مولانا محمد احمد لدھیانوی ضمنی انتخابات کے لیے نااہل: لاہور ہائی کورٹ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

لاہور ہائی کورٹ نے اہلسنت والجماعت کے سربراہ مولانا محمد احمد لدھیانوی کو پنجاب کے شہر جھنگ کی صوبائی اسمبلی کی نشست پر ہونے والے ضمنی انتخابات کے لیے نااہل قرار دے دیا۔

ہائی کورٹ نے اسی نشست کے لیے سابق رکن پنجاب اسمبلی راشدہ یعقوب کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کے فیصلے کو بھی کالعدم قرار دے دیا۔

مولانا محمد احمد لدھیانوی اور راشدہ یعقوب جھنگ سے پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 78 کے لیے امیدوار تھے۔ اس حلقے میں یکم دسمبر 2016 کو ضمنی انتخابات ہونے ہیں۔

لاہور ہائی کورٹ نے یہ احکامات مسلم لیگ ن کے امیدوار شیزار اکرم کی ایک ہی طرح کی دو الگ الگ اپیلوں پر دیے جن میں مولانا احمد لدھیانوی اور راشدہ یعقوب کے کاغذات نامزدگی کو چیلنج کیا گیا۔

پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 78 کی نشست مسلم لیگ نون کی خاتون رکن اسمبلی راشدہ یعقوب کی نااہلی کہ وجہ سے خالی ہوئی۔

سماعت کے دوران شیزار اکرم کے وکیل نے یہ اعتراض اٹھایا کہ مولانا محمد احمد لدھیانوی کا نام فورتھ شیڈول میں شامل ہے اور ان کے خلاف ایک درجن کے قریب مقدمات درج ہیں۔

وکیل نے یہ بھی بتایا کہ مولانا محمد احمد لدھیانوی کے 2013 کے عام انتخابات میں جمع کرائے گئے کاغذات نامزدگی اور موجودہ کاغذات نامزدگی میں جائیداد کی ملکیت کے بارے میں تضاد ہے۔

مسلم لیگ ن کے امیدوار کی اپیلوں پر لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس قاسم خان اور جسٹس شمس محمود مرزا پر مشتمل بنچ نے سماعت کی۔

شیراز اکرم کے وکیل نے اعتراض کیا کہ راشدہ یعقوب کو اثاثے ظاہر نہ کرنے پر نا اہل قرار دیا گیا لیکن نااہلی کے باوجود ان کے کاغذات نامزدگی کو منظور کر لیا گیا۔

وکیل کے مطابق نااہلی کی وجہ سے اب راشدہ یعقوب ضمنی انتخاب میں حصہ لینے کی اہل نہیں رہیں۔

مسلم لیگ ن کے امیدوار نے استدعا کی کہ مولانا محمد احمد لدھیانوی اور راشدہ یعقوب کے کاغذات نامزدگی مسترد کر کے انھیں نااہل قرار دیا جائے۔

مولانا محمد احمد لدھیانوی کے وکیل نے اپیل کی مخالفت کی اور نکتہ اٹھایا کہ محض مقدمہ درج ہونے سے کوئی انتخابات میں حصہ لینے سے نااہل نہیں ہوجاتا اس لیے مولانا محمد احمد لدھیانوی کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کے خلاف اپیل مسترد کی جائے۔

فریقین کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے مولانا محمد احمد لدھیانوی اور راشدہ یعقوب کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کے خلاف اپیلیں منظور کر لیں اور دونوں امیدواروں کو نااہل قرار دے دیا۔

اسی بارے میں