سندھ رینجرز کا کالعدم تنظیم کے سربراہ کو ہلاک کرنے کا دعویٰ، صوبائی وزیر لاعلم

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رینجرز کے مطابق گذشتہ رات اینٹی ٹیررسٹ فورس نے حساس اداروں کی معلومات پر حب کے علاقے میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر کارروائی کی

سندھ رینجرز نے بلوچستان کے سرحدی علاقے حب میں ایک مقابلے کے بعد کالعدم تنظیم جنداللہ کے امیر کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ بلوچستان کے صوبائی وزیر سرفراز بگٹی نے واقعے سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔

ہلاکت کی خبر جمعہ کی صبح میڈیا پر سامنے آئی لیکن رینجرز کی جانب سے رات گئے اعلامیے میں ہلاکت کی باضابطہ تصدیق کی گئی ہے۔

تاہم صوبائی وزیر داخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی نے واقعے سے لاعلمی کا اظہار کیا اور حکومتی ترجمان انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ سرحدی علاقے میں پیش آیا ہے، تاہم انھوں نے واضح نہیں کیا کہ اس حوالے سے صوبائی حکومت کو آگاہ کیا گیا تھا یا نہیں۔

رینجرز کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ رات اینٹی ٹیررسٹ فورس نے حساس اداروں کی معلومات پر آپریشن کے دوران حب کے علاقے میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر کارروائی کی۔ فائرنگ کے تبادلے میں انتہائی مطلوب دہشت گرد کالعدم تنظیم جنداللہ کے امیر اور تحریک طالبان سندھ کے نامزد امیر ثاقب عرف عارف کو ہلاک کر دیا۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ ملزم القاعدہ، جماعت الحرار اور داعش کے ساتھ مل کر دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’کراچی کے سابق کور کمانڈر جنرل احسن سلیم کی گاڑی پر گھات لگا کر حملے، کوئٹہ میں متحدہ مجلس عمل کے رہنما مولانا فضل رحمان پر خودکش حملے، سابق صدر آصف علی زرداری کے چیف سکیورٹی افسر بلال شیخ پر قاتلانہ حملے کے علاوہ چرچ اور اقلیتوں پر حملے میں ملزم شامل تھا۔‘

رینجرز اعلامیے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مذکورہ شدت پسند رینجرز ہیڈ کوارٹر کراچی اور سپیشل سکیورٹی یونٹ پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ تاہم اعلامیے میں یہ واضح نہیں کیا کہ ٹھکانے پر چھاپے کے وقت دیگر شدت پسند موجود تھے یا وہ فرار ہو گئے۔

رینجرز حکام کا کہنا ہے کہ مشتبہ دہشت گرد کا ٹھکانا زیر زمین بنایا گیا تھا جو بارودی مواد اور آئی ڈیز بنانے کی فیکٹری کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ ٹھکانے سے بھاری تعداد میں خود کار اسلحہ، بارود، دستی بم اور آئی ای ڈیز بنانے کا سامان برآمد ہوا ہے۔

رینجرز کی جانب سے مشتبہ دہشت گرد کی زندگی اور ہلاکت کے بعد کی تصاویر بھی جاری کی گئی ہیں، ہلاکت کی تصویر میں ملزم کے سینے پر گولیاں لگی ہوئی ہیں اور نصف جسم برہنہ ہے۔

واضح رہے کہ دو روز قبل اسی علاقے سے چند کلومیٹر دور تین مشتبہ ملزمان کو مقابلے میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا، جن کا تعلق داعش اور تحریک طالبان سے بتایا گیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں