کراچی میں قوال امجد صابری کے قتل میں ملوث دو ملزمان گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption وزیراعلیٰ سندھ نے ملزمان کی گرفتاری کا اعلان کیا

پاکستان کے صوبہ سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے دعویٰ ہے کہ کراچی میں فوج، رینجرز اور پولیس پر حملوں اور قوال امجد صابری کے قتل میں ملوث دو ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔

سید مراد علی شاہ نے پیر کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ نے لیاقت آباد سے اسحاق اور آصف کو بڑی تعداد میں اسلحے سمیت گرفتار کیا ہے اور ان کا تعلق لشکر جھنگوی نعیم بخاری گروپ سے ہے۔

انھوں نے بتایا کہ جائے وقوع سے ملنے والی گولیوں کے خول اور ملزمان سے ملنے والے اسلحے کی فورنسک ٹیسٹ کے بعد واردات میں ملزمان کے ملوث ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ملزمان نے 19 اکتوبر 2016 کو ناظم آباد میں ایک مجلس پر فائرنگ کی تھی، جس میں 5 افراد ہلاک ہوئے، اس کے علاوہ 17 اکتوبر 2016 کو ایف سی ایریا میں مجلس پر دستی بم پھینکا گیا جس میں بھی یہ گروہ ملوث تھا۔

سید مراد علی شاہ نے بتایا کہ 26 جولائی کو اسی گروہ نے صدر میں پارکنگ پلازہ کے قریب فائرنگ کر کے دو فوجی ہلاک کیے، اسی طرح 23 جون 2016 کو نامور قوال امجد صابری کی بھی ٹارگٹ کلنگ اسی گروہ نے کی تھی، اسی طرح 21 مئی 2016 میں عائشہ منزل میں دو پولیس کانسٹیبلز کو بھی اسی گروہ نے نشانہ بنایا۔

وزیراعلیٰ نے بتایا کہ جو اسلحہ برآمد ہوا ہے وہ 20 اپریل 2016 کو اورنگی میں پولیو ٹیموں کی حفاظت پر تعینات 7 پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے علاوہ تبت سینٹر پر دو فوجی جوانوں کی ہلاکت اور اتحاد ٹاؤن میں رینجرز کے 4 اہلکاروں پر حملے اور ہلاکت میں بھی استعمال ہوا۔

سید مراد علی شاہ کے مطابق ملزمان سے 3 ایس ایم جیز، 27 پستول، دو ایم پی فائیو، دستی بم، دھماکہ خیز مواد اور اسلحہ برآمد ہوا ہے۔

کراچی میں حالیہ گرفتاریوں کے بارے میں وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ پولیس کسی فرقے کے پیچھے نہیں دہشت گرد کے پیچھے گئی ہے اور جو جو کلیئر ہو رہے ہیں انھیں رہا کیا جا رہا ہے۔

وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ فیصل رضا عابدی سے غیر قانونی اسلحہ برآمد ہوا تھا جبکہ مرزا یوسف کے خلاف پہلے سے مقدمات درج تھے اور ان کا نام فورتھ شیڈول میں بھی شامل اس کے علاوہ تاج حنفی کو ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ’ پولیس کسی فرقے کے پیچھے نہیں دہشت گرد کے پیچھے گئی ہے‘

'جو صورتحال ہے اس کے پیش نظر ہم سمجھتے ہیں کہ اشتعال انگیزی میں ملوث ہو سکتا یا کسی دہشت گرد کی طرح معاونت کر رہا ہے تو اسے گرفتار کیا جا رہا ہے اگر کوئی کلیئر ہوتا ہے اس کو چھوڑا جا رہا ہے۔

امجد صابری کے قتل کی وجوہات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس میں ملوث عاصم ان کا پڑوسی ہے اور وجہ یہ ہی ہے کہ صابری تشیعہ مسلک سے تھے اور مجالس میں جاتے تھے۔