’عمران ایک دن لیڈر بن ہی جائے گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں گذشتہ چند دنوں سے پائی جانے والی کشیدگی کی فضا میں خطہ پوٹھوار کے موسم کی طرح اچانک ایک خوشگوار تبدیلی محسوس ہوئی۔

جیسے موسم گرما میں ایک گرم ترین دن کے بعد بارش ہو جانے سے لوگ گلیوں اور بازاروں میں نکل آتے ہیں اسی طرح تحریک انصاف کے کارکن بھی بدھ کی شام یوم تشکر میں شرکت کے لیے پریڈ گراونڈ میں امڈ آئے۔

سر شام ہی جڑواں شہروں میں پریڈ گروانڈ کی طرف جانے والی شاہراوں پر تحریکی کارکن چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں جاتے نظر آئے۔

گذشتہ کئی دنوں سے شہر کے اہم چوراہوں پر تعینات سکیورٹی اہلکار اپنی جگہوں پر ہی موجود تھے لیکن وہ بھی کافی پرسکون نظر آ رہے تھے۔ تحریک انصاف کے احتجاجی دھرنے کے یوم تشکر میں تبدیل ہونے سے ہر آتی جاتی گاڑی کی چیکنگ اور شہریوں سے بار بار الجھنے کے بجائے وہ شاہراؤں کے کنارے سستاتے نظر آئے۔

بدھ کو اسلام آبا کے پریڈ گراؤنڈ کی پارکنگ میں تحریک انصاف کے جلسے سے پہلے ہی ٹولیوں میں کھڑے نوجوان سیلفیاں لینے میں مصروف تھے اور بعض منچلے وہاں تعینات فرنٹیئر کانسٹیبلری کے اہلکاروں سے ہنسی مذاق کرنے میں مصروف تھے۔

ہاتھ میں لاٹھی تھامے ایک اہلکار نے مسکراتے ہوئے کہا کہ آج یہاں آپ پر لاٹھی استعمال کرنے نہیں بلکہ آپ کی حفاظت کے لیے کھڑے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

شام ڈھلے سڑک پر جہاں ایک طرف تحریک انصاف کے کارکن ٹولیوں کی صورت میں پیدل جلسہ گاہ کی جانب رواں دواں تھے وہیں بہت سے کارکن اپنی گاڑیاں ایک جگہ سے دوسری جگہ بھاگ رہے تھے اور وقفے وقفے سے وزیراعظم نواز شریف کے خلاف نعرے بازی بھی کرتے جا رہے تھے۔

ماضی کے برعکس اس بار یہ نعرے وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز کے خلاف بھی لگائے جا رہے تھے۔

جلسہ گاہ میں روایتی انداز میں بڑے بڑے سپیکروں کے ذریعے پارٹی ترانے اور ملی نغمے پنڈال میں موجود کارکن کا دل گرمانے کے لیے بجائے جاتے رہے۔

اس دوران وہاں موجود لوگوں سے دریافت کیا تو ان کی زیادہ تر تعداد مقامی تھی اور چند دن سے جاری سیاسی محاذ آرائی کے ختم ہونے پر خوش بھی دکھائی دیے اور مایوسی کے اظہار کے ساتھ اس بات پر اطمیئنان کا اظہار کر رہے تھے کہ چلیں وزیراعظم کے احتساب کا معاملہ اب سپریم کورٹ میں چلا گیا۔

چند ایک نے مایوسی کا اظہار بھی کیا جن میں راولپنڈی کی خاتون سمیہ نے کہا ہے کہ'پہلے دھرنا دینا تھا اب صرف جلسہ ہو رہا ہے۔۔۔ لیکن کوئی بات نہیں ایک دن عمران خان لیڈر بن ہی جائیں گے۔'

اس دوران سٹیج پر وقفے وقفے سے اعلانات کیے جا رہے تھے کہ'تحریک انصاف وزیراعظم کو عدالت میں لے آئی۔‘ اس کے علاوہ ملک میں تبدیلی اور نئے پاکستان کے نعروں کی گونچ میں سٹیج پر نصب ایک بہت بڑی ٹی وی سکرین پر عمران خان کے کرکٹ میچوں کی جھلکیاں دکھائی جا رہی تھیں۔

قریب ہی کھڑے ایک شخص نے اپنے ساتھی سے کہا کہ 'یار وہ ہی کرکٹ۔۔۔ اب ان کو چاہیے کہ خیبر پختونخوا میں تبدیلی کی جھلکیاں دکھائیں۔'

پنڈال جب بھرنا شروع ہو گیا تو عمران خان بھی سٹیج پر پہنچے اور کچھ دیر میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک بھی پہنچ گئے۔

سٹیج پر عمران خان کے بجائے اس بار وزیراعلیٰ پرویز خٹک کا زیادہ پرجوش استقبال کیا گیا اور بھرپور انداز میں نعرے لگائے گئے۔

پرویز خٹک جب سٹیج پر جانے لیے سیڑھیاں چڑھ رہے تھے تو انھیں بظاہر اسی قسم کی دھکم پیل کا سامنا کرنا پڑا جیسا کہ دو دن پہلے پشاور سے اسلام آباد آتے ہوئے انھیں موٹروے پر کرنا پڑا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

وزیراعلیٰ پرویز خٹک کے ساتھ درجنوں کارکنوں نے سٹیج پر اس دوران جانے کی کوشش کی لیکن انھیں جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی تھی۔ وہاں پر ہجوم اکٹھا ہونا شروع ہو گیا اور کسی کارکن نے بلند آواز میں سٹیج اہلکاروں کو آواز دی 'بھائی صاحب میں نے بھی بہت آنسو گیس کھائی ہے۔ اوپر جانیں دیں۔'

سٹیج پر قیادت کے جمع ہونے کے بعد تلاوت کرائی گئی اور اس کے بعد دعا میں جہاں زخمی ہونے والے کارکنوں کی صحت یابی کا کہا گیا وہاں پاناما لیکس کا معاملہ عدالت میں جانے کے تناظر میں یہ بھی کہا گیا کہ 'سپریم کورٹ کے معزز ارکان کو توفیق دے کہ وہ حق و سچ کا بول بالا کریں۔'

جلسہ باقاعدہ شروع ہوا تو اس میں خیبر پختونخوا کی قیادت کو پہلے یہ کہتے ہوئے خطاب کی دعوت دی کہ کیسے انھوں نے موٹر وے پر پولیس کی جانب سے طاقت کا مقابلہ کیا۔

رہنماؤں کے خطاب کر کے دوران ترانے کا وقفہ دیا جاتا۔ جلسہ کے دوران پہلے ایک تقریر میں جمعیت علما اسلام ف کے رہنما مولانا فضل الرحمان کے ذکر پر قہقے اور نعرے بلند ہوئے اور دوسرا مرتبہ جب تحریک انصاف کے رہنما علی امین گنڈا پور کو سٹیج پر خطاب کرنے کی دعوت دی گئی۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

لوگوں نے چند دن پہلے اسلام آباد پولیس کی جانب سے ان کی گاڑی میں شراب کی ایک بوتل برآمد کرنے کے دعوے اور ان کی جانب سے اس میں شہد ہونے کے دعوے کے تناظر میں کہنا شروع کیا'ہمارا بھی گلا خراب ہے، ہمیں بھی دو۔'

جلسہ گاہ میں سٹیج کے آگے کارکنوں جمع تھے لیکن سٹیج کے عقب میں لوگ ٹولیوں میں گھوم رہے تھے جس میں کوئی کھانے پینے کی اشیا خرید رہا تھا تو کوئی وہاں پشاور سے آنے والی چپلوں کی خریداری میں مصروف تھا۔'

تقریوں اور جلسہ میں گھومنے کے بعد واپس جانے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا تھا۔ ان میں سے ایک مقامی نوجوان نے کہا ہے کہ تقریر اب گھر جا کر سنیں گے، ٹھہریں گے نہیں۔۔۔ نہیں کوئی نئی بات نہیں ہو گئی کیونکہ معاملہ اب عدالت میں جا چکا ہے۔اگر فیصلہ حق میں نہ آیا تو۔۔۔ نہیں اب عدالت کی ہی سنیں۔'

وہاں سے واپسی پر ایک کتبے پر نظر پڑی جس پردرج تھا:

’کوئی اربوں کھا گیا، کوئی کروڑوں لے کر بھاگ گیا مگر پکڑا صرف وہ جاتا ہے، جس نے ہیلمٹ نہیں پہنا ہوتا۔‘

اسی بارے میں