’میاں صاحب اب آپ کی باری آئی تو قانون کا غلط استعمال‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان میں سیاسی جماعتوں نے وفاقی حکومت کی جانب سے تحریک انصاف کے جلوس کو طاقت کے زور پر روکنے کر کوششوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے جمہوری رویوں کے منافی قرار دیا ہے۔

پارلیمان میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما قمرالزمان کائرہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک طرف وزیراعظم اور ان کے وزرا جلسے کریں اور دوسری جانب سے حزب مخالف کو جلسے کا آئینی حق نہ دینا کون سی جمہوریت ہے؟

انھوں نے اسلام آباد میں گذشتہ سنیچر کو دفعہ 144 کے باوجود کالعدم تنظیم اہلسنت والجماعت کو جلسے کی اجازت دینے کے حکومتی فیصلے کی بات کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو جلسہ نہیں کرنے دیتے لیکن اسی شہر میں اس جماعت کو جلسے کی اجازت دیتے ہیں جس پر بہت سنجیدہ سوالات ہیں؟ تو کیا حکومت ان کے سامنے بے بس ہے یا ملی ہوئی ہے، بے بس تو ہم نہیں کہہ سکتے ہیں ہاں اس کے ساتھ مل سکتی ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ماضی میں احتجاجی جلسے جلوس منعقد کرتی رہی ہے اور گذشتہ حکومت میں انھیں ایسا کرنے کی اجازت بھی ملتی رہی لیکن اب اپنی باری آئی ہے تو قانون کا غلط استعمال شروع کر دیا جو کہ انتہائی نامناسب اور جہوریت کے منافی ہے جس سے ملک کے مسائل میں مزید اضافہ ہو گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

تحریک انصاف کی جانب سے ہر مسئلے کو سڑکوں پر لانے سے متعلق سوال کے جواب میں قمرالزمان کائرہ نے کہا کہ پاناما لیکس پر متحدہ اپوزیشن کو تحریک انصاف خود چھوڑ کر الگ ہوئی جس سے حزب اختلاف کی تحریک کمزور ہوئی ہے۔

'تحریک انصاف کو چاہیے تھا کہ حزب اختلاف کو ساتھ لے کر چلتے لیکن انھوں نے اپنے لیے خود گڑھا کھودا ہے، آج ان کے ساتھ صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت میں شامل اتحادی شیر پاؤ اور جماعت اسلامی بھی احتجاج میں ساتھ نہیں ہیں۔ انھیں کس نے کہا تھا کہ شہر کو بند کرنے کا غیر آئینی اعلان کرتے۔ یہ ان کے کمزور فیصلے تھے جس سے انھیں نقصان بھی ہوا ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے سینیئر رہنما زاہد خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پہلے صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت صوبہ مسائل سے دوچار ہے اور وزیراعلیٰ ایک بار پھر سے تخت اسلام آباد کی لڑائی میں صوبے کی سرکاری مشینری کا استعمال کر رہے ہیں۔

'پہلے بھی یہ اسلام آباد میں 126 دن تک بیٹھے رہے جس سے صوبے کو بہت نقصان ہوا۔ یہ حقوق کی لڑائی نہیں بلکہ تخت اسلام آباد کی لڑائی ہے جس میں وزیراعلیٰ پرویز خٹک پختونوں کو ایندھن بنا رہے ہیں، اگر اقتدار لینا ہے تو اس کے لیے تحریک انصاف کو پنجاب میں سے لوگوں کو باہر نکالنا چاہیے تھا۔'

انھوں نے کہا ہے کہ صوبے میں پہلے ہی عوام نے تحریک انصاف نے اقتدار دیا ہے اور اب انھیں اسلام آباد کے تخت کی لڑائی میں استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

زاہد خان نے اس کے ساتھ حکومت کی جانب سے راستے روکنے اور تشدد کی مذمت کرتے ہوئے اس غیر جہموری رویہ قرار دیا۔

انھوں نے کہا ہے کہ' اس وقت حکومت خوف کا شکار ہے اور اسے لگتا ہے کہ کہیں یہ دوبارہ اسلام آباد میں آ کر بیٹھ نہ جائیں۔ مگر پھر بھی احتجاج کا حق ہونا چاہیے لیکن ہماری بدقسمتی ہے کہ جلاؤ گھیراؤ کے علاوہ کوئی بات نہیں کرتا ہے اور یہ حکومت اور تحریک انصاف دونوں جانب سے غیر مناسب جمہوری رویے ہیں۔'

2014 میں تحریک انصاف کے ساتھ اسلام آباد میں احتجاجی دھرنے میں شام عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری اس وقت ملک میں نہیں ہیں اور ان کی جماعت کے مطابق آئندہ چند دن تک وطن واپسی کا امکان بھی نہیں۔

جماعت کے سینیئر رہنما خرم نواز گنڈاپور نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے حکومت کے رویے کی مذمت کی اور کہا ہے کہ آج جس بحران میں ہم ہیں اس میں ہر روز ہوں گے کیونکہ' اس وقت ملک میں جمہوریت نہیں بلکہ ایک خاندان کی حکومت ہے اور وہ اپنا اقتدار بچانے کے لیے ہر حربہ استعمال کرے گی۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انھوں نے کہا ہے کہ لاہور میں عوامی تحریک کے کارکنوں کو ہلاک کیا گیا لیکن اس کے ذمہ داروں کو سزا نہیں مل سکی، پاناما لیکس میں اگر احتساب کی بات ہوتی ہے اور اس پر کان نہیں دھرتے اور یہ ہی حکومت اپنے وزیر پرویز رشید کو اس بات پر عہدے سے ہٹا دیتی ہے کہ جب تک قومی سلامتی سے متعلق خبر کی تحقیقات نہیں ہو جاتی وہ عہدے سے الگ رہیں۔

انھوں نے کہا کہ اگر حکومت معاملہ حل کرنا چاہتی ہے تو اس وقت وزیراعظم ٹی وی پر آ کر خود کو احتساب کے لیے پیش کرنے کا اعلان کریں اور اس کے ساتھ کہیں کہ آئندہ 72 گھنٹوں میں اس کا طریقۂ کار طے کر لیا جائے اور حزب اختلاف سے مذاکرات شروع کرنے کا اعلان کریں۔

عوامی تحریک کے دو نومبر کے دھرنے میں شامل ہونے سے متعلق خرم نواز گنڈاپور نے کہا کہ'چونکہ تحریک انصاف نے اپنا پروگرام طے کر کہ ہمیں اس میں شامل ہونے کی دعوت دی تھی، ہم نے ان کے احتجاج کی حمایت کی ہے لیکن اس میں شامل ہونے کا فیصلہ حالات کو دیکھتے ہوئے کریں گے۔'

اسی بارے میں