بلوچستان میں گریڈ 18 سے 21 کی 103 نشستوں میں سے 61 نشستیں خالی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان میں سب سے کم ترقی یافتہ صوبہ ہونے کی وجہ سے بلوچستان کو شکایت رہی ہے کہ اسے وفاق میں اپنے حصے کی بھی ملازمتیں نہیں ملتی ہیں

پاکستان کے ایوان بالا کی قائمہ کمیٹی برائے کیبنٹ سیکریٹیریٹ کو ایک اجلاس میں بتایا گیا کہ صوبہ بلوچستان میں گریڈ 18 سے 21 تک کی 103 نشستوں میں سے 61 خالی پڑی ہیں۔

پارلیمان ہاؤس میں بدھ کو ہونے والے اجلاس کی صدارت سینیٹر طلحہ محمود نے کی۔

سٹیبلشمنٹ ڈویژن کے سیکریٹری سینیٹر میر کبیر کی جانب سے ایوان کے اجلاس میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ اس کمی کی کئی وجوہات ہیں جو دیگر صوبوں میں بھی پائی جاتی ہے لیکن ان میں اس کی تعداد کم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مقابلے کے امتحان میں بلوچستان سے کم لوگوں کا کامیاب ہونا اور ان کی صوبے میں ملازمت کرنے میں عدم دلچسپی اس کی اہم وجوہات ہیں۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ تعیناتی میں روٹیشن میں باقاعدگی سے تبدیلیاں لائی جاتی ہیں اور موجودہ قوانین کے مطابق پی اے ایس اور پی ایس پی کے بلوچستان کے افسران کو گریڈ 20 میں ترقی کے لیے بلوچستان میں کم از کم سات سال گزرانے ضروری ہیں۔

سیکریٹری نے بتایا کہ بلوچستان میں تعینات افسران کو دیگر صوبوں کے مقابلہ میں زیادہ تنخواہ دی جاتی ہے۔

اجلاس میں سینیٹر ہدایت اللہ، سینیٹر نجمہ حمید، سینیٹر شاہی سید، سینیٹر یوسف بادینی، سینیٹر کلثوم پروین، سینیٹر سیف اللہ بنگش اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے اہلکاروں نے شرکت کی۔

پاکستان میں سب سے کم ترقی یافتہ صوبہ ہونے کی وجہ سے بلوچستان کو شکایت رہی ہے کہ اسے وفاق میں اپنے حصے کی بھی ملازمتیں نہیں ملتی ہیں۔

اس شکایت کو دور کرنے کے لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ حکام کو خصوصی اقدامات کرنے پڑیں گے۔