گورنر کی تبدیلی ’دہشت گردی کے خاتمے کی علامت‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption میں مسلم لیگ ن نے انھیں سابق صدر آصف علی زرداری کے مقابلے میں اپنا امیدوار نامزد کیا تھا

پاکستان کے صوبہ سندھ کے گورنر ڈاکٹر عشرت العباد کی سبکدوشی کو مسلم لیگ ن کی صوبائی قیادت نے دہشت گردی کی آخری علامت کا خاتمہ قرار دیا ہے، اور کہا ہے کہ جسٹس ریٹائرڈ سعید الزمان صدیقی کی تعیناتی جمہوریت اور آئین کی درست علامت ہے۔

* عشرت العباد کی جگہ سعید الزماں صدیقی گورنر سندھ مقرر

سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس سعید زمان صدیقی نے جمعے کو صوبہ سندھ کے گورنر کے عہدے کا حلف اٹھایا، ان سے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ نے حلف لیا۔

خیال رہے کہ سابق گورنر عشرت العباد گذشتہ شب تقریب سے قبل ہی دبئی روانہ ہوگئے تھے۔ وہ 13 سال تک اس عہدے پر فائز رہے۔

حلف برداری کے بعد مسلم لیگ ن کے سینیٹر نہال ہاشمی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آج صحیح معنوں میں پاکستان کے عوام اور جمہوری نظام کا حلف ہوا ہے اس سے پہلے آمریت کے دور کے لوگ تھے۔

’آج الطاف حسین کے دور کا خاتمہ ہوگیا آج پاکستان کو نہ ماننے والوں کے دور کا خاتمہ ہوا، آج سے 14 سال پہلے مشرف کے دور میں ایسے لوگوں نے یہاں ڈیرے ڈالے تھا جو پاکستان کے مخالف تھے۔ دہشت گرد تنظیم نے ڈیرہ ڈالا تھا آج دہشت کی آخری علامت بھی ہٹادی گئی ہے اور آج مسلم لیگ ن یہاں ڈیرہ ڈالا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption عشرت العباد 13نے سال تک گورنر سندھ کی ذمہ داریاں ادا کیں

دوسری جانب وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے واضح کیا ہے کہ نہال ہاشمی کا بیان ان کی ذاتی رائے ہے اس سے پارٹی کا کوئی تعلق نہیں تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کیا اس بیان پر نہال ہاشمی سے وضاحت طلب کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ سندھ کے 80 سالہ گورنر سعید الزمان صدیقی سپریم کورٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد ان دنوں کانفلیکٹ ریزولیوشن سینٹر نامی قانونی ادارہ چلانے کے علاوہ ڈیفنس ریزیڈنسی ایسو سی ایشن میں سرگرم تھے۔ 2008 میں مسلم لیگ ن نے انھیں سابق صدر آصف علی زرداری کے مقابلے میں اپنا امیدوار نامزد کیا تھا۔

جسٹس ریٹائرڈ سعید الزمان صدیقی کی پیدائش یکم دسمبر 1937 کو کلکتہ میں ہوئی، انھوں نے ابتدائی تعلیم لکھنو میں حاصل کی اور اس کے بعد ان کا خاندان ڈھاکہ منتقل ہوگیا جہاں سے انھوں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا اور ڈھاکہ سے کراچی آگئے۔ یہاں انھوں نے کراچی یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔

1970 کی دہائی میں وہ بار کی سیاست میں سرگرم رہے اور 1980 میں انھیں سندھ ہائی کورٹ کا جج تعینات کیا گیا، 1990 میں وہ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بنے لیکن یہ عرصہ صرف ایک ماہ پر محیط تھا اس کے بعد انھیں سپریم کورٹ میں جج تعینات کیا گیا۔

سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس سجاد علی شاہ اور اس وقت کی میاں نواز شریف حکومت میں اختلافات سامنے آئے تو سعید الزمان صدیقی کی سربراہی میں 10 رکنی بینچ نے سجاد علی شاہ کو معطل کیا تھا، جس کے بعد جسٹس اجمل میاں چیف جسٹس بنے اور بعد میں جسٹس سعید الزمان صدیقی نے یہ جگہ لی تھی۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ کے اہم اصغر خان کیس کی سماعت بھی جسٹس سعید الزمان صدیقی نے کی تھی لیکن فیصلہ محفوظ کرلیا گیا تھا، یہ درخواست اسلامی جمہوری اتحاد بنا کر سیاستدانوں کو پیسے تقسیم کرنے کے خلاف دائر کی گئی تھی۔

میاں نواز شریف کی حکومت کی برطرفی کے بعد جنرل مشرف کی جانب سے جاری کیے گئے عبوری آئینی حکم کے تحت جسٹس سعید الزمان صدیقی نے حلف نہیں لیا تھا جس کے بعد انھیں فارغ کردیا گیا۔

ایک انٹرویو میں جسٹس سعید الزمان نے جنرل پرویز مشرف سے اختلافات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا تھا کہ جب شریعت کورٹ نے سود کے خلاف فیصلہ دیا تو جنرل مشرف نے انھیں کہا تھا کہ وہ انھیں غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں لیکن انھوں نے واضح کیا تھا کہ یہ درخواست 1999 سے دائر تھی فیصلہ اب آیا ہے۔

اسی بارے میں