوں کے سوا کسی کے سامنے پوری تصویر نہیں۔

’ترقی کے سمندر میں ڈوبتے گوادر کے ماہی گیر‘

گوادر کی بندرگاہ سے جڑے ترقیاتی اور سرمایہ دارانہ نظام کے جال میں شہر کے وہ چھوٹے ماہی گیر بری طرح پھنستے دکھائی دے رہے ہیں جن کے اپنے جال خالی ہیں۔

بنیادی حقوق کی فراہمی میں عار کیا؟

بنیادی مسئلہ گوادر کے باسیوں کے ساتھ بیٹھ کر انھیں حقوق کے تحفظ کی ضمانت دینا ہے اور ایسا کرنے میں عار کیا ہے؟

گوادر کی تاریخ پر ایک نظر

گوادر کے ساحلی علاقے کی ایک بڑی بندرگاہ بننے کی قدرتی صلاحیت سنہ 1954 میں سامنے آئی جب امریکی ارضیاتی سروے نے گوادر کو ڈیپ سی پورٹ کے لیے بہترین مقام قرار دیا تھا۔

بوند بوند پانی کو ترستے گوادر کے شہری

گوادر کے حکام کے مطابق بلوچستان کا یہ ساحلی شہر سنہ 2012 کے بعد تیسری بار ایک بار پھر پانی کے شدید بحران سے دوچار ہے اور مفلسی اور دیگر معاشی مسائل کے باوجود عوام کو اپنے بنیادی حق یعنی پانی کی فکر کھائے جا رہی ہے

گوادر، چین اور بلوچ تحفظات

گوادر بلوچوں کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے اور اسلام آباد کی جانب سے کسی بھی یک طرفہ فیصلے کی بلوچ عوام اور سیاسی جماعتیں ہر سطح پر مزاحمت کریں گی۔

گوادر: زمین کی قیمت دوچند

گوادر میں حکام اور پراپرٹی ڈیلروں کا کہنا ہے کہ پاکستان-چین اقتصادی راہداری کے منصوبے پر کام شروع ہونے کے بعد وہاں پچھلے دس برسوں سے زمینوں کی گری ہوئی قیمتیں پھر سے چڑھنا ہونا شروع ہوگئی ہیں۔