پاناما کمیشن بنانے کا فیصلہ، احتجاج کی جگہ یومِ تشکر

پاکستان تحریکِ انصاف تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption عمران خان نے کہا کہ تین نومبر سے نواز شریف کی تلاشی شروع ہو گی اور یہ ملک کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ کسی طاقتور کی تلاشی لی جا رہی ہے

سپریم کورٹ کی جانب سے پانامہ لیکس کی تحقیقات کے لیے کمیشن کے قیام کے فیصلے پر پاکستان تحریکِ انصاف نے دو نومبر کو اسلام آباد میں ہونے والا احتجاج منسوخ کرتے ہوئے یوم تشکر منانے کا اعلان کیا ہے۔

منگل کو اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ کمیشن ’وزیراعظم کی کرپشن کا احتساب کرے گا۔‘

٭ پاناما لیکس پر کمیشن کے قیام پر اتفاق، سپریم کورٹ نے ضوابطِ کار مانگ لیے

انھوں نے کہا کہ تحریکِ انصاف وزیراعظم کی کرپشن کے مطالبے پر ہی احتجاج کر رہی تھی اور کمیشن کی تشکیل ان کی اخلاقی فتح ہے۔

عمران خان نے کہا کہ اب احتجاج کے بجائے دو نومبر کو پریڈ گرؤانڈ میں یوم تشکر منایا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ 'ریاستی اداروں سے انصاف نہ ملنے کے بعد ہم نے میں فیصلہ کیا تھا کہ ہم اسلام آباد آئیں گے اور اسے بند کریں گے اور ہم نے صرف دو شرائط رکھی تھیں کہ یا نواز شریف استعفیٰ دیں یا پھر تلاشی دیں'۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے فیصلہ کیا کہ تین نومبر سے نواز شریف کی تلاشی شروع ہو گی اور یہ ملک کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ ’کسی طاقتور کی تلاشی لی جارہی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’کارکن گھر جائیں، کیونکہ کل دوبارہ اسلام آباد آنا ہے لیکن احتجاج کرنے نہیں بلکہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر یوم تشکر منانے کے لیے آنا ہے۔‘

ادھر وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا ہے کہ گذشتہ چند دن پاکستان کی سیاست کے لیے تلخ رہے، تاہم وہ عمران خان کی جانب سے احتجاجی دھرنے کو منسوخ کرنے کے فیصلے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چوہدری نثار نے کہا کہ 'عمران خان نے جو فیصلہ کیا اس میں نہ کسی کی جیت ہے نہ ہار، اگر کسی کی جیت ہوئی ہے تو وہ پاکستان کی ہوئی اور ہمیں اس کا اعتراف کرنا چاہیے۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'پاکستان کی جیت امن، جمہورت، قانون کی بالادستی اور اپنے اداروں پر اعتماد میں ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ سیاسی بیان بازی اور گولہ باری ہوتی رہتی ہے لیکن جب یہ سیاسی دشمنی میں بدلنے لگے اور عوام کا نقصان ہو تو یہ عوام دشمنی کے زمرے میں آتا ہے۔

چوہدری نثار نے اسلام آباد کے عوام اور پیر کی شب موٹر وے پر اسلام آباد کی جانب مارچ کرنے والے تحریکِ انصاف کے کارکنوں سے معذرت کی اور کہا کہ وہ یقین دلانا چاہتے ہیں کہ اس رکاوٹ کا سبب حکومت نہیں بلکہ اسلام آباد بند کرنے کا اعلان تھا۔

اسی بارے میں