’سجی کی لذت اس کے سادہ پن میں ہی ہے‘

سجی
Image caption ڈش کی تیاری کے لیے ران، دستی اور پٹھ (کمر کے پچھلے حصے) کا گوشت استعمال کیا جاتا ہے

٭کھانوں کے بارے میں بی بی سی اردو کی سیریز کی آٹھویں قسط صوبہ بلوچستان کی روایتی ڈش سجّی کے بارے میں ہے۔ اس سیریز سے متعلقہ تحریریں اور ویڈیوز ہر ہفتے بدھ کو ویب سائٹ پر شائع کی جائیں گی۔

سجی وہ پکوان ہے جو نہ صرف پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی ثقافت اور روایت کا حصہ ہے بلکہ اسے ملک بھر میں صوبے کی پہچان بھی سمجھا جاتا ہے۔

اس لذیز ڈش کا شمار بلوچ عوام کے پسندیدہ کھانوں میں ہوتا ہے اور صرف بلوچ ہی نہیں بلکہ ملک کے دیگر علاقوں سے کوئٹہ آنے والے افراد میں سے اکثریت کی پہلی پسند سجّی ہی ہوتی ہے۔

٭ نہاری سب پر بھاری

٭ میاں جی کی دال

٭ 'اصل تِکہ تو پشاور کا ہی ہے'

٭ چپلی کباب خیبر پختونخوا کی پہچان

٭ 'بریانی کے بغیر ہر تقریب ادھوری'

٭ سری پائے کھانے کے لیے نیند کی قربانی لازمی'

٭ گوجرانوالہ: آدھی آبادی کھانا بنانے، آدھی کھانے میں مصروف

سجّی بھیڑ یا بکری کے گوشت سے تیار کی جاتی ہے اور اس کے لیے فربہ جانوروں کا انتخاب کیا جاتا ہے کیونکہ کہا جاتا ہے کہ جانور جتنا فربہ ہوتا ہے اس کی سجی بھی اتنی لذیز ہوتی ہے۔

اس ڈش کی تیاری کے لیے ران، دستی اور پٹھ (کمر کے پچھلے حصے) کا گوشت استعمال کیا جاتا ہے اور گوشت کو نمک لگانے کے بعد لکڑی یا لوہے کی سلاخ میں پرو کر آگ کے قریب رکھ دیا جاتا ہے۔

سجّی کھلی جگہ کے علاوہ تندور کے اندر بھی تیار کی جاتی ہے جہاں انگارے سلگا کر لکڑی یا لوہے کی سلاخ میں پِروئے گئے گوشت کو تندور کے اندر رکھ کر تندور کا منہ اچھی طرح بند کر دیا جاتا ہے ۔

اس کی تیاری میں ڈھائی سے تین گھنٹے لگتے ہیں اور اس دوران آگ کی تپش سے گوشت سے اٹھنے والی خوشبو کھانے والوں کی بھوک دوچند کر دیتی ہے۔ تیاری کے بعد اسے پسند کے مطابق امچور یا کالی مرچ لگا کر کھایا جاتا ہے۔

Image caption سجّی بکری اور بھیڑ کے علاوہ دیگر جانوروں کے گوشت سے بھی تیار کی جا رہی ہے۔

اگرچہ اب کوئٹہ میں سجّی کی بہت سی دکانیں ہیں لیکن شہر میں یہ ڈش متعارف کروانے کا سہرا جناح روڈ پر پانچ دہائی قبل کھلنے والی دکان لہڑی سجّی ہاؤس کے سر ہے۔

اس دکان کے موجودہ مالک حفیظ اللہ لہڑی نے بتایا کہ کوئٹہ شہر میں سجی دراصل ان کے والد نے شروع کی تھی۔

انھوں نے کہا کہ 'یہ ایک قبائلی خوراک ہے جسے کوئٹہ شہر میں ہم نے پچاس سال ہوئے متعارف کرایا اور آج تک لوگ سجی کھانے کے لیے آ رہے ہیں۔'

حفیظ اللہ کا کہنا تھا کہ 'سجی کی لذت اس کے سادہ پن میں ہی ہے۔ اس میں کسی قسم کا کوئی مصالحہ استعمال نہیں ہوتا ہے۔' ان کا کہنا تھا کہ طبی لحاظ سے بھی یہ بہتر ہے کیونکہ 'آج کل ڈاکٹر یہی کہتے ہیں کہ بھائی تیل اور مصالحے سے زیادہ پرہیز کریں۔'

ان کا کہنا تھا کہ اب سجّی بکری اور بھیڑ کے علاوہ دیگر جانوروں کے گوشت سے بھی تیار کی جا رہی ہے۔

'سجی کئی قسم کی پکتی ہے۔ ایک گوشت کی پکتی ہے جو شروع سے آ رہی ہے۔ دوسرا یہ کہ آج کل بازار میں مرغی کی بھی سجی بنتی ہے۔ کوئی اگر شوق کرے تو مچھلی کی سجی بنا کے دیتے ہیں۔'

صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے ولید حیدر حفیظ اللہ کے ہوٹل میں سجی کھانے کے لیے موجود تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ 'بلوچستان کی خاص چیز سجی ہے ۔ یہاں ملاوٹ والی چیزیں کم ہیں ۔ باہر آپ نے سنا ہوگا کہ کچھ اور چیزیں نکلتی ہیں لیکن اسے آپ کے سامنے تیار کیا جاتا ہے۔'

پشاور سے تعلق رکھنے والے محمد ثاقب بھی اپنے دوستوں کے ہمراہ وہاں موجود تھے۔ انھوں نے کہا کہ سجی کی ڈش بلوچستان کے لوگوں کی کلچر کی آئینہ دار ہے۔

Image caption کہا جاتا ہے کہ جانور جتنا فربہ ہوتا ہے اس کی سجی بھی اتنی لذیز ہوتی ہے

'سجی سارے پاکستان میں ملے گی چکن کی، ہر چیز کی لیکن وہ اصل ذائقہ نہیں ہے۔ آپ کوئٹہ آئیں اور سجی کھائیں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ سجی کیا ہوتی ہے۔'

کوئٹہ کے رہائشی محمد علی خان کا کہنا تھا کہ جس طرح پاکستان کے دوسرے علاقوں کی اپنی ایک ثقافت تہذیب اور علاقائی خوراک ہے اسی طرح بلوچستان بلوچوں اور پشتونوں کا ایک مشترکہ صوبہ ہے اور یہاں کی مخصوص روایات اور خوراک ہیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ یہاں کی علاقائی خوراکوں میں دو ہی نام آتے ہیں ایک ہے روش تو دوسری سجی۔

انھوں نے کہا کہ 'اگر دیگر صوبوں سے آنے والوں نے بلوچستان اور کوئٹہ کی سجی نہیں کھائی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا یہ سفر ادھورا رہا کیونکہ سجی اور بلوچستان آپس میں لازم و ملزوم ہیں۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں