پاکستان میں خشک سالی سے زرعی پیداوار متاثر

ماہرین کے مطابق پاکستان میں خشک سالی کے سبب گزشتہ کچھ برسوں میں باغات اور زراعت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ بڑے رقبے پر گندم کی بوائی شروع نہیں ہو سکی جبکہ ترش پھلوں کے بہت سے باغات کو نقصان ہوا ہے۔

سرکاری اعدادو شمار کے مطابق گذشتہ سال ملک میں گندم کی پیدوار 1.6 فیصد اضافہ کے ساتھ 25ملین ٹن سے زائد رہی تھی جس کے بعد دنیا میں گندم پیدا کرنے والے ممالک میں پاکستان آٹھویں سے چھٹے نمبر پر آ گیا تھا۔

سرکاری اعداد وشمار کے مطابق ملک بھر میں 20 سے 25 ملین ایکڑ زمین پر گندم کاشت کی جاتی ہے ۔ مگر رواں برس بارش نہ ہونے کے سبب سے اکثریت زمینداروں اور کسانوں نے بوائی شروع ہی نہیں کی اور جنھوں نے بوائی کردی ہے وہ پریشان حال ہیں۔

فیصل آباد کے زمیندار چوہدری نصیر کا کہنا ہے کہ بارش نہ ہونے کی وجہ سے ربیع کے سیزن کے لیے تاحال بوائی ممکن نہیں ہو سکی اور بارش کے انتظار میں سیزن ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے۔

ہری پور کے زمیندار ملک خوشحال کا کہنا تھا کہ 'ہم بارش کی امید میں بوائی کرچکے ہیں مگر سیزن ختم ہونے کے قریب ہے اور بارش کا نہ ہونا انتہائی نقصاں دہ ہوسکتا ہے۔'

مالٹے اور کینو کا شمار پاکستان کے اہم پھلوں میں ہوتا ہے جن کے باغات مجموعی طور پر 194,000 ایکڑ پر پھیلے ہوئے ہیں۔ ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے مطابق گذشتہ سال 427,025 ڈالر کا برآمد کیا گیا تھا جس میں سٹرس کا حصہ 20 فیصد تھا۔

صوبہ خیبر پختونخوا میں ضلع ہری پور کے علاقے خانپورکا ریڈ بلڈ مالٹا اپنے ذائقے کی بنا پر بین الاقوامی شہرت رکھتا ہے۔ مگر اس سال خشک سالی کی وجہ سے اس کے باغات بری طرح متاثر ہو چکے ہیں۔

محمد نذیر مالٹے کے باغ کے مالک ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ دس سال قبل اس طرح کی خشک سالی آئی تھی جس سے مالٹے کو نقصاں پہنچا تھا۔ اور اب دوبارہ اسی طرح کی صورتحال کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 'درختوں کو بیماریاں لگ رہی ہیں، پھل خراب ہو رہا ہے اور اچھی طرح افزائش نہیں کر رہا، درخت پھلوں سے خالی ہیں اور جو پھل موجود ہے اس کا معیار متاثر ہوچکا ہے'۔ ان کا کہنا تھا کہ 'صورتحال ہماری سوچ سے بھی زیادہ خراب ہے اور اس سال ممکنہ طور پر در آمد کرنا ممکن نہیں ہوگا'۔

ایوب ایگری کلچر ریسرچ سنٹر فیصل آباد میں شعبہ زراعت کے ڈپٹی ڈائریکٹر حافظ محمد اکرم کے مطابق موجودہ سیزن میں بارشوں کا نہ ہونا بدترین ماحولیاتی تبدیلی ہے جس کا براہ راست اثر زراعت پر پڑرہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بروقت بارشوں کے نہ ہونے سے گندم کی کاشت اور پیداوار متاثر ہوسکتی ہے۔

ہری پور یونیورسٹی شعبہ ماحولیات کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر عبدﷲ کا کہنا تھا کہ عالمی تنظیم جرمن واچ کے مطابق موسمی تبدیلیوں سے متاثر ہونے والے ممالک کی فہرست میں پاکستان کا آٹھواں نمبر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بر وقت بارشوں کا نہ ہونا یا پھر بے وقت بارشوں کا ہونا بدترین موسمی تبدیلی ہے۔

اسی بارے میں