’پاکستان امریکہ کی نئی قیادت کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AAMIR QURESHI
Image caption پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا کا کہنا ہے کہ 'پاکستان اور امریکہ کے معاملات نہ صرف دو طرفہ ہیں بلکہ خطے کے تناظر میں ہیں۔‘

پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا کا کہنا ہے کہ امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ پاکستان مشترکہ مفادات کے لیے مل کر کام کرنے اور دو طرفہ تعلقات کو وسعت دینے کے لیے تیار ہے۔

دفترِ خارجہ میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران اُنھوں نے بتایا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان جو سٹریٹیجک ڈائیلاگ ہے اُس کے چھ نکات ہیں جن میں اقتصادی اور دفاعی تعاون، انسدادِ دہشت گردی، تزویراتی شعبوں میں تعاون اور سائنس اور تعلیم میں مدد شامل ہے۔

پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا کا کہنا ہے کہ ’پاکستان اور امریکہ کے معاملات نہ صرف دو طرفہ ہیں بلکہ خطے کے تناظر میں ہیں اور بین الاقوامی سطح پر بھی ہیں اور اِن معاملات پر پاکستان کا امریکہ سے اختلاف اور اتفاقِ رائے دونوں ہوتا ہے۔‘

افغان حکومت کے اُس الزام پر کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتا ہے، نفیس زکریا کا کہنا تھا کہ رواں سال جولائی کے مہینے سے لے کر اب تک افغانستان میں صرف حقانی نیٹ ورک کے آٹھ کمانڈر یا رہنما نیٹو فورسز، افغان فورسز یا مقامی پولیس کے ہاتھوں مارے جا چکے جو کہ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ حقانی نیٹ ورک یا اُس کی قیادت کس ملک میں موجود ہے۔

ترجمان پاکستانی دفترِ خارجہ نے بتایا کہ سعودی فضائیہ کے کمانڈر جنرل محمد بن صالح العتیبی نے پاکستان کے دورے کے دوران پاکستان کے جے ایف سیونٹین تھنڈر اور سپر مشاق تربیتی جہازوں کی خریداری میں دلچسپی ظاہر کی ہے اور دونوں ملکوں کے متعقلہ حُکام اِس سلسلے میں رابطے میں ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں