ورکنگ باؤنڈری پر فائرنگ سے تین پاکستانی شہری ہلاک

کشمیر تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گذشتہ تین مہینوں سے علاقے میں کشیدگی کی تازہ لہر جاری ہے

پاکستان اور انڈیا کے درمیان ورکنگ باؤنڈری پر فائرنگ کے تبادلے کا سلسلہ جاری ہے اور دونوں جانب سے بلااشتعال فائرنگ کے الزامات سامنے آئے ہیں۔

پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول پر انڈین فوج کی بلااشتعال فائرنگ سے بدھ کو مزید تین پاکستانی شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق چپرار سیکٹر میں کی جانے والی فائرنگ سے دو عام شہری ہلاک اور آٹھ زخمی ہوئے ہیں۔

بیان کے مطابق پاکستان رینجرز نے انڈین فائرنگ کا بھرپور جواب دیا۔

فوج کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والا تیسرا شہری لائن آف کنٹرول کی وادی سونا کا رہائشی سکندر تھا کو منگل کو انڈین فائرنگ سے زخمی ہوا تھا اور بدھ کو سی ایم ایچ کھاریاں میں انتقال کر گیا۔

آئی ایس پی آر نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب بھی انڈین فوج پر ہرپال اور چپرار سیکٹرز میں فائرنگ کے الزامات لگائے تھے اور کہا تھا اس سے پانچ شہری زخمی ہوئے ہیں۔

اس سے قبل 24 اکتوبر کو بھی پاکستانی حکام نے انڈین فائرنگ سے ایک بچی سمیت دو افراد کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا۔

آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ '21 اکتوبر سے اب تک بلااشتعال انڈین فائرنگ میں 21 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔'

دوسری جانب انڈیاکے نیم فوجی دستے بی ایس ایف کے ایک ترجمان نے بتایا کہ جموں میں ورکنگ باؤنڈری پر آر ایس پورہ سیکٹر میں پاکستان نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی جس میں بی ایس ایف کا ایک جوان زخمی ہو گيا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سرحد پار فائرنگ میں دس افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں بیشتر خواتین ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption دونوں ممالک کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ کے الزامات پہلے بھی عائد کیے جاتے رہے ہیں

انڈین خبررساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق ترجمان نے بتایا: 'بی ایس ایف کے نائب سب انسپیکٹر اے کے اپادھیاے آر ایس پورہ میں ایک شیل کے پھٹنے سے زخمی ہو گئے۔ ان کے ہاتھوں میں زخم آئے ہیں۔'

انھوں نے بتایا کہ 'ساڑھے گیارہ بجے رات تک زیادہ تر فائرنگ آر ایس پورہ میں ہوتی رہی جبکہ وقفے وقفے سے ارنیا میں بھی فائرنگ ہوئی۔'

جموں ڈویژن کے نائب کمشنر سمرندیپ سنگھ نے بتایا کہ پاکستانی چوکیوں سے سائے کلاں، برے جال، تریوا اور ارنیا سیکٹرز میں شہریوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

خیال رہے کہ انڈیا اور پاکستان دونوں ایک دوسرے پر لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر فائر بندی کی خلاف ورزی کرنے اور بلااشتعال فائرنگ کا الزام لگاتے رہتے ہیں۔

حالیہ چند مہینوں کے دوران وہاں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور انڈیا نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں سرجیکل سٹرائیکس کا دعویٰ کیا ہے جسے پاکستان نے مسترد کر دیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں