ایک ’محبِ وطن‘ گورنر کی تقرری

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سید الزماں صدیقی صدارتی امیدوار بھی رہے ہیں

قاعدے سے تو چیف جسٹس ریٹائرڈ سعید الزماں صدیقی کو اس وقت صدرِ پاکستان ہونا چاہیے تھا لیکن جب 2008 میں انھیں مسلم لیگ نواز اور جماعتِ اسلامی مشترکہ صدارتی امیدوار کے طور پر سامنے لائی تو اس وقت مدِ مقابل آصف علی زرداری تھے۔

جب 2013 میں تقریباً فیصلہ ہوگیا کہ صدیقی صاحب ہی تیسری بار برسرے اقتدار آنے والی مسلم لیگ نواز کے صدارتی امیدوار ہوں گے تو اس وقت کسی نے وزیرِ اعظم نواز شریف کے کان میں پھونک دیا کہ ان سے بہتر تو ممنون حسین رہیں گے جو خود کو ہمیشہ نواز شریف کا سپاہی کہتے رہے ہیں۔

حالانکہ سعید الزماں صدیقی نے بھی ریٹائر منٹ سے پہلے اور بعد میں ہاں سننے کے عادی نواز شریف کو کسی موڑ پر نہ نہیں کی۔ مثلاً جب غلام اسحاق خان نے نواز شریف کی پہلی حکومت 'میں ڈکٹیشن نہیں لوں گا' سننے کے بعد 18 اپریل 1993 کو برطرف کی تو سپریم کورٹ کے جس گیارہ رکنی بنچ نے نواز حکومت کو بحال کیا اس میں جسٹس سعید الزماں صدیقی بھی شامل تھے۔

واحد مخالف آواز جسٹس سجاد علی شاہ کی تھی۔

یہی جسٹس سجاد علی شاہ جب بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور میں چیف جسٹس بنائے گئے اور صدر فاروق لغاری کے ہاتھوں بے نظیر حکومت کی دوسری برطرفی ہوئی تو دو تہائی اکثریت سے دوسری بار وزیرِ اعظم بننے والے نواز شریف کو ایک آنکھ نہ بھانے والے سجاد علی شاہ آئینی جہیز کے ساتھ ملے۔

دونوں نے ایک دوسرے کو یاد رکھا ہوا تھا ۔چنانچہ جب سجاد علی شاہ نے ایک مقدمے میں وزیرِ اعظم کو بنفسِ نفیس سپریم کورٹ کے کمرہ نمبر ایک میں پیش ہونے کے لیے طلب کیا تو گویا اونٹ کی کمر پر آخری تنکا ٹوٹ گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

اس زمانے میں قومی اسمبلی کے سپیکر گوہر ایوب خان اپنی کتاب 'اقتدار کی غلام گردشوں کی جھلکیاں' میں لکھتے ہیں کہ پانچ نومبر 1997 کو پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر ایک اجلاس میں مجھے بلایا گیا جس میں یہ غور ہونا تھا کہ خود سر چیف جسٹس کو کسی طرح قومی اسمبلی کی استحقاق کمیٹی کے روبرو لایا جا سکتا ہے۔ میں نے کہا کہ اس بارے میں پارلیمانی قواعد و ضوابط خاموش ہیں۔

اجلاس کے بعد وزیرِ اعظم نے مجھے اپنی گاڑی میں بٹھا لیا اور پوچھا 'گوہر صاحب کوئی طریقہ بتائیں کہ چیف جسٹس کو ایک رات کے لیے جیل میں رکھا جا سکے۔' میں یہ بات سن کر مبہوت ہوگیا اور کہا کہ ایسا کبھی سوچیے گا بھی نہیں۔

اس دوران شریف خاندان کے خاندانی دوست سپریم کورٹ کے سابق جج رفیق تارڑ صاحب کو یہ کام سونپا گیا کہ اس امکان کا جائزہ لیا جائے کہ برادر جج چیف جسٹس کی معزولی کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔

ستائیس نومبر کو وزیرِ اعظم کی توہینِ عدالت کیس میں چیف جسٹس کی تین رکنی عدالت میں پیشی تھی۔

مگر وزیرِ اعظم کے بجائے جوشیلوں کا ایک غول کورٹ نمبر ون میں داخل ہوگیا، اٹھا پٹخ شروع ہو گئی اور چیف جسٹس کو اپنی سماعت ادھوری چھوڑنا پڑی۔ چیف جسٹس نے آئین کی تیرہویں ترمیم معطل کر کے منسوخ شدہ اٹھاون ٹو بی کو بحال کردیا جس کے تحت صدرِ مملکت حکومت اور پارلیمنٹ برخاست کر سکتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PID

مگر چند ہی منٹ میں ایک بغلی کمرے میں بیٹھے سپریم کورٹ کے دس رکنی بنچ نے جسٹس سعید الزماں صدیقی کی سربراہی میں چیف جسٹس کے تین رکنی بنچ کا حکم معطل کردیا۔ سپریم کورٹ دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔ ایک کمرہِ عدالت سے دوسرے کمرے تک ہرکارے دوڑنے لگے اور احکامات و ردِ احکامات جاری ہونے لگے۔

