’خشک موسم میں زہریلے ذرات تحلیل نہیں ہو سکے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس دھند میں کاربن مونو آکسائیڈ ، سلفر اور نائٹروجن جیسے زہریلکے مادوں کی مقدار زیادہ تھی

لاہور سمیت پاکستان کے صوبہ پنجاب کے میدانی علاقوں میں گرد آلود دھند کے باعث معمولات زندگی متاثر ہوئے ہیں اور آنکھوں، گلے اور کانوں کی شکایات سے لوگوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

محکمۂ موسمیات کے ڈائریکٹر اجمل شاد کا کہنا تھا کہ لاہور اور پنجاب کے دیگر علاقوں میں نومبر کے مہینے میں دھند یعنی فوگ کا ہونا معمول کی بات ہے لیکن عموماً فوگ میں نمی کی مقدار نوے فیصد تک ہوتی ہے۔ لیکن گذشتہ چند دنوں کے دوران فضا میں پایا جانے والا دھندلاپن درحقیقیت فضائی آلودگی اور دھند کا مرکب تھا۔

پنجاب میں آلودہ دھند اور گردوغبار کے بادلوں سے عوام پریشان

'سموگ کی صورت میں کارخانوں اور بھٹیوں کو بند کرنے پر غور'

ان کے بقول چونکہ اس دھند میں کاربن مونو آکسائیڈ ، سلفر اور نائٹروجن جیسے زہریلکے ذروں کی مقدار زیادہ تھی اس لیے اسے تکنیکی طور پر 'سموگ' کا نام دیا گیا ہے۔

لاہور کے ڈاکٹر سلمان کاظمی کے مطابق ہسپتالوں کا رخ کرنے والے بیشتر لوگ ناک کان اور گلے کے امراض کی شکایت لے کر آئے ہیں۔

ڈاکٹر سلمان کاظمی کے مطابق 'زیادہ متاثر ہونے والوں میں دمے کے مریض، سگریٹ نوشی کے عادی افراد اور ایسے لوگ شامل ہیں جو پہلے سے ناک کان اور گلے سے جڑی الرجی کا شکار ہیں۔'

سموگ کی وجوہات

لاہور میں محکمۂ موسمیات کے ڈائریکٹر اجمل شاد کے مطابق یہ تمام کیمیائی مادے ہماری آبو ہوا میں پہلے سے موجود ہیں اور ان کی وجہ صنعتی پیداوار، گاڑیوں سے پیدا ہونے والی آلودگی اور گرو د غبار ہیں تاہم انتہائی خشک موسم نے ان ذرات کا فضا میں تحلیل ہونے کا عمل روک دیا ہے۔

' ان آلودہ ذرات کی مقدار فضا میں بڑھنے کی وجہ سے سطح زمین سے تین سے چار سو فٹ کی حد میں آکسیجن کی مقدار کافی حد تک کم ہو گئی۔ یہی وجہ ہے کہ لوگوں کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔'

اجمل شاد کا کہنا تھا ایسا پہلی بار نہیں ہوا ہے لیکن چونکہ ایک دن اس صورتحال کا دورانیہ ایک دن سے زائد ہو گیا تھا اس لیے طبی مسائل سامنے آئے۔ اس کے بعد بھی یہ ایک دن میں دو سے تین گھنٹے تک اتنی شدت اختیار کرتا رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ شمالی علاقوں میں موسم میں آنے والی تبدیلی سے آئندہ ایک دو روز میں موجودہ پریشان کن صورتحال میں کمی آئے گی تاہم دھند کی عمومی کیفیت برقرار رہے گی۔

لیکن انھوں نے خبردار کیا کہ نومبر کے مہینے میں گرد آلود دھند یعنی سموگ کی صورتحال وقفے وقفے سے مختلف شدت سے پیش آتے رہنے کا امکان ہے۔

اجمل شاد کا کہنا تھا کہ دس ستمبر کے بعد سے لاہور میں بارش کا نہ ہونا فضا میں گرد آلودہ ذرات میں اضافے کا باعث بنا۔ ان کے بقول بارش یا آندھی ہوجانے سے موسم میں کافی فرق پڑ جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’مریض آنکھوں میں تکلیف یا خارش ہونے کی صورت میں انہیں ٹھنڈے پانی سے دھوئیں اور انہیں ملنے سے گریز کریں کیونکہ ایسا کرنے سے تکلیف بڑھنے کا اندیشہ ہے‘

اجمل شاد نے اس بات پر زور دیا کہ لاہور سمیت بڑے شہروں میں صنعتوں اور ٹریفک کے باعث پیدا ہونے والی آلودگی اور فضا میں کیمائی مادوں کی بڑھی ہوئی مقدار کا باقاعدگی سے جائزہ لینا بہت ضروری ہے۔

'موسم کے ساتھ ساتھ فضا میں کیمیائی مرکبات کی بھی جانچ کے آلات ہونے چاہیئں اور کئی برسوں کے تجزے سے یہ بات واضح ہوگی کہ کن شہروں اور علاقوں کی فضا میں کس قسم کے کیمائی مادے موجود ہیں۔ اور ان میں ہونے والی تبدیلی کو دیکھتے ہوئے اقدامات کیے جا سکیں۔ ابھی تو ہمارے پاس پر کوئی ڈیٹا ہے ہی نہیں۔'

چونکہ پہلے سے کوئی ڈیٹا موجود نہیں ہے اس لیے اگر فضا میں زہریلے مادوں کی موجودگی کا علم ہوتا بھی ہے تو یہ نہیں بتایا جا سکتا کہ آیا یہ پہلے سے یہاں موجود تھے یا کسی تازہ صورتحال کی وجہ سے اس فضا میں آئے ہیں۔

محکمۂ موسیمات کے ڈائریکٹر اجمل شاد کے مطابق پچھلے سو برسوں کے ریکارڈ کے مطابق نومبر اور دسمبر کے مہینے لاہور اور پنجاب کے میدانی علاقوں میں بارشیں نہیں ہوتیں۔ اس وقت شمالی علاقوں میں جاری ایک سلسلے سے پہاڑی علاقوں میں برفباری اور بارش کا امکان ہے جس کے بعد موسم مزید ایک ہفتے تک خشک رہے گا۔

ان کے بقول ایک ہفتے کے بعد مغرب کی جانب سے بارشوں کی دوسری لہر آنے کا بھی امکان ہے لیکن یہ امکان بہت کم ہوتا کہ یہ لہر ملک کے وسطی علاقوں کی طرف آئے لہذا یہ بھی شمالی علاقوں میں ہی آئے گی۔

سموگ سے ہونے والا شکایات اور تداراک

لاہور کے ڈاکٹر سلمان کاظمی کے مطابق کے 'کئی افراد کو آنکھوں کی تکلیف کی شکایت ہے جس کی وجہ سے زیادہ تر مریض آنکھوں کو ملنے اور کھجانے کے بعد زیادہ تکلیف کے ساتھ آ رہے ہیں۔'

انھوں نے زور دیا کہ 'مریض آنکھوں میں تکلیف یا خارش ہونے کی صورت میں انہیں ٹھنڈے پانی سے دھوئیں اور انہیں ملنے سے گریز کریں کیونکہ ایسا کرنے سے تکلیف بڑھنے کا اندیشہ ہے۔'

ڈاکٹر سلمان کاظمی کے مطابق 'موٹر سائیکل سوار عینکوں کا استمعال کریں اور غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کریں۔ کسی بھی تکلیف کی صورت میں خود سے دوائیں تجویز نہ کریں بلکہ ڈاکٹر کے پاس جائیں۔'

ان کا کہنا تھا 'صبح اور شام کے اوقات میں دھند کی مقدار زیادہ ہو جاتی ہے اس لیے ان اوقات میں باہر نکلنے سے گریز کریں۔'

'متاثر ہونے کی صورت میں سوپ استعمال کریں اور اچھی پروٹین والی خوراک لیں تاکہ قوت مدافعت میں اضافہ ہو۔'

اس سے پہلے وزیراعلیٰ پنجاب کے خصوصی مشیر برائے صحت خواجہ سلمان رفیق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ پنجاب میں دھوئیں اور گردوغبار سے متاثرہ علاقوں میں صورتحال برقرار رہی تو فضائی آلودگی کا باعث بننے والے کارخانوں اور بھٹیوں کو بند کرنے پر غور کیا جاسکتا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سموگ کا دائرہ لاہور اور گردونواح تک محدود نہیں اور یہ سفر کرتے ہوئے ٹوبہ ٹیک سنگھ تک پہنچ چکا ہے۔

اسی بارے میں