’ترک اساتذہ کو پاکستان چھوڑنے کا حکم اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج‘

پاک ترک تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاک ترک ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے زیرانتظام سکول اور کالجز معمول کے مطابق کھلے ہیں

پاک ترک ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے حکومت پاکستان کی جانب سے ترک عملے کو 20 نومبر تک ملک سے نکل جانے کے مہلت دیے جانے کے فیصلے کو اسلام ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان کے پاکستان پہنچنے سے چند گھنٹوں قبل منگل کو پاک ترک انٹرنیشنل سکول اینڈ کالجز کے عملے کو اپنے خاندان سمیت پاکستان سے تین دن کے اندر اندر نکل جانے کا حکم دیا گیا تھا۔

پاک ترک انٹرنیشنل سکول اینڈ کالجز نے پاکستانی حکومت کی جانب سے اس اچانک کے فیصلے پر شدید خدشات کا اظہار کیا ہے۔

حکومتِ پاکستان کی جانب سے اس فیصلے کے بارے میں تاحال کوئی موقف سامنے نہیں آ سکا۔

پاک ترک ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت کے اس فیصلے کے خلاف پشاور میں پاک ترک سکول میں زیر تعلیم بچوں کے کچھ والدین بھی پشاور ہائی کورٹ میں جا رہے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں حکومت کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے اور جمعرات کو اس پر کارروائی متوقع ہے۔

اہلکار کے مطابق پاک ترک ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے جن اہلکاروں کے ویزوں میں توسیع نہیں کی گئی وہ تقریباً 1996 سے پاکستان میں موجود تھے اور ہر سال ویزے میں توسیع کی درخواست جمع کراتے تھے اور اس بار بھی تقریباً دو ماہ پہلے درخواست دی لیکن مسترد کر دی گئی۔

پاک ترک ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین عالمگیر خان نے منگل کو ایک بیان میں کہا تھا کہ جن لوگوں کو ملک سے جانے کی ہدایت کی گئی ہے ان میں اساتذہ، منتظمین، سکول جانے والے بچے، خواتین اور ان کے خاندان کے کم سن بچے بھی شامل ہیں۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان بدھ کو پاکستان پہنچے ہیں۔ ترکی میں رواں برس بغاوت کی ناکام کوشش کے بعد سے موجودہ حکومت کا حکومت پاکستان پر دباؤ ہے کہ وہ پاک ترک سکولوں کو بند کرنے کے لیے اقدامات کرے کیونکہ ان سکولوں پر یہ الزام ہے کہ یہ فتح اللہ گولن کی ہزمت فاونڈیشن کی ملکیت ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ پیش رفت ایک ایسے وقت ہوئی ہے جب بدھ کو ترک صدر اسلام آباد پہنچ رہے ہیں

پاک ترک ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے ایک سینیئر اہلکار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے حکومتِ پاکستان کی جانب اچانک ہی عملے کو ملک چھوڑنے کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس وقت ترک ٹیچرز کی تعداد 108 ہے اور ان کے خاندان کو ملا کر کل تعداد 450 کے قریب بن جاتی ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ انتہائی مختصر وقت میں ویزہ میں توسیع نہ کرنے اور ملک چھوڑنے کے فیصلے کے بارے میں بتایا گیا ہے۔

اہلکار کے مطابق وہ صورتحال کا اس تناظر میں جائزہ لے رہے ہیں جس میں حکومت پاکستان کے حکام نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں تحریری طور ضمانت دی تھی کہ وہ ملک بھر میں پاک ترک انٹرنیشنل سکول اینڈ کالجز کے خلاف سخت کارروائی کا ادارہ نہیں رکھتے ہیں۔

بیان کے مطابق سکول انتظامیہ اور غیر ملکی سٹاف کو حق حاصل ہے کہ وہ ویزہ میں توسیع نہ کرنے اور ملک سے نکل جانے کے فیصلے کے خلاف متعلقہ فورم یا عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ اگست میں پاک ترک سکولوں کی انتظامیہ نے ملک میں قائم اپنے تمام سکولوں کے پرنسپلوں کو برخاست کر دیا تھا جن میں 23 ترک شہری بھی شامل ہیں۔

اس فیصلے سے پہلے پاکستان میں ترکی کے سفیر نے توقع ظاہر کی تھی کہ پاکستان فتح اللہ گولن کے تحت چلائے جانے والے تمام اداروں کو بند کرے گا۔

اسی بارے میں