سیالکوٹ میں خواجہ سرا پر تشدد، پانچ ملزمان کا ڈی این اے کرانے کا فیصلہ

پولیس فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پنجاب پولیس نے ملزماں کو گرفتار کر لیا ہے

پاکستان کے شہر سیالکوٹ میں ایک خواجہ سرا سے ریپ اور تشدد کرنے کے الزام میں گرفتار پانچ ملزمان کا ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

تھانہ صدر سیالکوٹ کے میں سب انسپیکٹر محمد جمیل نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ججا بٹ سمیت پانچوں ملزمان کے ڈی این اے کرائے جا رہے ہیں جن سے ثابت ہو سکے گا کہ آیا اُنھوں نے خواجہ سرا شنایا کا ریپ کیا ہے یا نہیں۔

اُنھوں نے بتایا 'ملزمان میں سے کچھ نے تفتیش کے دوران ریپ کرنے اور بھتہ لینے کا اعتراف کیا ہے لیکن کچھ اس الزام سے انکار کر رہے ہیں۔ جیسے ہی رپورٹ سامنے آئے گی سب ٹھیک ہو جائے گا'۔

اُدھر خواجہ سرا شنایا نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اِس واقعے کے بعد جان بچا کر اسلام آباد آگئی ہیں جہاں اُن کی مدد سفر نامی تنظیم کے سربراہ کررہے ہیں جو خود بھی خواجہ سرا ہیں۔

شنایا نے بتایا کہ پہلے تو اُنہیں اپنی جان کی فکر تھی اِس لیے وہ سیالکوٹ سے اسلام آباد آگئیں لیکن اب وہ اِس مقدمے کی پیروی کے لیے تیار ہیں تاکہ کسی اور خواجہ سرا کی اِس طرح تذلیل نہ کی جا سکے۔

شنایا کے ساتھ ہی اسلام آباد آنے والے ایک اور خواجہ سرا جولی نے اپنے سر کے کٹے ہوئے بال دکھاتے ہوئے بتایا کہ ملزمان نے اُن کے بال کاٹ دیے جو کہ خواجہ سراؤں کے لیے خاصے اہم ہوتے ہیں۔

جولی اور شنایا کی مدد کرنے والی غیر سرکاری تنظیم سفر کی سربراہ ندیم کشش نے بتایا وہ بغیر وسائل کے جنسی زیادتی کے شکار دونوں خواجہ سراؤں کی مدد کر رہی ہیں۔ اُنھوں نے مطالبہ کیا کہ اِس مقدمے میں ملوث مجرمان کو سخت سزائیں دی جائیں تاکہ آئندہ ایسے جرائم کی بیخ کنی ہو سکے۔

انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسے مصیبت کے مارے خواجہ سراؤں کے لیے کم از کم وفاق میں ایک شیلٹر ہوم بنا دے تاکہ اُنہیں سر چھپانے کا آسرا ہو سکے۔

منگل کو ہی اسلام آباد میں موجود خواجہ سراؤں کی مخلتف تنظیموں کی جانب سے نیشنل پریس کلب کے باہر مظاہرہ کیا گیا جس میں سیالکوٹ میں تشدد کا شکار ہونے والے خواجہ سراؤں کو انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

اسی بارے میں