’یہ اردوغان کا ملک نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption احتجاج کرتے ہوئے خواجہ سرا

سوشلستان میں معمول کے مطابق پانامہ لیکس کیس کے حوالے سے سپننگ کا عمل زور و شور سے جاری ہے۔

عدالت کی کارروائی کے بعد اصل کہانی شروع ہوتی ہے جس میں سیاسی جماعتیں اور رہنما کارروائی کی جزیات کو اپنے مطابق سپن کرتے ہیں جس کی پیروی میں سوشل جہادی بگٹٹ دوڑتے ہیں یہ دیکھے بغیر کہ سمت کیا ہے۔

مگر اس ہفتے اور بھی اہم باتیں زیرِ بحث رہیں جن کا ذکر کرتے ہیں۔

'خواجہ سراؤں کی تضحیک میں ہم سب شامل ہیں'

گذشتہ دنوں ایک خواجہ سرا کی ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ان کے ساتھ ایک شخص ذلت آمیز سلوک کر رہا تھا اور ساتھ ویڈیو بھی بنوا رہا تھا شاید اس لیے کہ اس ظلم کی سند رہے۔

پاکستان میں خواجہ سراؤں کے حوالے سے مسائل نئے نہیں اور اس سے قبل بھی ایسے کئی کیس سامنے آچکے ہیں۔

جہاں لوگ اس ویڈیو کی مذمت کر رہے ہیں وہیں پاکستان کے نیوز میڈیا پر چلنے والے 'مختلف شوز میں بلا تفریق خواجہ سراؤں کو جس طریقے سے پیش کیا جاتا ہے' اس پر بھی تنقید کی جا رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption خواجہ سرا کو تشدد کا نشانہ بنانے والے ملزمان

کیونکہ خواجہ سراؤں کے حوالے سے 'ایک مخصوص سوچ ہے جو پائی جاتی ہے جسے ہمارا میڈیا بھی ایک خاص انداز سے پیش کرتا ہے۔

قیصر رونجھا نے لکھا کہ 'میڈیا خود بھی اس مسئلے سے آشنا نہیں آپ اس وجہ سے خواجہ سراؤں کے ساتھ میڈیا کے رویے کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔'

بشارت عزیز کا کہنا تھا کہ 'بالکل غلط طریقے سے خواجہ سراؤں کو پیش کیا جاتا ہے جس سے اُن کی عزتِ نفس مجروح ہوتی ہے۔'

فرحان قریشی کا کہنا تھا کہ 'پاکستانی میڈیا میں خواجہ سراؤں کو دوسری مخلوق بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔'

حیدر گل کا کہنا تھا کہ 'اگر میڈیا انہیں اچھے طور پر پیش کرے تو ان کے بارے میں لوگوں کے سوچنے کا انداز بدلے گا۔'

اور اس بات پر بہت سوں کا اتفاق ہے کہ 'خواجہ سراؤں کو ایک مخصوص انداز میں دکھانے والوں کے ساتھ ساتھ دیکھنے والوں کا بھی قصور ہے۔'

پاک ترک سکول کے ترک اساتذہ اور اس پر سیاست

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پاک ترک سکولوں کے طلبا اپنے اساتذہ کے ملک سے نکالے جانے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں

حکومتِ پاکستان کی جانب سے پاک ترک سکولوں کے ترک اساتذہ اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کے فیصلے پر مختلف رائے سامنے آرہی ہے۔

اس حوالے سے مختلف رائے منقسم ہے اور سیاسی بنیادوں پر اگر دیکھا جائے تو اینٹی نواز اور پرو نواز حکومت تفریق اس میں بھی دکھائی دے رہی ہے۔

اگر اس تفریق سے ہٹ کر دیکھا جائے تو ضرار کھوڑو کی ٹویٹ سامنے آتی ہے جو لکھتے ہیں کہ 'اس کھیل میں ہمارے لیے کچھ نہیں ہے کیونکہ ہماری حلیف ممالک کتنے ہیں۔ اور اس کے لیے چھوٹی سی قیمت ہے بے شک ناگوار ہے۔'

دوسری جانب نسیم زہرہ نے لکھا کہ 'اس قسم کی درخواستوں پر کارروائی نہیں کی جانی چاہیے۔ گُلن کے فعال حامیوں کے خلاف کارروائی ٹھیک مگر یہ نہیں۔ یہ اردوغان کا ملک نہیں نہ ہی ہم اس کی جماعت ہیں۔'

مگر کیا یہ پہلی بار ہے کہ پاکستان نے کسی دوسرے ملک کی خاطر ایسی کارروائی کی ہو۔

اس ہفتے کا تعارف

اس ہفتے ہم ذکر کریں گے فوٹوگرافر ثاقب مجید کا جن کا تعلق انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر سے ہے۔ ثاقب کافی عرصے سے سوشل میڈیا پر اپنی تصاویر شییر کرتے ہیں جن میں کشمیر کی تصاویر نمایاں ہیں۔ اور ان کی اکثر تصاویر اپنے اندر ایک الگ حسن رکھتی ہیں۔ مگر ان کی تصویر جو نیچے آپ دیکھ سکتے ہیں نے اچانک سے عالمی شہرت حاصل کی جس میں انہوں نے کشمیر میں کرکٹ کھیلتے بچوں کو دکھایا۔ اس تصویر کو مشہور ٹی وی شخصیت پیئرس مورگن نے ٹویٹ کیا اور لکھا کہ ’یہ اُن کے پسندیدہ کھیل کی بنائی گئی تصاویر میں سے سب سے زیادہ حیران کُن حد تک حسین تصویر ہے۔ اور اس کے بعد یہ تصویر سوشل میڈیا پر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی۔

اس ہفتے کی تصاویر

تصویر کے کاپی رائٹ Alamy
Image caption ثاقب مجید کی وائرل تصویر جس میں کرکٹ اور کشمیر میں خزاں کا موسم دونوں اپنے عروج پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption سترہ نومبر کو عالمی یومِ طلبا کے موقع پر پشاور کے ایک سکول میں لی گئی یہ تصویر۔