پشاور میں جلائی جانے والی خواتین کے قتل کا معمہ حل

ملزم
Image caption قتل کے مرکزی ملزمان افغانستان فرار ہو گئے ہیں، تاہم ان کے رشتے داروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے جو پولیس کے مطابق اس قتل میں براہ راست شامل تھے

پشاور میں نو دن قبل ماں اور بیٹیوں سمیت تین خواتین کو پراسرار طریقے سے قتل کرنے کے بعد ان کی لاشیں بری طرح جلائے جانے کے واقعے کا معمہ بالآخر حل ہو گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ایک افغان مہاجر نے افغانستان جانے سے انکار پر اپنی بیوی اور دو بیٹیوں کو قتل کرنے کے بعد ان کی لاشوں کو پیٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔ پولیس نے اس سلسلے میں دو افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

تہکال پولیس سٹیشن کے انچارج ارباب نعیم نے بی بی سی کو بتایا کہ افغانستان سے تعلق رکھنے والے ایک افغان مہاجر غلام محمد عرف ڈسکو اپنی بیوی اور دو بیٹیوں کو افغانستان لے جانا چاہتے تھے لیکن خواتین اس سے انکاری تھیں جس پر ہر وقت گھر میں میاں بیوی کے مابین لڑائی جھگڑے ہوتے رہتے تھے۔

انھوں نے کہا کہ مقتول خواتین منشیات کی سمگلنگ میں بھی ملوث رہی ہیں جس پر ان کے خاوند اور بھائی خوش نہیں تھے۔ ان کے مطابق مقتول خواتین ایک مرتبہ منشیات کے ایک سمگلنگ کیس میں گرفتار بھی ہوئی تھیں جس کی ایف آئی آر کوہاٹ کے ایک پولیس سٹشین میں درج ہے۔

پولیس افسر کے مطابق گرفتار ہونے والے ملزمان نے تفتیش کے دوران بتایا کہ خواتین کی طرف سے اپنے خاوند اور بھائی کی بات نہ ماننے پر ان کی قتل کا منصوبہ بنایا گیا۔

انھوں نے کہا کہ خواتین کا پہلے گلا دبا کر قتل کیا گیا جس کے بعد ان کی شناخت چھپانے کے لیے لاشوں پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگا دی گئی جس سے لاشیں بری طرح ہو مسخ گئیں۔

پولیس افسر نے مزید کہا کہ تہرے قتل کے اس کیس میں پانچ افراد ملوث ہیں جن میں دوافراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ قتل کے مرکزی ملزمان غلام محمد عرف ڈسکو اور ان کے بہنوئی افغانستان فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ گرفتار ہونے والے افراد مرکزی ملزم کے رشتہ دار بتائے جاتے ہیں جو پولیس کے مطابق اس قتل میں براہ راست شامل تھے۔

دونوں ملزمان کو منگل کو پولیس لائن پشاور میں ذرائع ابلاغ کے سامنے پیش کیا گیا۔

خیال رہے کہ گذشتہ پیر کو پشاور کے علاقے تہکال میں ایک نالے سے تین خواتین کی لاشیں ملی تھیں جن کی شناخت معمہ بنی ہوئی تھی۔ ابتدائی طورپر یہ کہا گیا تھا کہ شاید یہ غیرت کے نام پر قتل کا واقعہ ہے تاہم پولیس کی طرف سے مسلسل تفتیش کے بعد بالاآخر اس واقعے کا معمہ حل ہو گیا۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں کچھ عرصے سے خواتین کی لاشیں ملنے کے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ دو دن پہلے بنوں میں بھی دو نامعلوم خواتین کی لاشیں ملی تھیں جنھیں پہلے کلھاڑی سے وار کر کے مارا گیا اور بعد میں ان کو فائرنگ کر کے قتل کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق دونوں لاشوں کو لاوارث سمجھ کر بنوں کے سرکاری قبرستان میں سپردخاک کیا گیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں