راستوں کی بندش عدلیہ کا ٹرائل، پنجاب سے تحریکِ انصاف کے دو سو کارکن گرفتار

عمران خان تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption عمران خان نے کہا کہ وہ آزاد عدلیہ کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے فیصلوں پر عملدرآمد کروائے

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں حکام نے پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کی کال پر اسلام آباد جانے کی کوشش کرنے والے دو سو کارکنوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمران خان کا کہنا ہے کہ حکومت کا کنٹینر لگا کر راستے بند کرنا عدلیہ کی توہین ہے اور حکومت کے ان اقدامات سے اُن کا نہیں بلکہ عدلیہ کا ٹرائل ہو رہا ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ جب دس لاکھ افراد اسلام آباد آئیں گے تو وہ لاک ڈاؤن ہو جائے گا اور یہ ان کا حق ہے۔ تحریکِ انصاف نے دو نومبر کو اسلام آباد میں حکومت کے خلاف احتجاج اور دھرنا دینے کا اعلان کیا ہوا ہے۔

٭ آج حکومت سے ٹکر لینے کی ضرورت نہیں

٭ پاناما لیکس کا معاملہ سپریم کورٹ کا لارجر بینچ سنے گا

ادھر پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار نے کہا ہے کہ کسی سیاسی جماعت کی جانب سے دارالحکومت کو بند کرنا ریاست کے خلاف جرم ہے۔

صوبہ پنجاب کے مختلف شہروں میں پی ٹی آئی کے کارکنوں کے گھروں پر چھاہوں کا سلسلہ جاری ہے اور سپیشل برانچ کے حکام نے بی بی سی اردو کے شہزاد ملک کو بتایا ہے کہ اب تک پنجاب میں تحریکِ انصاف کے دو سو کارکنوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

لاہور سے اسلام آباد آنے والی جی ٹی روڈ پر محتلف مقامات پر سے کنٹینرز ہٹا کر بلاک کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

اتوار کو اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی نجی رہائش گاہ بنی گالہ کے باہر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں اور پی ٹی آئی کے کارکنوں کے درمیان وقتا فوقتا جھڑپیں جاری رہیں۔

پولیس مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے شیل پھیکتی رہی جس سے مظاہرین کے علاوہ اہل علاقہ بھی شدید متاثر ہوئے۔

اتوار کی شام اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ کے باہر کارکنوں اور میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمران خان نے ملک بھر سے اپنے کارکنوں کو تمام رکاوٹیں عبور کرتے ہوئے بنی گالہ پہنچنے کو کہا۔

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے دو نومبر کو عوام کو اسلام آباد بلوایا ہے تاہم کارکنان کو پیر کو بنی گالہ پہنچیں۔

انھوں نے کہا کہ 'کل سب بنی گالہ پہنچیں اور یہاں سے ہی دو تاریخ کو نکلیں گے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption عمران خان نے ملک بھر سے اپنے کارکنوں کو تمام رکاوٹیں عبور کرتے ہوئے بنی گالہ پہنچنے کو کہا

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اس حکومتی دعوے کو مسترد کیا ہے کہ دھرنے میں ان کے کارکنان اسلحہ لے کر آ رہے ہیں۔

صوبائی وزیر علی امین گنڈا پور کی گاڑی سے نکلنے والے اسلحے کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ ان کے پاس موجود اسلحہ لائسنس یافتہ تھا۔

عمران خان نے کہا کہ ’اگر وزیراعظم مستعفی ہو جائیں تو ہمارا احتجاج جشن میں تبدیل ہو جائے گا۔‘

اسلام آباد اور اس کو دیگر شہروں سے ملانے والی شاہراؤں کی مبینہ بندش پر تنقید کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ وزیرِ داخلہ کو اپنے ضمیر کی آواز سننی چاہیے وہ کرپٹ وزیراعظم کی حمایت کیوں کر رہے ہیں؟

تحریک انصاف کے سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختوانخوا پیر پشاور سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوں گے۔

پاکستان عوامی تحریک کی دو نومبر کو اسلام آباد دھرنے میں شرکت کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ 'ڈاکٹر طاہرالقادری کو دعوت دی ہے تاہم ابھی معلوم نہیں ان کا کیا پلان ہے۔'

انھوں نے کہا کہ حکومت نے عدلیہ کی ہدایات کو بھی نظر انداز کر دیا ہے اور عدلیہ کے فیصلے کے خلاف جگہ جگہ راستے بند کیے ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے اسلام آباد ہائیکورٹ نے تحریکِ انصاف کی جانب سے اسلام آباد کو بند کرنے کے اعلان کے حوالے سے ایک درخواست کی سماعت کے بعد کہا تھا کہ کسی بھی وجہ سے وفاقی دارالحکومت کی سڑکیں دفاتر اور سکول بند نہ کیے جائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

عمران خان نے کہا کہ وہ آزاد عدلیہ کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے فیصلوں پر عملدرآمد کروائیں۔

انھوں نے کہا کہ حکومت کے غیر قانونی اقدامات کے خلاف وہ پیر کو عدالت سے رجوع کرں گے اور 'ہم یہ دیکھیں گے عدلیہ کمزور کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے یا نہیں! عموماً عدلتیں حکومت کا ساتھ دیتی ہیں۔'

عمران خان نے کہا کہ ہم دو نومبر کو شہر کو بند نہیں کرنا چاہتے تھے لیکن جب 10 سے 12 لاکھ افراد شہر میں داخل ہوں گے تو خود ہی شہر بند ہو جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ حکومت نے خود ہی دو نومبر سے پہلے شہر کو بند کر کے لاک ڈؤان کر دیا ہے۔

عمران خان کے اس خطاب کے بعد اسلام آباد میں اتوار کی شام پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری نثار نے کہا کہ بطور وزیرِ داخلہ ان کی یہ ذمہ داری ہے کہ سیاسی جلسوں کے انعقاد کے حق کے علاوہ شہریوں کی روز مرہ کی زندگیوں میں کوئی خلل نہ آئے۔

انھوں نے امید ظاہر کی کہ دو نومبر کو سکول، ہسپتال اور عدالتیں کھلی رہیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس مرتبہ منصوبہ پاکستان سیکریٹریٹ کے اندر جانے اور پھر کسی کو وہاں داخل نہ ہونے دینے کا ہے۔' مگر ایسا نہیں ہونے دیا جائے گا اور 'دارالحکومت کو بند کرنا ریاست کے خلاف جرم ہے۔'

انھوں نے گذشتہ دھرنے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے انھیں سنہ 2014 میں کہا تھا کہ وہ ریڈ زون میں نہیں جائیں گے تاہم جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے ہے اور اسلام آباد کو جلسہ گاہ بنایا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

وزیرِ داخلہ نے گذشتہ روز اسلام آباد پشاور موٹر وے کی بندش اور پولیس اور پی ٹی آئی کے کارکنان کے درمیان ہونے والی جھڑپوں اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے عمران خان کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ وہ انھیں بطور پاکستانی کہتے ہیں کہ 'جو بیج بوئے جا رہے ہیں وہ پاکستان کی خدانخواستہ جڑیں ہلا دیں گے۔'

وزیرِ داخلہ نے کہا کہ گذشتہ روز 800 سے ایک ہزار کے قریب مسلح افراد نے پشاور سے اٹک میں داخل ہونے کی کوشش کی اور پولیس پر تشدد بھی کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ صبح ساڑھے چار سو لوگ اسلام آباد میں داخل ہوئے جن میں سے 100 کے قریب کو حراست میں لیا گیا ہے اور ان کی گاڑیوں میں سے کلاشنکوف، سات بلٹ پروف جیکٹس سمیت آنسوگیس گن اور دیگر اسلحہ برآمد ہوا ہے۔

خیال رہے کہ اسلام آباد اور پنجاب میں دفعہ 144 نافذ کی جا چکی ہے جس کے تحت پانچ سے زیادہ افراد کے اجتماع اور لاؤڈسپیکر کے استعمال پر پابندی عائد ہے۔

اسی بارے میں