لائن آف کنٹرول پر انڈین فائرنگ سے'دس پاکستانی شہری ہلاک'

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
وادیِ نیلم میں فائرنگ کے زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا

پاکستان کی فوج کے مطابق کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب انڈین فوج کی فائرنگ سے تین فوج اہلکار اور سات شہری ہلاک جبکہ 11 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

پاکستان کی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کا کہنا ہے کہ شہریوں کی ہلاکت کا واقعہ وادی نیلم میں لوات کے قصبے میں اس وقت پیش آیا جب انڈین فوج نے ایک مسافر بس کو چھوٹے اور بڑے ہتھیاروں سے نشانہ بنایا اور واقعے میں سات شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

امریکی خبرساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اس واقعے میں دس شہری ہلاک ہوئے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس نے ڈپٹی کمشنر وحید خان کے حوالے سے کہا کہ انڈین فوج نے مسافر بس کو بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا جس سے تین شہری موقع پر ہلاک ہو گئے جبکہ زخمیوں میں شامل سات افراد بعد میں ہسپتال میں دم توڑ گئے۔

آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز کے مطابق ڈڈیال کے قریب ہونے والے اس حملے کے بعد جب ایک ایمبولینس زخمیوں کو لینے کے لیے وہاں پہنچی تو اس پر بھی فائرنگ کی گئی۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
فائرنگ کے باوجود میں گاڑی بھگا لایا

آئی ایس پی آر کا یہ بھی کہنا ہے کہ بدھ کو لائن آف کنٹرول پر انڈین فائرنگ سے پاکستانی فوج کے ایک کپتان سمیت تین اہلکار مارے گئے ہیں۔ مرنے والے اہلکاروں کے نام کیپٹن تیمور علی خان، یوالدار مشاق حسین اور لانس نائیک غلام حسین بتائے گئے ہیں۔

پاکستانی فوج نے جوابی فائرنگ سے سات انڈین فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ بھی کیا ہے۔

انڈین حکام نے لائن آف کنٹرول پر شہریوں کی ہلاکتوں کے واقعے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے تاہم انڈین فوج کے ایک ترجمان نے کہا کہ بدھ کی صبح پاکستان کی طرف سے بھمبر گلی، کرشنا گھاٹی اور نواشہر سیکٹر میں بلااشتعال اور اندھا دھند فائرنگ کی گئی۔

انڈین فوج کی فائرنگ کا نشانہ بننے والی بس کے ڈرائیور راجہ گلفام نے بی بی سی کی نامہ نگار تابندہ کوکب کو بتایا کہ انڈین فوج کا گولا بس کی چھت پر لگا اور چار مسافر وہیں ہلاک ہو گئے۔

گلفام نے مزید کہا کہ اس علاقے میں کوئی فائرنگ نہیں ہو رہی تھی اور جیسے ہی وہ اس جگہ پر پہنچے پہلے ایک گولی بس پر آ کر لگی اور پھر دوسری طرف سے ایک گولا داغا گیا۔

انھوں نے کہا کہ انھوں نے بس روکی نہیں اور اس کو بھگا کر آ گے لے آئے۔

گلفام کا کہنا تھا کہ جس جگہ ان کی بس کو نشانہ بنایا گیا وہاں سے دریا کے پار انڈین فوج کی پوسٹ صاف طور پر دیکھی جا سکتی تھی۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
ہلاک ہونے والے ایک شخص کے بھائی کا انٹرویو

اس سے قبل آئی ایس پی آر نے اطلاع دی تھی کہ انڈین فوج نے کشمیر میں کئی علاقوں میں فائرنگ اور شیلنگ کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور اس دوران شہری آبادی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

ان علاقوں میں شاہ کوٹ، جورا، بٹل، کریلا، باغ اور گرم چشمہ سیکٹر شامل ہیں۔

آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستانی فوج نے جوابی کارروائی کر کے انڈیا کی کئی فوجی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز انڈین فوج نے کہا تھا کہ کشمیر میں اس کے تین فوجیوں کی ہلاکت کا 'زوردار طریقے' سے بدلہ لیا جائے گا۔

فوج کے ترجمان کرنل راجیش کالیا نے کہا تھا کہ ماچھل سیکٹر میں فوجیوں پر ہونے والے حملے میں تین انڈین فوجی ہلاک ہوئے تھے جن میں سے ایک فوجی کی لاش کی بےحرمتی بھی کی گئی تھی۔

لیکن کرنل کالیا نے یہ واضح نہیں کیا کہ حملہ پاکستانی فوجیوں نے کیا یا پھر انڈیا ہی میں فعال شدت پسندوں نے کیا تھا۔

اوڑی پر حملے کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان لائن آف کنٹرول پر کشیدگی میں بےحد اضافہ ہو گیا ہے اور اس دوران متعدد افراد مارے جا چکے ہیں۔

اس سے قبل 28 اکتوبر کو پاکستان نے انڈیا سے ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول پر فائرنگ سے مزید چھ شہریوں کی ہلاکت پر شدید احتجاج کرتے ہوئے فائربندی کے معاہدے کے احترام کا مطالبہ کیا تھا۔

دونوں ملک ایک دوسرے پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات لگاتے رہتے ہیں۔

فائرنگ کے مسلسل واقعات کے بعد لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری کے اردگرد دیہات میں رہنے والے افراد میں خوف پایا جاتا ہے اور وہ خطرے کے پیشِ نظر عارضی طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہو رہے ہیں۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
کشمیر کے متنازع علاقے میں لائن آف کنرول

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں