دہشتگردی کی ’حقیقت سے فرار ‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

16 دسمبر سنہ 2014 کو پشاور سکول پر حملے سے تقریباً ایک ماہ پہلے وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی و خارجہ امور سرتاج عزیز نے کہا تھا کہ پاکستان ان شدت پسندوں کو کیوں نشانہ بنائے جو پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرہ نہیں ہیں؟

اس کے چند دن بعد چار دسمبر کو فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کراچی میں بیان دیا کہ غیر ریاستی عناصر کی وجہ سے ملک کی داخلی سکیورٹی متاثر ہو رہی ہے اور ان پر قابو نہ پایا گیا تو صورتحال گمبھیر ہو سکتی ہے۔

اور پھر پشاور میں سکول پر حملے کے چند دن بعد وزیراعظم نواز شریف نے بیان دیا کہ اگر حکومت نے سخت ترین اقدامات کر کے دہشت گردی کو اب نہ روکا تو شاید کل وہ اسے روکنے کے قابل نہ رہے۔

اس کے بعد ملک میں باچا خان یونیورسٹی، لاہور کے گلش اقبال پارک، کوئٹہ کے سول ہسپتال میں وکلا پر اور مردان کی کچہری میں حملہ ہوا اور ہر بار ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کا عزم دہرایا گیا۔

آخر کیا وجہ ہے کہ ملک میں کچھ عرصے کے وقفے کے بعد دہشت گردی کا ایک بڑا واقعہ رونما ہوتا ہے جس میں درجنوں انسانی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔

تجزیہ کار ڈاکٹر مہدی حسن کا خیال ہے کہ ملک میں جب تک کالعدم شدت پسند تنظیموں کے خلاف بلاامیاز کارروائیاں نہیں کی جاتی ہیں اس وقت تک اس قسم کے واقعات کو روکنا ممکن نہیں ہو۔

ڈاکٹر مہدی حسن کہتے ہیں کہ 'اس وقت ملک میں بہت ساری ایسی تنظیمیں ہیں جن پر بظاہر پابندی عائد کی جا چکی ہے لیکن وہ نام تبدیل کر کے کام کر رہی ہیں اور ان کے خلاف کوئی ٹھوس ایکشن نہیں ہوتا، مثال کے طور پر 1954 میں حکومت نے جب کیمونسٹ جماعت پر پابندی عائد کی تھی تو اس وقت اس کے تمام رہنما اور کارکن ایک مدت تک جیلوں میں قید رہے لیکن کالعدم قرار دی گئی جماعتوں کے ساتھ ایسا نہیں اور وہ اپنے کام اور کارروائیوں میں مصروف ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کچھ عرصہ پہلے کوئٹہ میں شدت پسندی کے واقعے میں وکلا کو ہدف بنایا گیا

گذشتہ کچھ عرصے سے خاص طور پر کوئٹہ کو شدت پسندی کا نشانہ بنانے پر تجزیہ کار ڈاکٹر حسن عسکری نے کہا ہے کہ قبائلی علاقوں میں فوج کی کارروائیوں کی وجہ سے پشاور اور خیبر پختونخوا کے دیگر شہروں میں شدت پسندی کے واقعات میں کمی آئی ہے لیکن بلوچستان اور کوئٹہ میں اگرچہ شدت پسندی کے واقعات میں کمی آئی ہے لیکن اب بھی وہاں دہشت گردی کرنے والی تنظیمیں، ان کے رابطے اور سہولت کار موجود ہیں۔ جب تک ان تنظیموں اور ان کے رابطوں کو ختم نہیں کیا جاتا اس طرح کے واقعات کو روکنا ممکن نہیں ہو گا۔

ان واقعات کے دوران سول و ملٹری قیادت کے بیانیے میں چین پاکستان اقتصادی راہداری کا اضافہ ہوا اور ہر واقعے کے بعد اس منصوبے کے خلاف سازش کا ذکر بھی شامل ہو گیا ہے۔

