محلوں کی سطح پر مقامی عمائدین کے تحت امن کمیٹیوں کو فعال بنایا جائے: مراسلہ

کوئٹہ تصویر کے کاپی رائٹ EPA

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں پولیس ٹریننگ کالج پر شدت پسندوں کے حملے میں درجنوں اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد بدھ کو شہر میں مکمل ہڑتال ہے اور تمام سرکاری عمارتوں پر پرچم سرنگوں ہے۔

دوسری جانب بلوچستان کے چیف سیکریٹری نے ایک مراسلے میں پولیس، انتظامیہ اور ایف سی سے کہا ہے کہ محلوں کی سطح پر مقامی عمائدین کے تحت امن کمیٹیوں کو فعال بنایا جائے۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق پیر اور منگل کی درمیانی شب ہونے والے اس حملے میں پولیس کے 60 اور ایک فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد چیف سیکریٹری کی جانب سے جاری کیے جانے والے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ صوبے میں سکیورٹی کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے۔

مراسلے میں کہا ہے کہ محلے کی سطح پر امن کمیٹیوں کو فعال بنانے کے ساتھ ساتھ ضلعی سطح پر انٹیلیجنس کے نیٹ ورک کو مربوط اور فعال بنایا جائے۔

مراسلے کے مطابق صوبے بھر میں حساس مقامات پر ریپڈ رسپانس فورس کے ساتھ ساتھ ایف سی بھی تعینات کی جائے۔

مراسلے میں کہا گیا ہے کہ صوبائی اسمبلی اور دیگر سرکاری عمارتوں پر سکیورٹی سخت کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

پیر اور منگل کی درمیانی شب ہونے والے اس حملے میں پولیس کے 60 اور ایک فوجی اہلکار ہلاک ہوا تھا۔

اس حملے کی ذمہ داری عالمی شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے قبول کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

منگل کو صوبائی حکومت نے اس واقعے پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا تھا جس کے بعد بدھ کو صوبے کی تمام سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں ہے۔

کوئٹہ کے تاجروں کی انجمن کی اپیل پر شہر بھر میں بدھ کو شٹر ڈاؤن ہڑتال بھی کی جا رہی ہے۔

ہڑتال کی حمایت تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے کی گئی ہے اور اس موقع پر شہر میں کاروبارِ زندگی معطل ہے۔

حملے میں ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی میتیں ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کر دی گئی ہیں جہاں ان کی تدفین کا سلسلہ جاری ہے۔

حملے میں ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی اجتماعی نماز جنازہ منگل کو کوئٹہ کینٹ میں واقع موسیٰ سٹیڈیم میں ادا کی گئی جس میں وزیراعظم اور آرمی چیف نے بھی شرکت کی۔

اس حملے میں زخمی ہونے والے سو سے زیادہ افراد کا علاج سول ہسپتال اور بولان میڈیکل کمپلیکس میں جاری ہے اور زخمیوں میں سے 20 کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

حکام نے دہشت گردی کے اس واقعے کی تحقیقات بھی شروع کر دی ہیں تاہم ان تحقیقات کے بارے میں تاحال کوئی چیز منظرِ عام پر نہیں لائی گئی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں