پرویز خٹک قیادت میں اسلام آباد آنے والے قافلہ واپس صوابی روانہ

پی ٹی آئی تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تحریکِ انصاف کی قیادت اور کارکن دونوں پیچھے نہیں ہٹیں گے اور اسلام آباد پہنچ کر ہی دم لیں گے: مشتاق غنی

تحریک انصاف کے دو نومبر کو اسلام آباد میں ہونے والے احتجاج میں حصہ لینے کے لیے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک کی قیادت میں پیر کی صبح روانہ ہونے والا جلوس پولیس کی کی جانب سے شدید شیلنگ کے باعث برہان انٹرچینج سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔

خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان مشتاق غنی نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ برہان انٹرچینج سے آگے بڑھنا مشکل ہے اس لیے یہاں سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔

٭ تحریکِ انصاف کو احتجاج مقررہ مقام پر محدود رکنے کا حکم

٭ پی ٹی آئی کا احتجاج اور انتظامیہ کی تیاریاں

انھوں نے کہا کہ ’پولیس نے ساری رات شیلنگ کی ہے اور اسی لیے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے کارکنان سے برہان انٹرچینج سے پیچھے ہٹنے کا کہا ہے۔ امکان ہے کہ ہم برہان سے پیچھے ہٹ کر جی ٹی روڈ سے اسلام آباد پہنچیں گے۔‘

انھوں نے اعتراف کیا کہ موٹر وے سے اسلام آباد جانے کا پلان غلط تھا۔ ’اگر ہم شروع ہی سے جی ٹی روڈ کے ذریعے اسلام آباد پہنچنے کی کوشش کرتے تو ہم اسلام آباد پہنچ چکے ہوتے۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ کارکنان زیادہ قیمتی ہیں اس لیے پیچھے ہٹ جاؤ اور ’میرے حکم کا انتظار کریں‘۔

اس سے قبل پرویز خٹک کی قیادت میں جلوس پولیس کی رکاوٹیں عبور کرتے ہوئے برہان پہنچے جہاں پنجاب پولیس کی جانب سے جلوس کو روکنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔

پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان نے جھاڑیوں کو آگ لگا دی ہے اور پنجاب پولیس کی جانب سے شدید شیلنگ کی جا رہی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے کئی بار مشینری کے ذریعے کنٹینرز کو ہٹانے کی کوشش کی گئی جس پر پنجاب پولیس نے شدید شیلنگ کی۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے کارکنان سے کہا کہ رات برہان پر گزاریں گے اور صبح رکاوٹیں عبور کریں گے۔ تاہم پولیس وقفے وقفے سے آرام کرتے کارکنان پر شیلنگ کرتے رہے۔

اس سے قبل تحریک انصاف کے اس مرکزی جلوس کا موٹر وے پر ہارون آباد پل پر پہلی مرتبہ پنجاب پولیس سے آمنا سامنا ہوا جہاں پولیس کی جانب سے شدید شیلنگ کی گئی اور غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق تحریک انصاف کے 15 کارکن زخمی ہو گئے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
پشاور کو اسلام آباد سے ملانے والی موٹروے کو کنٹینر لگا کر بند کر دیا گیا ہے

جھڑپیں پیر کی شام ہارون آباد پل پر پولیس کی جانب سے رکھے گئے کنٹینر ہٹانے کی کوششوں پر شروع ہوئیں جس میں مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور جواب میں پولیس آنسو گیس نے استعمال کی۔

جلوس کے ارکان موٹر وے پر کنٹینرز اور دیگر رکاوٹیں ہٹانے کے لیے کرینوں کا استعمال کیا۔ اس جلوس میں شامل کارکنوں اور پولیس اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں کافی دیر تک جاری رہیں۔

مشتاق غنی نے بی بی سی اردو کے ذیشان ظفر کو بتایا کہ ان کا قافلہ پرامن تھا اور جیسے ہی موٹروے پر چھچھ انٹرچینج پر پہنچے تو پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ شروع کر دی۔

انھوں نے بتایا کہ تصادم کے بعد پولیس پیچھے ہٹ گئی ہے اور ان کے کارکن کنٹینر ہٹا کر آگے بڑھنے لگے۔

مشتاق غنی نے دعویٰ کیا کہ پولیس نے ان کے کارکنوں پر ربڑ کی گولیاں بھی چلائیں جن سے 15 کے قریب کارکن زخمی ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ تحریکِ انصاف کی قیادت اور کارکن دونوں پیچھے نہیں ہٹیں گے اور اسلام آباد پہنچ کر ہی دم لیں گے۔

پرویز خٹک نے کارکنوں کے ہمراہ پیر کو اسلام آباد کے علاقے بنی گالہ میں عمران خان کی رہائش گاہ تک پہنچنے کا اعلان کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اس پر وفاقی حکومت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ اگر وہ کسی مسلح جتھے کے ساتھ آتے ہیں تو انھیں اس گروہ کا حصہ تصور کیا جائے گا۔

پی ٹی آئی کے کارکنوں کو اسلام آباد پہنچنے سے روکنے کے لیے وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کو اسلام آباد اور ملک کے دیگر حصوں سے ملانے والی موٹر وے اور جی ٹی روڑ سمیت تمام زمینی راستوں کو بند کر دیا تھا۔

موٹروے پولیس کے کنٹرول روم کا کہنا ہے کہ 'اس وقت لاہور سے پشاور موٹر وے مکمل طور پر بند ہے جبکہ لاہور سے اسلام آباد جی ٹی روڈ کھلی ہے لیکن اسلام آباد سے پشاور تک جی ٹی روڈ بھی بند ہے'۔

نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق حضرو کے مقام پر موٹر وے کی دونوں اطراف کو کنٹینرز اور ریت کے ڈھیروں سے بند کیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption لاہور سے پشاور تک موٹر وے مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے

اس اقدام کو صوبے کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے احتجاج کیا تھا کہ جبکہ پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان نے ان اقدامات کو ملک میں سب سے بڑا سکیورٹی رسک قرار دیا تھا۔

بنی گالہ گھیرے میں

دوسری جانب اسلام آباد میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی بنی گالہ میں رہائش گاہ کی طرف جانے والے تمام راستوں کو پولیس نے گھیرے میں لیا ہوا ہے اور کسی بھی رہنما کو بنی گالہ جانے کی اجازت نہیں ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق بعض سرگرم کارکن جنگلوں کے راستے رہائش گاہ تک پہچنے میں کامیاب رہے جن میں خواتین بھی شامل ہیں۔

سڑک سے عمران خان کی رہائش گاہ کا فاصلہ پانچ کلومیٹر سے زیادہ ہے اور وہاں تک پیدل پہنچنا کارکنوں کے لیے مشکل دکھائی دیتا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس وقت بنی گالہ میں پی ٹی آئی کے کارکنوں کی تعداد تین سو سے زیادہ نہیں ہے۔

اس کے علاوہ اسلام آباد کی طرف آنے والے راستوں کو کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اسلام آباد میں پولیس بنی گالہ جانے والے کارکنوں کو گرفتار کر رہی ہے

پنجاب میں کریک ڈاؤن

ادھر صوبۂ پنجاب میں پولیس کا تحریکِ انصاف کے کارکنوں کے خلاف ’کریک ڈاؤن‘ جاری ہے۔

پولیس نے صوبے کے مختلف اضلاع میں رات گئے سے پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کو اسلام آباد روانگی سے روکنے کے لیے پکڑ دھکڑ شروع کر رکھی ہے۔

پنجاب پولیس کی سپیشل برانچ کا کہنا ہے کہ اب تک لاہور، ملتان، فیصل آباد، سرگودہا اور گوجرانوالہ سمیت مختلف شہروں سے 1900 سے زائد کارکنوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔

حراست میں لیے گئے کارکنوں کی اکثریت کا تعلق پاکستان تحریک انصاف کے یوتھ ونگ سے ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ راولپنڈی اور اٹک سے بڑی تعداد میں پی ٹی آئی کے کارکنوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ پنجاب بھر میں پاکستان تحریک انصاف کے مقامی رہنماؤں کے مکانوں پر چھاپوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

پی ٹی آئی کے کارکن پولیس سے بچنے کے لیے روپوش ہو گئے ہیں جبکہ کارکنوں کی ایک بڑی تعداد اسلام آباد پہچنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمران خان نے کارکنوں کو 31 نومبر کو تمام رکاوٹیں عبور کرتے ہوئے بنی گالہ پہنچنے کی ہدایت کی تھی۔

پنجاب بھر میں مختلف شہروں کے داخلی اور خارجی راستوں پر ناکے لگائے گئے ہیں جن پر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔

خیال رہے کہ اسلام آباد اور پنجاب میں دفعہ 144 نافذ کی جا چکی ہے جس کے تحت پانچ سے زیادہ افراد کے اجتماع اور لاؤڈسپیکر کے استعمال پر پابندی عائد ہے۔

اسی بارے میں