قدرتی آفات سے پاکستان میں شہد کی پیداوار متاثر ہوئی ہے

Image caption تقریباً سات سو دوکانوں پر مشتمل شہد کی یہ مارکیٹ اسی کی دہائی میں اس وقت وجود میں آئی تھی جب افغان مہاجرین نے پشاور کا رخ کیا

پشاور کا ترناب فارم پاکستان بھر میں شہد کی سب سے بڑی مارکیٹ سمجھی جاتی ہے جہاں سے ہر سال سینکڑوں ٹن شہد بیرون ممالک برآمد کیا جاتا ہے۔ تاہم گزشتہ کچھ برسوں سے جاری موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کے باعث شہد کی پیداوار میں بھی خاطر خواہ حد تک کمی واقع ہو رہی ہے۔

پشاور شہر سے تقریباً تین کلومیٹر کے فاصلے پر مرکزی جی ٹی روڈ پر واقع ترناب فارم عام طورپر پودوں کی نرسری کے لیے شہرت رکھتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہاں پاکستان کی سب سے بڑی شہد کی منڈی بھی قائم ہے۔

تقریباً سات سو دکانوں پر مشتمل شہد کی یہ مارکیٹ اسی کی دہائی میں اس وقت وجود میں آئی جب افغان مہاجرین نے پشاور کا رخ کیا۔ ابتدا میں یہ کام افغان پناہ گزینوں کی طرف سے شروع کیا گیا اور اس کام سے زیادہ تر افغان شہری منسلک رہے تاہم اب بیشتر دکانیں پاکستانی شہریوں کی ہے۔

پاکستان بی کیپرز ایسوسی ایشن کے صدر نعیم قاسمی کا کہنا ہے کہ صرف خیبر پختونخوا میں مگس بانی یا شہد کی مکھیوں کے دس ہزار سے زیادہ رجسٹرڈ فارمز موجود ہیں جس سے ہزاروں افراد کا روزگار لگا ہوا ہے۔

انھوں نے کہا کہ 'ہمارے ملک میں ویسے تو شہد کے مختلف ذائقے پائے جاتے ہیں لیکن ان میں بیر کے شہد کو دنیا بھر میں خصوصی مقبولیت حاصل ہے۔'

Image caption ملک میں شہد کے مختلف ذائقے پائے جاتے ہیں لیکن ان میں بیر کے شہد کو دنیا بھر میں خصوصی مقبولیت حاصل ہے

انھوں نے کہا کہ دنیا بھر میں اعلیٰ کوالٹی کے بیر کا شہد عرب ملک یمن میں پایا جاتا ہے لیکن اس کی پیداوار بہت کم ہے جبکہ اس کے بعد پاکستانی شہد کا نمبر آتا ہے جو سستا بھی ہے اور اس کی پیداوار بھی سب سے زیادہ ہے۔

ان کے مطابق پاکستان میں اعلی کوالٹی کے بیر کا شہد کرک اور کوہاٹ کے اضلاع میں پایا جاتا ہے کیونکہ وہاں بیر کے درخت زیادہ پائے جاتے ہیں۔

نعیم قاسمی کے مطابق کچھ عرصہ سے پاکستان اور بالخصوص خیبر پختونخوا موسمیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات کی زد میں رہے ہیں جس سے شہد کی پیداوار بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

انھوں نے کہاکہ ملک میں دو ہزار دس میں آنے والے تباہ کن سیلاب کی وجہ سے سینکڑوں شہد کی مکھیوں کے فارمز تباہ ہوئے تھے جس سے اس تجارت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا تھا۔

ان کے بقول 'شہد کی مکھیوں کی خوراک پھول ، درخت اور سرسبز باغات ہیں لیکن کچھ عرصہ سے بارشوں کی کمی یا بدترین طوفانوں کے آنے کے باعث درخت اور پودے ختم ہوتے جارہے ہیں جس سے شہد کی پیداوار میں بھی خاطر خواہ کمی واقع ہو رہی ہے۔' انھوں نے کہا کہ اگر یہ صورتحال مسلسل جاری رہی اور کوئی اقدامات نہیں لیے گئے تو آنے والے وقتوں میں ملک میں شہد کی پیداوار میں شدید کمی پیدا ہوسکتی ہے۔

پشاور سے ہر سال پانچ سے لے کر سات سو کنٹینرز تک بیر کا شہد بیرونی ممالک برآمد کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں زیادہ تر کمپنیاں بیر کا شہد عرب ممالک برآمد کرتی ہیں جہاں اس کی بڑی مانگ بھی ہے۔ تاہم یورپی ممالک سے براہ راست تجارتی معاہدے نہ ہونے کی وجہ سے یہاں کے تاجروں کو وہاں کسی قسم کی رسائی حاصل نہیں۔

Image caption پشاور سے ہر سال پانچ سے لے کر سات سو کنٹینرز تک بیر کا شہد بیرونی ممالک برآمد کیا جاتا ہے

پاکستان بی کیپرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری نوروز خان کا کہنا ہے کہ سابق دور حکومت میں ان کی طرف سے ایک وفاقی وزیر سے درخواست کی گئی تھی کہ انھیں یورپی ممالک کی مارکیٹوں تک رسائی دینے کےلیے اقدامات کئے جائے تاکہ وہ بھی اپنا مال وہاں بھیج سکیں لیکن حکومت کی طرف سے اس جانب ابھی تک کوئی توجہ نہیں دی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ 'ہمارا مال عرب ممالک سے یورپی ممالک برآمد کیا جاتا ہے لیکن اس کا سارا فائدہ وہاں کی کمپنیوں اور ممالک کو پہنچ رہا ہے اور ہمارے ملک کو کوئی خاص فائدہ نہیں ہو رہا۔'

ان کے مطابق سعودی عرب کے شہر جدہ میں پاکستانی تاجروں کی طرف سے ایک ہول سیل مارکیٹ قائم کی گئی ہے جہاں سے مختلف عرب ممالک کو بیر کا شہد سپلائی کیا جاتا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے حال ہی میں جنگلی شہد پر ٹیکس لگا دیا ہے جس سے مگس بانی کے کاروبار سے منسلک افراد کی مشکلات بڑھ رہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مارکیٹ میں زیادہ تر شہد مقامی طور پر قائم فارمز سے آتا ہے جس پر اصولاً ٹیکس نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ جنگل کا شہد نہیں ہے لیکن ان سے بھی فی کلو کے حساب سے ٹیکس لیا جاتا ہے۔

اسی بارے میں