المختصر یہ کہ دو دسمبر کو برادر ججوں نے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کو معزول کردیا اور جسٹس اجمل میاں نے نئے چیف جسٹس کا حلف اٹھایا۔ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد سعید الزماں صدیقی چیف جسٹس بنے (جنہوں نے بعد میں پرویز مشرف کی جانب سے عبوری آئینی حکم کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کردیا اور انھیں فارغ کردیا گیا)۔

جسٹس ریٹائرڈ رفیق تارڑ کی عظیم عدالتی خدمات کے عوض مسلم لیگ ن نے انھیں چیف جسٹس سجاد علی شاہ کی برطرفی کے انتیس روز بعد بھاری پارلیمانی اکثریت سے صدرِ مملکت منتخب کر لیا۔

انتہائی شریف النفس سعید الزماں صدیقی نے گذشتہ روز جب بطور گورنر سندھ حلف اٹھایا تو ایک نیا ریکارڈ یہ بنا کہ سندھ کے سب سے کم عمر سابق گورنر عشرتِ العباد کے ریکارڈ چودہ سالہ دور کے خاتمے پر سندھ کے سب سے معمر 79 سالہ گورنر کا دور شروع ہوگیا۔ عمر کے فرق کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ جس برس (1963 ) عشرت العباد دنیا میں تشریف لائے سعید الزماں صدیقی بطور وکیل ہائی کورٹ میں پریکٹس کر رہے تھے۔

حاسدین کہتے ہیں کہ آنرایبل صدیقی صاحب عمر کے جس حصے میں ہیں وہ گورنری کا بوجھ اٹھانے کے بجائے سیاستدانوں کی نئی پود کو اپنے سایہِ شفقت میں رکھ کے آشیر واد دینے کی عمر ہے۔ مگر حاسدین کو یہ بات اس وقت یاد نہ آئی جب قائم علی شاہ صاحب 86 برس کی عمر میں بادلِ نخواستہ سبکدوش ہونے پر آمادہ کیے گئے۔

ویسے بھی گورنر کا کام علامتی ہے اور بزرگ تو شجرِ سایہ دار ہوتے ہیں۔اس گورنر ہاؤس نے تو وہ دور بھی دیکھا ہے جب یہ عمارت گورنر جنرل ہاؤس ہوا کرتی تھی اور اس میں جناح صاحب اور خواجہ ناظم الدین کے بعد ملک غلام محمد بھی چار برس قیام پذیر رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عشرت العباد مشرف کے دورۂ حکومت میں گورنر بنے

اور وہ بھی اس حالت میں کہ فالج کے سبب ملک صاحب کی قوتِ گویائی اس قدر متاثر تھی کہ ان کے منہ سے جو غوغا برآمد ہوتا تھا اسے الفاظ کا جامہ پہنانے کا کام پرسنل سیکرٹری محترمہ روتھ بوریل کے سوا کسی کے بس میں نہیں تھا۔روتھ غلام محمد کی نیم مفلوج انگلیوں میں قلم پھنسا کر دستاویزات پر دستخط کروانے کی بھی ماہر تھیں۔مگر بے بس گورنر جنرل کسی طور سبکدوش ہونے پر آمادہ نہیں تھے۔

گو ہاتھ میں جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے

رہنے دو ابھی ساغر و مینا میرے آگے

چنانچہ ایک روز وزیرِ داخلہ اسکندر مرزا اور وزیرِ دفاع جنرل ایوب خان کی صلاح سے گورنر جنرل کو سیر کے بہانے گاڑی میں سوار کروا کے ایک نجی رہائش گاہ پہنچایا گیا اور ریڈیو سے اعلان ہوگیا کہ گورنر جنرل علالت کے سبب دو ماہ کی رخصت پر چلے گئے ہیں ان کی جگہ میجر جنرل سکندر مرزا قائم مقام ہوں گے۔

یہ کہانی سنانے کا مقصد یہ ہے کہ نئے گورنر صاحب عمر رسیدگی کے باوجود ماشااللہ چاق و چوبند ہیں۔یہ تو محض اتفاق ہے کہ کل حلف برداری کے بعد وہ تھکن کے سبب قائدِ اعظم کے مزار پر روایتی حاضری نہ دے سکے۔ مگر قائد کا مزار کہیں بھاگا تھوڑی جا رہا ہے۔آج نہیں تو کل حاضری ہو جائے گی۔ نہ بھی ہو تو کیا فرق پڑتا ہے۔ فاتحہ تو کہیں سے بھی پڑھی جا سکتی ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ مسلم لیگ نواز کے سینیٹر نہال ہاشمی کے بقول گورنر ہاؤس نے چودہ برس بعد کوئی محبِ وطن گورنر دیکھا ہے جس نے پاکستان بنتے دیکھا۔ورنہ تو یہ گورنر ہاؤس غیر محبِ وطن عناصر کا گڑھ بنا ہوا تھا۔

کیا ریاستی مروت کی اس سے زیادہ شاندار مثال کہیں ملے گی؟ سبحان اللہ۔۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں