اسلام آباد میں چیک پوسٹ پر’ہراساں‘ کرنے والے دو پولیس اہلکاروں کی تلاش

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

امریکہ سے اسلام آباد آنے والے ایک خاندان کو شہر کی ریڈ زون میں واقع پولیس چیک پوسٹ پر مبینہ طور پر ہراساں کرنے اور نقدی چھیننے والے دو پولیس اہلکاروں کی دو دن گزر جانے کے باوجود تلاش تاحال جاری ہے۔

اسلام آباد کے تھانہ سیکریٹریٹ میں اس واقعے کی رپورٹ درج کرائی گئی ہے اور اس مقدمے کے تفتیشی افسر اے ایس آئی عمران حیدر کے مطابق یہ واقعہ اتوار کی دوپہر کو ریڈ زون کے قریب کشمیر چوک میں پیش آیا۔

عمران حیدر کے مطابق متاثرہ خاندان کی جانب سے درج کرائی گئی رپورٹ کے مطابق چیک پوسٹ پر دو کانسٹیبلز نے ایک گاڑی کو روکا جس میں تین مرد اور ایک خاتون سوار تھیں۔

مدعی کے مطابق کانسٹیبلز نے ان کے رشتہ داروں سے 8 سو ڈالر چھین لے اور بعد میں ان کے کزن کو چوکی کے اندر لے گئے اور کپڑے اتار کر تلاشی لی اور بعد میں ایک سو ڈالر رکھ کر واپس کر دیے۔'

اے ایس آئی عمران حیدر کے مطابق دونوں کانسٹیبلز کا تعلق فیصل آباد سے ہے اور اس واقعے کے بعد سے مفرور ہیں اور ان کو گرفتار کرنے کے لیے تلاش جاری ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ چیک پوسٹ کے قریب نصب کمیروں کی فوٹیج حاصل کر لی ہے جس میں ایک شخص کو چوکی کے اندر لیے جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے لیکن اندر کیا ہوا اس کے بارے میں ہمیں معلوم نہیں ہو سکا۔

اس واقعے کا مقدمہ درج کرانے والے متاثرہ خاندان کے قریبی عزیز نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ان کی پھوپھو اور ان کا بیٹا سال 2000 کے بعد پہلی بار امریکہ سے اسلام آباد آیا تھا اور اتوار کو بارہ کہو سے ٹیکسلا جا رہے تھے کہ انھیں چیک پوسٹ پر روکا گیا۔

انھوں نے بتایا کہ گاڑی روکنے پر پہلے کانسٹیبلزنے ڈائیور پر الزام لگا کر دھمکایا کہ وہ نشہ کرتا ہے اور بعد میں گاڑی میں سوار ان کے کزن کو چوکی کے اندر لے گئے اور 'ان کے کپڑے اتار کر تلاشی لی گئی، اسی دوران ایک کانسٹیبل گاڑی میں ان کی پھوپھو کے بیگ کی تلاشی لینا شروع ہو گیا اور اس سے 8 سو ڈالر نکال لیے اور بعد میں ان کے کزن کو ڈرا دھمکا کر 700 ڈالر واپس کر دیے اور انھیں جانے کی اجازت دے دی۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پولیس کی چیک پوسٹوں پر شہریوں کو ہراساں کرنے کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں

انھوں نے بتایا کہ ان کی پھوپھو دل کی مریضہ ہیں اور ٹیکسلا میں ان کے گھر میں آتے ہی بے ہوش ہو گئی کیونکہ ان کے ساتھ کبھی زندگی میں ایسا واقعہ پیش نہیں آیا۔

متاثرہ خاندان کے قریبی عزیز کے مطابق جب انھیں اس واقعے کے بارے میں معلوم ہوا تو وہ فوری راولپنڈی میں ایک رشتہ دار کے پاس پہنچے جنھوں نے تھانہ سیکریٹریٹ کو فون کیا اور پھر وہاں جا کر ان اہلکاروں کے خلاف رپورٹ درج کرا دی۔

انھوں نے بتایا کہ اس واقعے کے بعد کانسٹیبلز کے کئی جاننے والے ان سے رابط کر چکے ہیں کہ راضی نامہ کر لیں۔

خیال رہے کہ پاکستان میں شدت پسندی کے واقعات کے بعد دارالحکومت اسلام آباد کی مختلف سڑکوں پر پولیس کی چیک پوسٹیں قائم کی گئی تھیں جن میں اب کچھ کم کر دی گئی ہیں لیکن اہم سڑکوں پر اب بھی قائم ہیں۔

شہریوں کی جانب سے ان چیک پوسٹوں پر ہراساں کرنے کے بارے میں شکایات میڈیا پر سامنے آتی رہتی ہیں جن میں گاڑیوں میں بیٹھے جوڑوں سے نکاح نامہ طلب کرنا اور رات کو گاڑیوں میں سوار مرد حضرات کے منہ سونگھنا بھی شامل ہے۔

اسی بارے میں