سی پیک منصوبے کے تحت گوادر پورٹ کا افتتاح، پہلا قافلہ روانہ

Image caption سی پیک تمام صوبوں کا منصوبہ ہے اور اس میں کسی بھی صوبے کو نہیں نظر انداز نہیں کیا جائے گا: وزیراعظم

پاکستان کے وزیراعظم محمد نواز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنے جیو سٹریٹیجک مقام کو جیو اکنامک حب بنانا چاہتا ہے۔

انھوں نے یہ بات بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں تجارتی بندرگاہ کے افتتاح کی تقریب سے خطاب کے دوران کہی۔ اس تقریب میں گورادر کے ذریعے بندرگاہ سے برآمدات کا سلسلہ باضابطہ طور پر شروع ہو گیا ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی راہداری کی مناسبت سے چین سے کنٹینروں کے قافلے انتہائی سخت سکیورٹی میں بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر پہنچے تھے۔ کنٹینروں کا یہ قافلہ یکم نومبر کو چین سے پاکستان میں داخل ہوا تھا۔

اس موقعے پر اپنے خطاب میں وزیرِاعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کی اقتصادی راہداری کے ہر پروجیکٹ کو جلد از جلد مکمل کرنے کے لیے ان کی حکومت ہر ممکن کوشش کرے گی۔ انھوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے دشمن، پاکستان کے دشمن ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا سی پیک تمام صوبوں کا منصوبہ ہے اور اس میں کسی بھی صوبے کو نہیں نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سکیورٹی کے دیگر اقدامات کے علاوہ بلوچستان کے ان علاقوں میں فضائی نگرانی بھی کی جاتی رہی جہاں امن و امان کی صورتحال زیادہ خراب ہے

یہ کنٹینر چھ نومبر کو بلوچستان کے خیبر پختونخوا سے متصل ضلع ژوب میں داخل ہوئے تھے جو اقتصادی راہداری کے مجوزہ مغربی روٹ کے مختلف علاقوں کوئٹہ ، قلات، سوراب ، پنجگور اور کیچ سے ہوتے ہوئے گوادر پہنچے۔

بلوچستان کے مختلف علاقوں سے چینی کنٹینروں کے قافلے کو انتہائی سخت سکیورٹی میں گزارا گیا۔

گوادر میں ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ چینی کنٹینروں میں سے 80 گذشتہ روز پہنچے تھے جبکہ 84 کنٹینر آج پہنچے ہیں۔

کنٹینروں کے قافلے کے ساتھ نہ صرف فوج اور دیگر سکیورٹی سے متعلق اداروں کی ایک بھاری نفری تھی بلکہ مختلف علاقوں میں اس کی سکیورٹی کے لیے خصوصی انتطامات بھی کیے گئے تھے۔

مختلف علاقوں سے ان کو گزارنے کے لیے کئی گھنٹوں تک عام ٹریفک کو روکا گیا جس کی وجہ سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

سکیورٹی کے دیگر اقدامات کے علاوہ بلوچستان کے ان علاقوں میں فضائی نگرانی بھی کی جاتی رہی جہاں امن و امان کی صورتحال زیادہ خراب ہے۔

ان چینی کنٹینروں میں جو سامان لایا گیا ہے وہ گوادر سے بذریعہ بحری جہاز مشرقی وسطیٰ اور افریقی ممالک کو بھجوایا جائے گا۔

اس سامان کو لے جانے کے لیے چین سے ایک بحری جہاز گوادر بھی پہنچ چکا ہے۔

اقتصادی راہداری کے پہلے قافلے کے گوادر پہنچنے اور وہاں سے برآمد کے آغاز پر افتتاحی تقریب میں بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف، بلوچستان کے گورنر محمد خان اچکزئی، وزیراعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری اور پاکستان میں تعینات مختلف ملکوں کے سفیروں نے شرکت کی۔

اسی بارے میں