اس پر تجزیہ کار ڈاکٹر حسن عسکری نے کہا ہے کہ ان واقعات میں ایک پہلو سی پیک منصوبہ ہو سکتا ہے کیونکہ اس سے براہ راست فائدہ چین اور پاکستان کو پہنچتا ہے اور بہت کئی ممالک اس فائدے کے خلاف ہو سکتے ہیں، لیکن اس سارے معاملے کو صرف اور صرف سی پیک سے لنک نہیں کر سکتے کیونکہ اس منصوبے سے پہلے بھی صوبے میں دہشت گرد کے واقعات ہوتے رہے ہیں بلکہ اب ان میں کمی آئی ہے۔

اس پر ڈاکٹر مہدی حسن نے کہا ہے' اگر فرض کریں کہ اس میں انڈین خفیہ ایجنسی را ملوث ہے تو اس کو روکنا بھی حکومت کا کام ہے، کسی نے باہر سے آ کر تو نہیں روکنا، حکومت کی جانب سے انڈین مداخلت کے بیانات جیسی توجیح کو ابلاغیات کی زبان میں ’حقیقت سے فرار، کہا جاتا ہے۔‘ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کا دھیان دوسری جانب لگا دیا جائے۔

تجزیہ کار رستم شاہ مہمند نے ڈاکٹر مہدی حسن سے اتفاق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس میں افغان یا انڈین خفیہ ایجنسی کا ہاتھ ہو تو اس کے لیے ہمیں ٹھوس شواہد چاہیئں، اور اگر یہ ہو تو ہم ان کی بنیاد پر کسی کو روک سکتے ہیں۔ لیکن اب تک ایسا نہیں ہے اور کوئٹہ میں پولیس پر ہونے والا حملہ پلوں سے پانی بہہ جانے والا واقعہ ہے اور اب ہمیں چاہیے کہ ملک میں سرگرم ہر طرح کے شدت پسند گروہوں کے خلاف حقیقی عدم برداشت کی پالیسی اختیار کی جائے۔ جس میں انھیں یہاں لوگوں کو بھرتی کرنا، تربیت دینا اور کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنا شامل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مارچ میں لاہور کے گلشن اقبال پارک میں مسیحی برادری کو نشانہ بنایا گیا

'ایسی تنظیموں سے پاکستان کو فائدہ تو کوئی نہیں ہو رہا بلکہ نقصان زیادہ ہو رہا ہے کیونکہ ابھی تک ایسے کوئی شواہد نہیں ملے جس سے اندازہ ہو کہ افغانستان میں موجود افغان طالبان نے پاکستان میں کوئی کاررروائی کی ہو۔'

ملک میں کالعدم شدت پسندی گروہوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیوں پر سول و ملٹری قیادت کا ایک ہی صحفے پر ہونا اور اس کے بارے میں دونوں میں اختلافات کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈاکٹر حسن عسکری نے کہا ہے کہ موجودہ سول قیادت اس وقت شدت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتی۔

'اس وقت اگر حکمراں جماعت کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کا اعلان کرتی ہے تو فوج انھیں منع نہیں کر پائے گی۔ اس وقت جماعت الدعوۃ کا دفتر لاہور میں ہے لیکن حکمراں جماعت اس کے خلاف کارروائی نہیں کرے گی کیونکہ ووٹ کی بنیاد پر حمایت موجود ہے۔ اس وقت ملک میں صرف تین بڑی جماعتیں پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور اے این پی دہشت گردی کی کھلے عام مخالفت کرتی ہیں اور حکمراں جماعت مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف اس بارے میں اپنی پالیسی میں ابہام رکھتی ہیں کیونکہ انھیں حمایت دائیں بازو سے ملتی ہے اور ان حلقوں سے ان تنظیموں کے لیے حمایت موجود ہے جن کے خلاف کارروائی کے مطالبات کیے جاتے ہیں۔

اسی بارے میں