کراچی میں فائرنگ کے تین مختلف واقعات میں پانچ افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اورنگزیب فاروقی نے صوبائی حکومت، ڈی جی رینجرز اور آئی جی سندھ پولیس سے مطالبہ کیا کہ ان واقعات کا فوری طور پر نوٹس لیا جائے

کراچی میں تین مختلف پرتشدد واقعات میں دو پیش اماموں سمیت پانچ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ پولیس کے مطابق مقتولین کو سر میں گولیاں مارکر ہلاک کیا گیا اور نائن ایم ایم پستول استعمال ہوا۔

شفیق موڑ کے قریب موٹر سائیکل سوار مسلح افراد کی فائرنگ میں تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ فیڈرل بی ایریا پولیس کو چشم دید گواہوں نے بتایا کہ دو موٹر سائیکلوں پر سوار حملہ آوروں نے چلتی بائیک پر مقتولین پر فائرنگ کی تھی۔

ہلاک ہونے والوں کی شناخت مولانا عثمان حیدری، محمد یعقوب اور شاہد رفیق کے نام سے ہوئی ہے۔ تینوں کی عمریں 25 اور 30 سال کے درمیان ہیں۔

پولیس کے مطابق مولانا عثمان حیدری گلستان جوہر موسمیات موڑ پر ایک مسجد کے پیش امام تھے اور ان کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے تھا اور تینوں مقتولین ایک دوسرے کے قریبی رشتے دار تھے۔

انھیں اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ مسجد صدیق اکبر نانگن چورنگی میں نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے بعد واپس جا رہے تھے۔

کالعدم اہل سنت و الجماعت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مولانا عثمان حیدری کا تعلق ان کی تنظیم سے تھا۔

تینوں لاشیں عباسی شہید ہپستال منتقل کی گئی جہاں اہل سنت و الجماعت کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد پہنچ گئی اور نعرے بازی کی۔

ایک دوسرے واقعے میں 30 سالہ شفیق الرحمان کو اس وقت فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا جب وہ نماز جمعہ کے بعد نانگن چورنگی صدیق اکبر مسجد سے گھر لوٹ رہے تھے۔

ایس ایچ او ذوالفقار حیدر کے مطابق موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے شفیق الرحمان کو حیدری مارکیٹ نارتھ ناظم آباد کے قریب نشانہ بنایا۔

اسی طرح پٹیل پاڑے میں فائرنگ کے ایک واقعے میں امین محمد نامی شخص ہلاک اور عبدالباقی زخمی ہوگئے۔ ایس ایچ او انعام جونیجو کے مطابق مقتول کا تعلق بلوچستان کے علاقے خصدار سے تھا اور انھیں نماز جمعہ کے بعد گھر واپسی پر نشانہ بنایا گیا۔

اہل سنت و الجماعت کا کہنا ہے کہ پانچوں مقتولین ان کے کارکن تھے اور انھیں نماز جمعہ کے بعد نانگن چورنگی مسجد صدیق اکبر کے باہر حرمین شریفین کی حمایت میں ریلی میں شرکت کے بعد واپس جاتے ہوئے نشانہ بنایا گیا ہے۔

کالعدم اہلسنت والجماعت کے صدر اورنگزیب فاروقی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انھوں نے حرمین شریفین کے تقدس کے لیے ایک بار پھر قربانی پیش کرکے ثابت کر دیا کہ وہ صرف دعویٰ نہیں کرتے عملی طور پر جانوں کا نذرانہ پیش کر کے اپنے دعویٰ کو ثابت بھی کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گذشتہ ایک ماہ کے دوران مجالس پر دو بار فائرنگ اور دستی بم حملے کیے گئے ہیں

انھوں نے صوبائی حکومت، ڈی جی رینجرز اور آئی جی سندھ پولیس سے مطالبہ کیا کہ ان واقعات کا فوری طور پر نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائیں۔

دوسری جانب اہل سنت و الجماعت کراچی کے صدر ربنوازحنفی، تاج محمد حنفی اور دیگر نے احتجاجی مظاہروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستانی افواج نے حرمین شریفین کی حفاطت کے لیے سعودی حکومت کا ساتھ دینے کا اعلان کررکھا ہے،اب وقت آچکا ہے کہ پاکستانی افواج حرمین شریفین کی حفاظت کے لیے تیار اور کمربستہ ہو جائے۔‘

انھوں نے حوثی باغیوں کی جانب سے مکہ پر میزائیل داغنے کی مذمت کی اور اعلان کیا کہ دفاع حرمین شریفین کی تحریک کو ایک بار پھر سرگرم کیا جائے گا اور دفاع حرمین شریفین کے تقدس کے لیے بھر پور ریلیاں نکالی جائیں گی۔

یاد رہے کہ چند سال قبل بحرین میں شیعہ آبادی کے احتجاج کے بعد کراچی میں دفاع حرمین شریفین ریلیاں نکالی گئی تھیں جبکہ شیعہ تنظیمیں بحرین کی شیعہ آبادی کی حمایت میں سڑکوں پر نکل آئی جس وجہ سے فرقہ ورانہ کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا تھا۔

گذشتہ ایک ماہ کے دوران مجالس پر دو بار فائرنگ اور دستی بم حملے کیے گئے ہیں جن میں ایک بچے اور ایک ہی خاندان کے تین افراد سمیت چھ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں