آج حکومت سے ٹکر لینے کی ضرورت نہیں، دو تاریخ کو ہر صورت باہر نکلیں گے: عمران

راولپنڈی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption راولپنڈی میں پولیس نے مظاہرین کو منشتر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر راولپنڈی میں پولیس اور احتجاجی جلسے کے لیے جمع ہونے والے عوامی مسلم لیگ کے حامیوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں جبکہ عمران خان نے اپنے کارکنوں سے کہا ہے کہ آج حکومت سے ٹکر لینے کی ضرورت نہیں اور اب وہ دو تاریخ کو ہی ہر صورت نکلیں گے۔

عمران خان کے خطاب کے فوراً بعد تحریکِ انصاف کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں ۔اس دوران پولیس نے آنسو گیس پھینکی ہے اور کارکنوں نے جواب میں ان پر پتھراؤ کیا۔ رات کے وقت بنی گالہ میں پولیس اور تحریک انصاف کے کارکنوں کے درمیان دوبارہ جھڑپیں ہوئی ہیں۔

٭ احتجاج جمہوری حق ہے، جو مرضی ہو ہم نکلیں گے: عمران خان

٭ تحریکِ انصاف کا کارکنوں کی گرفتاری پر ملک گیر احتجاج کا اعلان

عمران خان نے راولپنڈی میں عوامی مسلم لیگ کے احتجاجی جلسے میں شرکت کرنا تھی لیکن جمعے کی شام بنی گالہ میں اپنی رہائش گاہ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ دو تاریخ کو اگر حکومت نے انھیں گھر میں نظربند بھی کر دیا اور 30 ہزار پولیس اہلکار بھی ان کے گھر کے باہر کھڑے کر دیے تو بھی انھیں باہر نکلنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

راولپنڈی میں جلسے میں شرکت کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ اس جلسے میں شرکت دو نومبر کی تیاری کے سلسلے میں کرنا تھی لیکن آج انھوں( حکومت) نے جس طرح راستوں کو بند کیا تو ہم نے سوچا کہ آج ٹکر لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے لیکن ’ہمیں دو تاریخ کو روک کر دکھا دیں۔‘

بنی گالہ میں اپنی رہائش گاہ میں حکومت کی جانب سے نظربند کرنے سے متعلق متعدد سوالات پر عمران خان نے کوئی واضح بیان نہیں دیا کہ آیا واقعی میں ایسا ہے کہ نہیں لیکن اشارہ کیا ہے کہ ان کی رہائش گاہ کے ارد گرد پولیس کھڑی کر دی گئی ہے اور عملاً انھیں گھر میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔

انھوں نے دو نومبر کو عدالت کی جانب سے اسلام آباد کو بند نہ کرنے کے حکم کے بارے میں کہا ہے کہ پہلے عدالت یہ بتائے کہ آج کس طرح حکومت نے عدالتی حکم کی دھجیاں اڑائی ہیں، آج ہم نے عدالت کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کی، آج کس نے کی، یہ وہ لوگ( موجودہ حکومت) جنھوں نے نہ کبھی کسی قانون کو سنا ہے اور نہ ہی اس پر چلے ہیں۔

انھوں نے ایک بار پھر کارکنوں سے کہا ہے کہ وہ گرفتاریوں سے بچے بغیر دو نومبر کو اسلام آباد میں احتجاج کے لیے تیاریاں کریں۔

ادھر راولپنڈی میں مری روڈ پر واقع کمیٹی چوک پر پولیس نے مظاہرین کو لال حویلی جانے سے روکنے کی کوشش کی جس کے بعد مظاہرین اور پنجاب پولیس کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption راولپنڈی میں مری روڈ پر واقع کمیٹی چوک پر پولیس نے مظاہرین کو لال حویلی جانے سے روکنے کی کوشش کی

پولیس نے مظاہرین کو گرفتار کرنا شروع کر دیا جبکہ وہ پولیس پر پتھراؤ کرتے رہے اور حکومت مخالف نعرے بازی بھی جاری رہی۔

علاقے میں موجود بی بی سی اردو کے راجہ وقاص علی کے مطابق پولیس کی جانب سے آنسو گیس بھی استعمال کی جا رہی ہے۔

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید ایک موٹر سائیکل پر بیٹھ کر کمیٹی چوک پہنچے اور وہاں پر میڈیا کی ایک ڈی ایس این جی گاڑی پر سوار ہو کر مختصر خطاب کرنے کے بعد دوبارہ وہاں سے نکل گئے۔

اپنے خطاب میں انھوں نے دعویٰ کیا کہ اب تک ان کی جماعت اور تحریک انصاف کے 450 کے قریب کارکنوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

انھوں نے وزیراعظم نواز شریف کو تنقید کا نشانہ بنایا اور گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم ملک میں جمہوریت اور احتساب چاہتے ہیں۔

پنجاب کے وزیرِ داخلہ رانا ثنا اللہ نے مقامی ٹی وی چینلز سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو بھی مزاحمت کرے گا اسے گرفتار کر لیا جائے گا۔

عمران کو اسلام آباد میں روکیں

ادھر سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ڈی سی او راولپنڈی نے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو ایک مراسلہ بھیجا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو شیخ رشید کی ریلی میں شرکت کرنے سے روکیں۔

مراسلے میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کے اس ریلی میں شرکت امن و امان میں خلل پیدا کرنے کا باعث ہو سکتی ہے۔

نمازِ جمعہ کے بعد لال حویلی سے شروع ہونے والے اس جلوس نے فیض آباد پر اختتام پذیر ہونا ہے اور اس ریلی کو دو نومبر کو تحریکِ انصاف کی جانب سے دارالحکومت اسلام آباد کو بند کرنے کی کال کی ریہرسل قرار دیا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption لال حویلی کے اردگرد کا علاقہ مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے

انتظامیہ نے جلوس اور امن و امان کے مدنظر راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان چلنے والی میٹرو بس کو بھی تاحکمِ ثانی بند کر دیا ہے۔

اسلام آباد اور راولپنڈی کی انتظامیہ نے پہلے ہی شہر میں دفعہ 144 نافذ کی ہوئی ہے جس کے تحت پانچ سے زیادہ افراد کے اجتماع کے علاوہ لاؤڈسپیکر کے استعمال پر پابندی عائد ہے۔

جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب ہی سے پولیس نے راولپنڈی میں واقع شیخ رشید کی رہائش گاہ لال حویلی کے اردگرد کا علاقہ کنٹینر لگا کر بند کرنا شروع کر دیا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ضلعی انتظامیہ کو پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کو ہراساں کرنے اور انھیں بلاجواز گرفتار کرنے سے روک دیا ہے۔

اس ضمن میں پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے دائر درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج شوکت عزیز صدیقی نے یہ احکامات جاری کیے ہیں۔

Image caption اسلام آباد کے علاقے بنی گالہ میں عمران خان کی رہائش گاہ کے باہر بھی پولیس کی بھاری نفری موجود ہے

عدالت نے درخواست گزار سے تحریری یقینی دہانی بھی کروائی کہ وہ عدالت کے گذشتہ روز کے احکامات پر عمل درآمد کریں گے جس پر پی ٹی آئی نے یقین دہانی کر دی ہے۔

عدالت نے اب تک گرفتار کیے جانے والے افراد کی فہرست بھی 31 اکتوبر کو طلب کی ہے۔

گرفتار کیے جانے والے کارکنوں میں سے 37 کو اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا ہے اور اسلام آباد میں پاکستان تحریکِ انصاف کے کارکنوں کی گرفتاری کے خلاف عمران خان نے جمعے کو ملک گیر احتجاج کی کال دی ہوئی ہے۔

اسی بارے میں