چین سے کنٹینروں کا قافلہ انتہائی سخت سکیورٹی میں گوادر پہنچ گیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سکیورٹی کے دیگر اقدامات کے علاوہ بلوچستان کے ان علاقوں میں فضائی نگرانی بھی کی جاتی رہی جہاں امن و امان کی صورتحال زیادہ خراب ہے

پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی راہداری کی مناسبت سے چین سے کنٹینروں کے قافلے انتہائی سخت سکیورٹی میں بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر پہنچ گئے۔

کنٹینروں کا یہ قافلہ یکم نومبر کو چین سے پاکستان میں داخل ہوا تھا۔

یہ کنٹینر چھ نومبر کو بلوچستان کے خیبر پختونخوا سے متصل ضلع ژوب میں داخل ہوئے تھے جو اقتصادی راہداری کے مجوزہ مغربی روٹ کے مختلف علاقوں کوئٹہ ، قلات، سوراب ، پنجگور اور کیچ سے ہوتے ہوئے گوادر پہنچے۔

بلوچستان کے مختلف علاقوں سے چینی کنٹینروں کے قافلے کو انتہائی سخت سکیورٹی میں گزارا گیا۔

گوادر میں ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ چینی کنٹینروں میں سے 80 گذشتہ روز پہنچے تھے جبکہ 84 کنٹینر آج پہنچے ہیں۔

کنٹینروں کے قافلے کے ساتھ نہ صرف فوج اور دیگر سکیورٹی سے متعلق اداروں کی ایک بھاری نفری تھی بلکہ مختلف علاقوں میں اس کی سکیورٹی کے لیے خصوصی انتطامات بھی کیے گئے تھے۔

مختلف علاقوں سے ان کو گزارنے کے لیے کئی گھنٹوں تک عام ٹریفک کو روکا گیا جس کی وجہ سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

سکیورٹی کے دیگر اقدامات کے علاوہ بلوچستان کے ان علاقوں میں فضائی نگرانی بھی کی جاتی رہی جہاں امن و امان کی صورتحال زیادہ خراب ہے۔

ان چینی کنٹینروں میں جو سامان لایا گیا ہے وہ گوادر سے بذریعہ بحری جہاز مشرقی وسطیٰ اور افریقی ممالک کو بھجوایا جائے گا۔

اس سامان کو لے جانے کے لیے چین سے ایک بحری جہاز گوادر بھی پہنچ چکا ہے۔

سرکاری حکام کے مطابق اقتصادی راہداری کے پہلے قافلے کے گوادر پہنچنے اور وہاں سے برآمد کے آغاز پر اتوار کو گوادر میں افتتاحی تقریب کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس میں اعلیٰ سول و عسکری قیادت اور 15 ممالک کے سفیر بھی شریک ہوں گے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں