کوئٹہ میں پاک ترک سکول کے اساتذہ کے لیے الوداعی تقریب کا انعقاد

Image caption تقریب کے شرکاء ایک دوسرے کے ساتھ گلے لگ کر روتے رہے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ان ترک اساتذہ اور ان کے خاندان کے افراد کے لیے الوداعی تقریب منعقد کی گئی جنھیں پاکستان سے نکل جانے کا حکم دیا گیا ہے۔

اس تقریب دوران رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے اور تقریب کے شرکاء زارو قطار روتے رہے۔

کوئٹہ میں پاک ترک انٹر نیشنل سکول اینڈ کالج سسٹم کے تحت قائم تعلیمی اداروں کے سپنی روڈ پر واقع مین کیمپس میں اس تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا۔

تقریب میں سکولوں کے طلباء کے علاوہ ان کے والدین کی بڑی تعداد بھی شریک تھی۔ اس موقع پر تقریب کے شرکاء ایک دوسرے کے ساتھ گلے لگ کر روتے رہے۔

Image caption رویدا نے بتایا کہ وہ گذشتہ چھ سال سے کوئٹہ میں تھیں اور یہاں انھیں اپنے گھر جیسا ماحول ملا

خیال رہے کہ کوئٹہ میں پاک ترک انٹرنیشنل سکول اینڈ کالج سسٹم کے تحت تین سکول قائم ہیں۔

سکول میں پڑھنے والی پانچویں جماعت کی ایک طالبہ ثانیہ خان نے بتایا کہ ’ترک اساتذہ کے جانے پر ہمیں بہت دکھ ہوا۔ ترک اساتذہ کبھی بھی نہیں ڈانٹتی تھیں۔‘

انھوں نے استفسار کیا کہ معلوم نہیں ان اساتذہ کو کیوں واپس بھیجا جارہا ہے۔

تقریب میں شریک ایک ترک خاتون ٹیچر رویدا نے بتایا کہ ان کے پاس کہنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں۔

رویدا کا کہنا تھا کہ وہ 15 سال قبل پاکستان اس حالت میں آئی تھیں جب ان کے ہاتھوں پر مہندی تھی۔

انھوں نے کہا کہ شادی کے صرف 15 دن بعد وہ اپنے شوہر کے ہمراہ پاکستان آگئی تھیں۔

Image caption طلباء اور طالبات کے تحریر کردہ جذبات کو دل کی شکل کے ایک سرخ ڈبے میں بند کر کے سکول کے سبزہ زار میں دفن کیے

رویدا نے بتایا کہ وہ گذشتہ چھ سال سے کوئٹہ میں تھیں اور یہاں انھیں اپنے گھر جیسا ماحول ملا۔

پاک ترک تعلیمی اداروں کے علاقائی ڈائریکٹر عثمان ارسلان حان نے بتایا کہ ’انھیں یہاں سے جانے پر کوئی اعتراض نہیں ہم اسے اللہ کا فیصلہ سمجھ کر قبول کررہے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وہ 23سال سے پاکستان میں ہیں اور انھوں نے اپنی عمر کا نصف حصہ پاکستان میں گزارا۔

انھوں نے بتایا کہ انھیں اس بات پر خوشی ہے کہ وہ ایک اچھے اور کامیاب تعلیمی ادارے کو چھوڑ کر جارہے ہیں۔

کوئٹہ میں پاک ترک تعلیمی اداروں کی بنیاد 15 سال قبل رکھی گئی تھی۔

الوداعی تقریب کے اختتام پر ترک اساتذہ نے اپنے اور طلباء اور طالبات کے تحریر کردہ جذبات کو دل کی شکل کے ایک سرخ ڈبے میں بند کر کے سکول کے سبزہ زار میں دفن کیے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں