’مزدورکی زندگی بھی سکریپ جیسی ہی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ واقعہ منگل کو گڈانی میں واقع شپ بریکنگ یارڈ میں ایک بحری جہاز کو توڑنے کے دوران پیش آیا تھا

گڈانی کے ساحل پر سمندر کو چیرتا ہوا ایک بحری جہاز سیٹی دے کر اپنی آمد کا اعلان کرتا ہے اور کنارے پر مزدور الرٹ ہو جاتے ہیں۔

تھوڑی ہی دیر میں یہ جہاز کنارے پر لگ جاتا ہے۔ اب یہ مسافر جہاز ہے، مال بردار یا کسی بحری بیڑے کا حصہ، اس بات کا علم مالک کو ہے یا پھر شاید کاغذات میں درج ہوگا، لیکن اس سے مزدوروں کا کوئی سرو کار نہیں۔

جہاز سے کئی من وزنی لنگر نیچے گرایا جاتا ہے اور ایک ویلڈر شعلہ جلاتا ہے اور اس اینکر کو زنجیر سے کاٹ کر الگ کر دیتا ہے اور بعد میں اسی زنجیر کے بھی ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے جاتے ہیں اور لفٹر ان کو اٹھاکر لے جاتا ہے۔ اسی دوران دو مزدور دفتر سے مٹھائی کے ڈبوں سمیت آتے ہیں اور مٹھائی تقسیم کرتے ہیں۔

تقریباً ساڑھے 8 ہزار ٹن وزنی جہاز کی آمد پر یہ مزدور خوش ہیں کیونکہ اب انھیں مہینے تک آٹھ سو سے 15 سو روپے تک یومیہ دہاڑی ملے گی۔

یہ مزدور کٹنگ کے مختلف مراحل کے علاوہ سامان برداری کا کام کریں گے اگر دیکھا جائے تو اس کام میں خطرہ ہی خطرہ نظر آتا ہے لیکن حفاظتی تدابیر کہیں نظر نہیں آتیں۔ ان مزدوروں کی اکثریت کے پاس ہیلمٹس، بوٹس اور دستانے موجود نہیں، کیونکہ کمپنی یہ دیتی نہیں اور جیب سے وہ یہ لیتے نہیں۔

Image caption جلتے ہوئے ٹینکر کے قریب موجود اس فائر برگیڈ گاڑی کا عملہ روایتی بلوچی قمیض شلور میں ملبوس تھا

محمد حکیم 20 سالوں سے یہاں بطور ویلڈر کام کر رہے ہیں، بقول ان کے اس کام میں خطرہ ضرور ہے اور یقیناً ڈر بھی لگتا ہے لیکن کیا کریں کیونکہ مجبوری ہے انھیں دوسرا کوئی کام بھی نہیں آتا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’کوئی حفاظتی سامان نہیں دیتے ہاں اگر چوٹ لگے اور کوئی معذور ہوجائے تو اس کو 50 سے 60 ہزار مل جاتے ہیں۔‘

اس جہاز سے صرف چند قدم دور واقع بحری ٹینکر سے دھواں بلند ہو رہا تھا یہاں پر بھی چار روز قبل خوشی کے مناظر تھے، لیکن غفلت اور لاپرواہی کا نتیجہ ایک تباہی کی صورت میں نکلا۔

نیلے پانی کے اس ساحل کے 15 کلومیٹر کی اراضی میں کوئی 142 یارڈز ہیں جہاں ناکارہ بحری جہازوں کو کاٹا جاتا ہے اور شپ بریکنگ اونرز ایسوسی ایشن کے 22 ارکان ہیں۔

یہاں مزدوروں کا واسطہ سیٹھ سے نہیں بلکے ٹھیکیدار سے پڑتا ہے جس کو جمعدار پکارا جاتا ہے۔ تمام کام کی نگرانی اس کے پاس ہوتی ہے۔

علی محمد نامی ایک مزدور نے بتایا کہ اس کام میں گیس اونچائی سے گرنے، آگ سے جھلسنے اور کوئی چیز اوپر گر جانے کا ہر وقت خطرہ رہتا ہے۔

ان کے مطابق: ’ہماری حفاظت اللہ کرتا ہے، کمپنی والے کچھ نہیں لے کر دیتے صرف ویلڈر کو دستانے اور چشمہ دیا جاتا ہے۔‘

ایک سینیئر مزدور کا کہنا تھا کہ حادثات کی ایک وجہ جلد بازی بھی ہے کیونکہ جو جہاز پہلے چھ ماہ یا سال میں کٹتا تھا اب وہ ایک ماہ میں کاٹ دیا جاتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ سیٹھ سکریپ کا پہلے سودہ کر لیتے ہیں اور اس بے ہنگم بے ترتیب کام کی وجہ سے حادثات ہوتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption گڈانی کے ساحل پر سمندر کے پانی کو چیرتا ہوا ایک بحری جہاز سیٹی دے کر اپنی آمد کا اعلان کرتا ہے اور کنارے پر مزدور الرٹ ہو جاتے ہیں

کام کے دوران اگر ٹانگ یا ہاتھ ٹوٹ جائے یا کوئی سنگین چوٹ لگے تو پھر ڈاکٹر کے پاس لے جایا جاتا ہے ورنہ وہاں ہی پٹی باندھ دی جاتی ہے۔

گڈانی تحصیل کی ڈیڑہ لاکھ آبادی کے لیے یہاں ایک دیہی صحت مرکز ہے جہاں دو ڈاکٹروں سمیت 18 افراد تعینات ہیں لیکن مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ دوا اور سٹاف دونوں ہی موجود نہیں ہوتے۔

اس صورتحال میں گڈانی شپنگ بریکنگ صنعت میں حادثے کا شکار ہونے والوں کو کراچی منتقل کیا جاتا ہے۔

حادثات میں ہلاک ہونے والے مزدوروں کے لواحقین سے معاملات طے کردیے جاتے ہیں، اس لیے مقدمات درج نہیں ہوتے۔ رواں سال ایک وقت ایسا بھی آیا کہ دو ماہ کے اندر آٹھ ایف آئی آر درج ہوئیں لیکن اس کے بعد افسر کا تبادلہ ہو گیا۔

شپ بریکنگ کے صنعتکاروں کی جانب سے کلینک یا فائر برگیڈ کا کوئی انتظام موجود نہیں۔ صرف ٹاؤن کمیٹی گڈانی کی ایک فائر برگیڈ گاڑی موجود ہے جس میں چار ہزار لیٹر پانی آتا ہے اور 20 سے 25 لیٹر فورم کی گنجائش موجود ہے۔

اس پر خطر علاقے کی یہ واحد گاڑی ہے پانی کا ٹینک حب سے فل کراتی ہے جہاں پہنچے میں اسے کم از کم 40 منٹ لگتے ہیں۔

جلتے ہوئے ٹینکر کے قریب موجود اس فائر برگیڈ گاڑی کا عملہ روایتی بلوچی قمیض شلور میں ملبوس تھا اور اس کے پاس وردی، ہیلمٹ، ماسک یا لانگ بوٹس سمیت ایسی کوئی سہولت موجود نہیں تھی جو عام طور پر فائر فائٹرز کے لیے لازمی سمجھی جاتی ہے۔

گاڑی کے ساتھ صرف ڈیڑھ سو فٹ پائپ موجود ہے جو جہاز تک پہنچانا ہی ممکن نہیں۔

Image caption وزیر اعظم نواز شریف نے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دی ہے

ملک کی دیگر صنعتوں کے برعکس یہاں پینے کے میٹھے پانی کی کوئی لائین نہیں۔ احتجاج میں شریک ایک مزدور کا کہنا تھا کہ سرمائے دار تو بوتل کا پانی پیتے ہیں اور ان جیسے غریب کنویں کا کھارا پانی پی رہے ہیں۔

وفاقی وزیر حاصل بزنجو نے جب یہ سوال شپ بریکنگ ایسوسی ایشن کے صدر دیوان رضوان سے کیا تو انھوں نے کہا کہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ پانی مہیا کرے۔

گڈانی کے مزدوروں کی صبح و شام سکریپ کے ارد گرد گزرتی ہے۔ صحت، ملازمت، سماجی تحفظ اور حفاظت کے بغیر مزدوروں کی زندگی بھی اسی سکریپ جیسی ہی ہے۔

وزیر اعظم نواز شریف نے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دی ہے، جس کی سربراہی وفاقی وزیر حاصل بزنجو کر رہے ہیں۔

کمیٹی کے کسی نتیجے پر پہنچنے سے قبل تین افسران کو معطل اور شپ بریکنگ صنعت کے صدر دیوان رضوان کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔

شپ بریکنگ مزدور یونین کے رہنما محمود احمدانی کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے ذمہ دار شپ بریکر اور کانٹریکٹر، ان سب کو گرفتار کیا جائے اس کے علاوہ محکمہ لیبر، ہیلتھ اینڈ سیفٹی اور محکمہ ماحولیات بھی اتنے ہی ذمہ دار ہیں ان کے خلاف بھی کارروائی ضروری ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں