پاک انڈیا تعلقات کی بحالی کی امیدیں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی سات دہائیوں میں کئی بار دیکھنے کو ملی اور سفارتی حلقے اسے معمول قرار دیتے ہیں

11 ماہ قبل جب نریندر مودی پاکستان آئے تھے تو لگا تھا کہ دونوں ملک اب ایک اچھے ہمسائے کی طرح رہیں گے پٹھان کوٹ حملے کے بعد دوستی کو سنبھالنے کی بھی کوشش کی گئی لیکن انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی صورتحال، سرحدی کشیدگی،اوڑی حملے اور پھر سفارتی عملے کی ملک بدری کے اقدامات کے بعد اب لگتا ہے کہ تعلقات کا جلد بحال ہونا مشکل ہے۔

٭ ’گولہ بنکر پر گرے گا یا ہمارے اوپر؟‘

’دو برسوں میں پاکستان کے ساتھ سرحد کو سیل کر دیں گے‘

حکومتی سطح پر بیانات ہوں یا دونوں ممالک کے دفترخارجہ کی جانب سے دیے جانے والے مذمتی بیانات تعلقات کی بہتری کی کم ہی امید نظر آتی ہے لیکن سفارتی حلقوں میں اب بھی امید ظاہر کی جارہی ہے کہ پاکستان اور انڈیا کے کشیدہ تعلقات ماضی کو ایک بار پھر دہرائیں گے یعنی لڑائی جتنی بھی ہو جائے سفارتی رابطے پھر سے معمول پر آ جائیں گے۔

نوے کی دہائی میں انڈیا میں بطور ہائی کمشنر خدمات سرانجام دینے والے سفارتکار اشرف جہانگیر قاضی نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان اور انڈیا کے تعلقات میں سردمہری اور تناؤ کوئی نئی بات نہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ صورتحال کچھ عرصے کے لیے چلتی رہے گی میں نہیں سمجھتا کہ انڈیا مزید اشتعال انگیزی کی جانب جائے گا، دونوں ملک جوہری صلاحیت کے حامل ہیں، دونوں ملکوں کی قیادت کسی حد تک ناقص ہے لیکن اتنے پاگل نہیں کہ اس اشتعال کو مزید بڑھائیں، اس کا رسک وہ بالکل نہیں لیں گے۔‘

لیکن سابق سیکریٹری خارجہ ریاض احمد کھوکھر سمجھتے ہیں کہ انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے یہ سلسلہ شروع کیا۔

انھوں نے کہا کہ حالات کی خرابی کا ذمہ دار ہندوستان ہے۔

ریاض کھوکھر کا کہنا ہے کہ وزیراعظم مودی ملکی سیاست میں کامیابی اور انتخابات میں ووٹ حاصل کرنے کے لیے اس قسم کے اقدامات کر رہے ہیں۔

تو کیا سفارتی عملے کی گرفتاری، ملک بدری اور ایجنسیوں کے اہلکار ہونے کے الزامات کے بعد اب دونوں جانب تعلقات مزید ابتر ہوں گے؟

اس سوال کے جواب میں ریاض کھوکھر کا کہنا تھا کہ جب ہندوستان اور پاکستان میں تناؤ ہوتا ہے تو اس کا نزلہ سفارخانوں پر گرتا ہے۔ خفیہ ایجنسیاں جھوٹ موٹ کی کارروائی دکھانے کے لیے، پولیٹیکل اسٹیبلشمنٹ کو خوش کرنے کے لیےاس قسم کے کام کرتی ہیں، دیکھیں پاکستان کے اتنے لوگ نکالے گئے، پاکستان نے بھی جوابی کارروائی کی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا ہے کہ ایسی ہی صورتحال رہی تو سفارتخانے ڈاکخانے کا کام بھی نہیں کر سکیں گے، دونوں جانب عوام کو آمدورفت میں بھی مشکل ہوگی۔

ریاض کھوکھر کا خیال ہے کہ پہل انڈیا نے کی تھی اور صورتحال تب ہی ٹھیک ہو گی جب انڈیا یہ سوچ لے گا کہ وہ اسے ٹھیک کرنا چاہتا ہے۔

پاکستانی سفارتکاروں کا خیال ہے کہ بین الاقوامی برادی اور اقوامِ متحدہ اس سلسلے میں کوئی خاطر خواہ کردار ادا نہیں کر رہا۔

لیکن پاکستان میں کالعدم تنظیموں اور مذہبی سیاسی جماعتوں کی جانب سے کشمیر میں جہاد کی عملی حمایت پر انڈیا کا شکوہ کس قدر درست ہے کیا اب بھی پاکستان سابقہ پالیسی پر کاربند ہے؟

اس سوال کے جواب میں جہانگیر قاضی کا کہنا تھا کہ یہ پاکستان کے لیے ایک چیلینج ہے کہ کیا پاکستان کا ان عناصر پر کنٹرول نہیں ہے؟ وہ کہتے ہیں کہ یہی نکتہ پاکستان کے دلائل پر بھی اثر کرتا ہے کیونکہ ہم ایک جانب یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔

اسی بارے میں