'افغان مونا لیزا' کو رات گئے ڈی پورٹ کر دیا گیا

شربت گلہ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

پاکستان نے نیشنل جیوگرافک کے میگزین سے 'افغان مونا لیزا' کے طور پر شہرت حاصل کرنے والی افغان خاتون شربت گلہ کو ڈی پورٹ کردیا ہے۔

خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے پاکستان میں رہنے کی پیشکش مسترد کیے جانے کے بعد شربت گلہ کو رات گئے افغانستان ڈی پورٹ کیا گیا۔

شربت گلہ پر چھ الزمات پر جرم ثابت ہوئے تھے جن میں پاکستان میں غیر قانونی رہائش، جعلسازی، دھوکہ دہی، دستاویز میں چھیڑ چھاڑ اور نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) قوانین کی خلاف ورزی شامل ہے۔

واضح رہے کہ انسداد بدعنوانی اور امیگریشن کی خصوصی عدالت نے شربت گلہ کو ڈی پورٹ کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔

سبز آنکھوں والی شربت گلہ کو 1985 میں نیشنل جیوگرافک کے میگزین میں شائع ہونے والی تصویر سے شہرت حاصل ہوئی تھی۔

عدالت نے شربت گلہ کو غیر قانونی طریقے سے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ حاصل کرنے کے الزام میں مجرم ٹھہرایا تھا اور انھیں 15 روز قید کے علاوہ جرمانہ بھی کیا گیا تھا۔

شربت گلہ اور افغان حکومت نے خیبر پختونخوا کی حکومت سے درخواست کی تھی کہ وہ نو نومبر کو شربت گلہ کی سزا ختم ہونے کے بعد ان کی افغانستان واپسی کے انتظامات کرے۔

گذشتہ ہفتے صوبائی حکومت نے انسانی بنیادوں اور افغانستان کے ساتھ جذبہ خیر سگالی کے اظہار کے لیے شربت گلہ کو ڈی پورٹ کرنے کا فیصلہ منسوخ کردیا تھا۔ تاہم خود شربت گلہ نے پاکستان میں مزید قیام سے انکار کردیا تھا۔

اسی بارے میں