پنجاب میں آلودہ دھند اور گردوغبار کے بادلوں سے عوام پریشان

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایسے موسم میں چھوٹے بچوں اور سانس کی بیماری میں مبتلا افراد کو خاص طور پر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور سمیت صوبے کے متعدد میدانی علاقوں میں آلودہ دھند اور گردوغبار کے نتیجے میں پیش آنے والے حادثات میں جہاں متعدد افراد ہلاک ہوئے ہیں وہیں عوام کو زورمرہ کی زندگی میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔

لاہور سمیت پنجاب کے مختلف علاقوں میں منگل سے دن میں ’سموگ‘ یا آلودہ دھند کے بادل چھا جاتے ہیں جن کی وجہ سے موٹر وے اور دیگر شاہراہوں ہر حادثات پیش آئے ہیں۔

موٹروے پولیس کے ترجمان کے مطابق جمعرات کو پنڈی بھٹیاں کے نزدیک ایسے ہی ایک حادثے میں متعدد گاڑیاں آپس میں ٹکرائیں جن سے 12افراد ہلاک اور 60 زخمی ہوئے۔

حکام کے مطابق اس صورتحال میں موٹر وے کے متعدد حصے بھی ٹریفک کے لیے بند کیے جا رہے ہیں۔

پاکستان کے محکمۂ موسمیات کے مطابق یہ صورتحال آئندہ کئی روز تک برقرار رہ سکتی ہے۔

محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر محمد حنیف نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ گردوغبار کی موجودہ صورتحال غیرمعمولی ہے اور آئندہ چند روز تک پنجاب کے میدانی علاقوں میں بارش کا امکان نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

محمد حنیف کا کہنا تھا کہ پنجاب کے بالائی علاقوں میں جن میں لاہور، شیخوپورہ، قصور، منڈی بہاؤالدین اور فیصل آباد کے علاقوں میں جو دھند بنی اس کو تکنیکی طور پر 'سموگ' کہا جاتا ہے جو دھوئیں اور دھند کا ملاپ ہے اور یہ کافی حد تک غیر معمولی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ’اس قسم کی فضائی آلودگی ایشیا کے بعض علاقوں جیسا کہ نئی دہلی اور شنگھائی میں عموماً ہوتی ہے لیکن نومبر کے مہینے میں یہاں پر یہ پہلی بار دیکھی گئی ہے۔‘

'اس کی بڑی وجہ ہوا کا کم دباؤ اور مسلسل خشک موسم ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ جب درجہ حرارت 30 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ ہو اور فضا میں آلودہ ذرات کی موجودگی کے باعث کیمیائی عمل ہوتا ہے جس کے باعث فضائی آلودگی کی یہ شکل سامنے آتی ہے جسے 'لوئر اوزون' بھی کہا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میدانی علاقوں میں فصلوں کی کٹائی کے بعد کھیتوں میں آگ لگانے کا عمل بھی کسی حد تک اس صورتحال کی وجہ ہو سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

لاہور کے علاقے دھرم پورہ کے رہائشی تیمور ندیم نے بتایا کہ دھوئیں کے بادل اس قدر شدید ہیں کہ گھروں کے اندر تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گردوغبار کی وجہ سے متلی کی کیفیت اور آنکھوں میں جلن محسوس ہورہی ہے۔

تیمور ندیم کے مطابق ان کا کاروبار اس نوعیت کا ہے کہ انھیں شہر کے مختلف علاقوں میں جانا پڑا ہے اور اس دوران انھیں جوہر ٹاؤن، گڑھی شاہو، اندرون شہر سمیت مختلف علاقوں اسی صورتحال کا سامنا رہا ہے۔

مزنگ کے رہائشی شرافت ملک نے بتایا کہ گردوغبار کے بادل صبح سے لے کر شام تک چھائے رہتے ہیں اور گردوغبار کے باعث ان کی آنکھوں میں جلن ہے اس لیے وہ احتیاطی تدبیر کے طور پر دھوپ کا چشمہ اور ماسک کا استعمال کر رہے ہیں۔

محمد حنیف کا کہنا تھا کہ'اس کیفیت کا خاتمہ اسی وقت ہوگا جب بارشوں کا ایک اچھا سلسلہ شروع ہوگا اور فی الحال آئندہ چند دنوں میں پنجاب کے علاقوں میں بارش کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ ایسے موسم میں چھوٹے بچوں اور سانس کی بیماری میں مبتلا افراد کو خاص طور پر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں