’عدالت کس قانون کے تحت کمیشن بنائے گی؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ FAROOQ NAEEM/getty images
Image caption پیپلز پارٹی کے رہنما کے بقول عدالت کو تو یہ اختیار ہی نہیں کہ وہ خود ٹی او آرز بنائے

سپریم کورٹ کی جانب سے پانامہ لیکس کی تحقیقات کے لیے کمیشن کے قیام کے فیصلے کے بارے میں پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما قمرزمان کائرہ کا کہنا ہے کہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ عدالت کسی قانون کے تحت یہ تحقیقات کرے گی۔

قمرزمان کائرہ کا بی بی سی کے ریڈیو پروگرام سیربین میں بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اس فیصلے سے مزید سوالات نے جنم لیا ہے۔ ان کے بقول ابھی یہ کہنا قبل ازوقت ہوگا کہ آیا کمیشن کے ٹی او آرز پر تمام جماعتوں کا اتفاق ہو جائے گا؟

پیپلز پارٹی کے رہنما کا مزید کہنا تھا سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ قانون سپریم کورٹ کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے ایک طاقتور کمیشن بنا دے۔

ان کا کہنا تھا کمیشن بنانے کے موجودہ قانون کے محدود دائرہ کار کا حوالہ دے کر سپریم کورٹ پہلے ہی کمیشن بنانے سے انکار کر چکی ہے۔ اب کونسی ایسے پاور ہے جس کا استعمال کرکے کورٹ ایک طاقتور کمیشن بنائے گی؟

معروف قانون دان اور سابق وزیر قانون ایس ایم ظفر نے کہا کہ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا کہ سپریم کورٹ نے خود ٹی او آرز بنائے ہوں۔

انھوں نے ان خدشات کا اظہار بھی کیا کہ اس کیس کی وجہ سے سپریم کورٹ کو تنقید کا سامنا کرنا پڑے۔

ایس ایم ظفر نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے سپریم کورٹ نے اس صورت حال کو ٹھنڈا کرنے کے لیے یہ فیصلہ کیا ہو۔

قمرزمان کائرہ کا مزید کہنا تھا کہ'ہم پاکستان تحریکِ انصاف کو منع کرتے رہے کہ وہ سپریم کورٹ مت جائیں کیونکہ ہمیں امید نہیں تھی کہ کورٹ میں اس معاملے کا حل نکل سکے گا۔ لیکن اب معاملہ عدالت میں پہنچ گیا ہے اور قوم کو امید ہے کہ کوئی حل نکلے گا۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر تاریخ پر نظر ڈالیں تو پاکستان مسلم لیگ نواز کو ہمیشہ عدالتوں سے ریلیف ملا ہے لیکن ہوسکتا ہے کہ اس بار تاریخ بدل جائے۔

قمر زمان کائرہ کے مطابق عدالت نے تمام جماعتوں سے ٹی او آرز جمع کروانے کو کہا ہے اور عدالت کے بقول اگر ان پر اتفاق ہوگیا تو ٹھیک ہے بصورت دیگر عدالت ٹی او آرز بنائے گی۔

پیپلز پارٹی کے رہنما کے بقول عدالت کو تو یہ اختیار ہی نہیں کہ وہ خود ٹی او آرز بنائے اسے یا کمیشن کو اختیار دیا جاتا ہے۔ اگر عدالت خود ٹی او آرز بنا چاہتی ہے تو اس کے لیے قانون میں تبدیلی کرنا پڑے گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ان سوالوں کا جواب ابھی واضح نہیں ہے لیکن ہوسکتا ہے کہ اگلی سماعت پر صورتحال کچھ واضح ہو۔