تین سال کے دوران ڈھائی لاکھ پاکستانی وطن واپس

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان پہنچنے والوں میں زیادہ تعداد مزدوروں کی ہے

حکومت پاکستان کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنہ 2012سے سنہ 2015 تک کے تین سال کے مختصر عرصے کے دوران تقربیاً ڈھائی لاکھ پاکستانی، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ایران سمیت دنیا کے مختلف ملکوں سے نکالے جانے کے بعد وطن واپس پہنچے تھے۔

پاکستان کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس نے لیبر مائگریشن فرام پاکستان: سٹیسٹس رپورٹ سنہ 2015 کا حوالے دیتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ایران کے علاوہ جن ملکوں سے پاکستانیوں کو نکلا گیا ہے ان میں عمان، یونان، برطانیہ اور ملاایشیا شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 242870 پاکستانی جن میں اکثریت مزدوروں کی تھی وہ پاکستان واپس آئے ہیں۔ خاص طور پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے نکالے جانے والوں میں اکثریت روز گار کے متلاشی مزدوروں، نیم ہنر مندوں اور چھوٹے تجاروں اور بزنس مینوں کی ہے۔ جبکہ ایران سے واپس بھیجے گئے افراد میں وہ لوگ شامل تھے جو غیر قانونی طور پر یونان اور اس سے آگے یورپ جانے کے لیے پاکستان سے نکلے تھے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ سب سے زیادہ پاکستانی سنہ 2014 میں پاکستان واپس بھیجے گئے تھے جب 77000 پاکستانی واپس آئے تھے۔

خلیج تعاون کونسل میں شامل ملکوں سے زیادہ تر سکیورٹی خدشات کی بنا پر پاکستانیوں کو نکالا گیا تھا اور وہ واپس وطن آئے تھے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ آنے والے برسوں میں اس رجحان میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے اور اس کی وجہ سے انسانوں کی سمگلنگ اور غیر قانونی طور پر مشرق وسطی اور مغربی ممالک میں جانے والوں کی تعداد بھی بڑھ سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے جرائم اور منشیات کی روک تھام کے ادارے کے مطابق غیر قانونی طور پر ملک چھوڑنے والوں میں اکثریت کا تعلق پاکستان کے صوبے پنجاب کے شہروں گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ ، منڈی بہاؤ الدین، ڈیرہ غازی خان اور ملتان سے ہوتا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ سنہ 2007 سے جون سنہ 2015 تک پانچ لاکھ افراد پاکستانیوں کو پاکستان واپس بھیجا گیا۔

غیر قانونی یا سفری دستاویزات میں مسائل کے باعث سنہ 2005 سے سنہ 2015 کے دس برس میں نو لاکھ سے زیادہ پاکستانیوں کو پکڑ کر مختلف ملکوں سے واپس بھیجا گیا۔

اسی بارے میں