’مچھیروں کی مایوسی کی وجہ ان کی توقعات ہیں‘

دوستین جمالدینی
Image caption دوستین جمالدینی نے کہا کہ چھوٹے ماہی گیروں کے روزگار کو سب سے زیادہ نقصان غیر قانونی طور پر مچھلی کا شکار کرنے والے بڑے بحری جہازوں نے پہنچایا ہے

گوادر پورٹ اتھارٹی کے سربراہ دوستین جمالدینی کا کہنا ہے کہ گوادر کے ماہی گیروں کے روزگار سے متعلق مسائل حل کرنے کے لیے حکومت متعدد اقدامات کر رہی ہے جس میں ماہی گیروں کے لیے نئی گودی کی تعمیر اور گوادر کی بندرگاہ سے مچھلی کی برآمد شروع کرنا شامل ہیں۔

گوادر میں رہنے والے ماہی گیروں کو اپنے روزگار سے متعلق لاحق خدشات جب بی بی سی نے گوادر پورٹ اتھارٹی کے سربراہ کے سامنے رکھے تو ان کا کہنا تھا کہ گوادر کے ماہی گیروں کی ترقیاتی کاموں سے توقعات بہت زیادہ ہیں اسی لیے وہ مایوسی کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔

ماہی گیروں نے حالیہ ایک دورے میں بی بی سی کو بتایا کہ گوادر میں نئی بندرگاہ بننے سے نہ صرف ان کی صدیوں پرانی شکارگاہیں ختم ہو گئی ہیں بلکہ اب ان کی سمندر تک رسائی کو بھی محدود کیا جا رہا ہے۔

گوادر پورٹ اتھارٹی کے سربراہ نے تسلیم کیا کہ یہ دونوں شکایات درست ہیں لیکن حکومت ان کے بدلے ماہی گیروں کو متبادل بھی فراہم کر رہی ہے۔

’انھی ماہی گیروں کے لیے تین نئی گودیاں تعمیر کی جا رہی ہیں اس کے علاوہ گوادر سے مچھلی کی برآمد کی منصوبہ بندی بھی کی جا رہی ہے۔ یہ ایسے انقلابی اقدامات ہیں جن سے گوادر کے ماہی گیروں کی آمدن میں نمایاں اضافہ ہو گا۔‘

اس سوال پر کہ یہ تو مستقبل کے منصوبے ہیں جن میں کئی برس لگ سکتے ہیں اس دوران ماہی گیروں کی گزر بسر کا کیا بندوبست کیا گیا ہے، جمالدینی نے کہا کہ اس دوران چھوٹے ماہی گیروں کے لیے نئی کشتیوں کی تعداد بڑھائی جا رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ گوادر میں ہونے والی ترقی سے ماہی گیر براہ راست فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ماہی گیری سے ہٹ کر بہت سے دوسرے پیشے بھی اختیار کر رہے ہیں۔

’گوادر میں ترقیاتی کاموں سے جو زمین کے دام بڑھے تو اس سے ماہی گیروں کو بھی فائدہ ہوا۔ ان کے پاس سرمایہ آیا تو انھوں نے بہت سے دوسرے کام بھی شروع کر دیے ہیں۔ بہت سے ماہی گیر کراچی جا بسے ہیں جہاں وہ بہتر زندگی گزار رہے ہیں۔‘

دوستین جمالدینی نے کہا کہ چھوٹے ماہی گیروں کے روزگار کو سب سے زیادہ نقصان غیر قانونی طور پر مچھلی کا شکار کرنے والے بڑے بحری جہازوں نے پہنچایا ہے جس کی وجہ سے چھوٹے ماہی گیروں کے لیے شکار ختم ہوتا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں