خضدار میں شاہ نورانی کے مزار میں دھماکہ، کم از کم 54 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
ضلع خضدار میں دربار شاہ نورانی میں دھماکے کے نتیجے میں 52 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ضلع خضدار میں دربار شاہ نورانی میں دھماکے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے زائرین کی تعداد 54 ہو گئی ہے۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے سرفراز بگٹی نے کہا کہ اس دھماکے میں ایک سو سے زیادہ زائرین زخمی بھی ہوئے ہیں۔

انھوں نے عندیہ دیا کہ اس دھماکے کے پیچھے بیرونی ہاتھ ملوث ہو سکتا ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ہلاک شدگان کے ورثا کے لیے پانچ، پانچ لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا ہے جبکہ شدید زخمی ہونے والوں کو دو لاکھ اور معمولی زخمیوں کو ایک ایک لاکھ روپے امداد دی جائے گی۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان ثنا اللہ زہری نے درگاہ شاہ نورانی کو عارضی طور پر بند کرنے کا حکم دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سکیورٹی کے انتظامات تک درگاہ بند رہے گی اور اسے محکمہ اوقاف کے سپرد کیا جائے گا۔

اس واقعے میں زخمی ہونے والے افراد کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ بعض شدید زخمیوں کو کراچی لے جایا گیا ہے۔

٭ کوئٹہ کے سول ہسپتال میں دھماکہ، '69 افراد ہلاک'

٭ کوئٹہ میں خودکش دھماکہ، دس ہلاک

ادھر آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے شاہ نورانی درگاہ دھماکے کے تناظر میں سندھ بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر میں صوفیائے کرام کے مزاروں کی سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جائیں۔ گذشتہ روز صوبائی ترجمان انوار الحق کاکڑ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شاہ نورانی کا علاقہ خضدار سینٹر سے 300 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے جس کی وجہ سے رابطے کی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اندھیرا ہونے کے باعث امدادی کاموں میں مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Umair Shaikh

شاہ نورانی کے تحصیل دار جاوید اقبال نے نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا ’ہفتہ اور اتوار کو کراچی سے لوگ درگاہ پر آتے ہیں جس کے باعث زائرین کی بڑی تعداد موجود تھی۔‘

برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز سے بات کرتے ہوئے شاہ نورانی مزار کے نگراں نواز علی نے بتایا کہ روزانہ غروب آفتاب سے کچھ دیر قبل دھمال ہوتا ہے اور اس کے لیے زائرین کی بڑی تعداد آتی ہے۔

امدادی ٹیمیں

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کراچی کے ایک ہسپتال میں شعبہ حادثات کا عملہ دربار شاہ نورانی کے زخمیوں کی آمد کے انتظار میں

صوبائی وزیرِ صحت رحمت صالح نے بتایا کہ ایمبولنسیں علاقے میں بھجوا دی گئی ہیں اور فلاحی ادارے بھی امدادی سرگرمیوں میں مدد کر رہے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ تمام زخمیوں کو منتقل کیا جا چکا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ اندھیرے کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں اور زخمیوں کو حب اور کراچی منتقل کیا جا رہا ہے۔

امدادی کارکن فیصل ایدھی نے بی بی سی کی حمیرا کنول سے بات کرتے ہوئے بتایا ’شام چھ بجے دھماکے کی اطلاع ملی تھی اور ہم نے 50 ایمبولینس بھجوائی ہیں۔ یہ ایمبولینسیں آٹھ بجے پہنچی ہیں اور یہ کراچی تقریباً 10 بجے پہنچیں گی۔ ہمارے 150 کارکنان امدادی کام کر رہے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ دربار شاہ نورانی کے خلیفہ نے ان کو بتایا ہے کہ اس دھماکے میں کم از کم 30 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

دربار شاہ نورانی

شاہ نورانی انتظامی طور پر ضلع خضدار کی تحصیل وڈھ کا حصہ ہے۔ شاہ نورانی میں سید بلاول شاہ نورانی کا مزارہے جہاں ہر وقت کراچی اور سندھ کے دیگر علاقوں سے زائرین کی ایک بڑی تعداد آتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Flickr

مزار کی جگہ زیادہ کشادہ نہیں ہے جس کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد زیادہ ہوسکتی ہے۔ شاہ نورانی کے مزار میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

بلوچستان میں رواں سال کے دوران یہ تیسرا بڑا خود کش واقعہ ہے اس سے قبل کوئٹہ میں سیٹلائٹ ٹاؤن، سول ہسپتال کوئٹہ اور پولیس ٹریننگ کالج پر خود کش حملے ہوئے تھے۔

شاہ نورانی میں رونما ہونے والے اس واقعہ سے قبل بلوچستان میں پانچ خود کش حملے ہوئے تھے جن میں مجموعی طور پر 167افراد ہلاک اور 250سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

گذشتہ پانچ خود کش حملوں میں زیادہ تر ہلاک ہونے والوں میں پولیس اہلکار اور وکلا شامل تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں