ورکنگ باؤنڈری اور ایل او سی پر مزید چھ شہریوں کی ہلاکت، پاکستان کا انڈیا سے احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاک انڈیا سرحد پر سیز فائر کی خلاف ورزی سے وہاں کے مکینوں کی زندگیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں

پاکستان نے انڈیا سے ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول پر فائرنگ سے مزید چھ شہریوں کی ہلاکت پر شدید احتجاج کرتے ہوئے فائربندی کے معاہدے کے احترام کا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق اس سال اب تک بھارت کی طرف سے لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی 178 خلاف ورزیوں میں 19 سویلین ہلاک اور 180 زخمی ہو چکے ہیں۔

دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق جمعے کو انڈیا کے ڈپٹی ہائی کمشنر کو طلب کر کے اس بلا اشتعال فائرنگ پر احتجاج کیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ فائر بندی کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کی جائیں۔

٭ ورکنگ باؤنڈری پر پاکستانی دیہاتی رات کو نقل مکانی پر مجبور

بیان میں کہا گیا ہے کہ 27 اکتوبر کو ورکنگ باؤنڈری پر شکر گڑھ سیکٹر پر اور لائن آف کنٹرول پر فائرنگ سے دو خواتین سمیت چھ افراد ہلاک اور 22 زخمی ہوئے ہیں۔

ان ہلاکتوں کے نتیجے میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان حالیہ کشیدگی میں اضافے کے بعد سرحد پار فائرنگ سے مرنے والے عام شہریوں کی تعداد 12 سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ 40 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔

بیان کے مطابق انڈین ڈپٹی ہائی کمشنر پر زور دیا گیا کہ انڈیا سنہ 2003 کے سیز فائر کے سمجھوتے کا احترام کرے اور ورکنگ باؤنڈری اور ایل او سی پر امن قائم رکھنے کے لیے دیہات اور شہریوں کو نشانہ نہ بنایا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان کا کہنا ہے کہ ورکنگ باؤنڈری پر شکر گڑھ سیکٹر میں اور لائن آف کنٹرول پرگذشتہ روز ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں چھ شہری ہلاک ہوئے

گذشتہ روز پاکستان کے وزیراعظم نوازشریف نے بھی کہا تھا کہ انڈیا کی جانب سے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر فائر بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رہیں تو ان کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

ادھر جمعے کو پاکستانی فوج کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں انڈیا کے اس دعوے کی تردید کی گئی ہے کہ ورکنگ باؤنڈری پر پاکستان کا کوئی سپاہی ہلاک ہوا ہے۔

خیال رہے کہ انڈیا اور پاکستان دونوں ایک دوسرے پر لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر فائر بندی کی خلاف ورزی کرنے اور بلااشتعال فائرنگ کا الزام لگاتے رہتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں